سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-309 Fatwa no: 1447-309

امیر معاویہ(رض) پرتنقید کرنےوالےکےساتھ تعلق کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علماء ِکرام و مفتیان ِعظام اس مسئلے کے متعلق کہ ایک شخص مسجد بنواتا ہے اور جب اس مسجد کے نام کے بارے میں بات ہوتی ہے کہ اس مسجد کا نام "امیر معاویہ"ہونا چاہیے کیونکہ علاقے میں اس نام کی کوئی مسجد نہیں وہ شخص یہ بات سن کر کہتا ہے کہ مجھے "امیر معاویہ"نام پہ ڈاؤٹ(اشکال)ہے اور یزید کی وجہ سے حضرت امیر معاویہ رضہ اللہ عنہ کی شخصیت پر تنقید ہوتی ہےاب ایسےشخص کے متعلق کیا حکم ہے؟آیا ایسے شخص کے ساتھ میل جول رکھنا چاہئے؟
جواب :

سب سے پہلے  تو یہ بات واضح ہونی چاہئے کہ صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم اجمعین برگزیدہ لوگوں کی وہ جماعت ہے،جس کی پاکیزگی،طہارت اورعادل ہونے کی گواہی خود قرآن مجید اورآپﷺ نے دی ہے۔چنانچہ ارشادباری تعالی ہے:
وَاعْلَمُوْا اَنَّ فِیْکُمْ رَسُولُ اللّه لَو یُطِیعُکم فِی کَثیرٍ مِنَ الْاَمْرِ لَعَنِتُّمْ وَلٰکِنَّ اللّه حَبَّبَ اِلَیْکُم الاِیْمَانَ وَزَیَّنَه فِی قُلُوْبِکُمْ وکَرَّه اِلَیْکُمُ الْکُفْرَ وَالْفُسُوْقَ وَالعِصْیَانَ اُوْلٰئِکَ هم الرَّاشِدُوْنَ (سورة الحجرات:۷)
ترجمہ: اور جان رکھو کہ تم میں رسول اللہ    ہیں اگر بہت سے کاموں میں تمہاری بات مان لیا کریں تو تم پر مشکل پڑے لیکن اللہ تعالیٰ نے تم کو ایمان کی محبت دی اوراس کی (تحصیل) کو تمہارے دلوں میں مرغوب کردیا اور کفر وفسق اور عصیان سے تم کو نفرت دیدی ایسے ہی لوگ اللہ کے فضل اور انعام سے راہ راست پر ہیں
لَا تَجِدُ قَوْمًا يُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ يُوَادُّونَ مَنْ حَادَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَلَوْ كَانُوا آبَاءَهُمْ أَوْ أَبْنَاءَهُمْ أَوْ إِخْوَانَهُمْ أَوْ عَشِيرَتَهُمْ أُولَئِكَ كَتَبَ فِي قُلُوبِهِمُ الْإِيمَانَ وَأَيَّدَهُمْ بِرُوحٍ مِنْهُ وَيُدْخِلُهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ خَالِدِينَ فِيهَا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ وَرَضُوا عَنْهُ أُولَئِكَ حِزْبُ اللَّهِ أَلَا إِنَّ حِزْبَ اللَّهِ هُمُ الْمُفْلِحُونَ (22)
تو نہ پائے گا کسی قوم کو جو یقین رکھتے ہوں اللہ پر اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ایسوں سے جو مخالف ہوئے اللہ کے اور اس کے رسول کے خواہ وہ اپنے باپ ہوں یا اپنے بیٹے بھائی یا اپنے گھرانے کے ان کے دلوں میں اللہ نے لکھ دیا ہے ایمان اور ان کی مدد کی ہے اپنے غیب کے فیض سے اور داخل کرے گا ان کو باغوں میں جن کے نیچے بہتی ہیں نہریں ہمیشہ رہیں ان میں اللہ ان سے راضی اور وہ اس سے راضی وہ لوگ ہیں گروہ اللہ کا سنتا ہے جو گروہ ہے اللہ کا وہی مراد کو پہنچے۔
مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا سِيمَاهُمْ فِي وُجُوهِهِمْ مِنْ أَثَرِ السُّجُودِ(الفتح)
ترجمہ: محمد اللہ کے رسول ہیں اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کافروں کے مقابلہ میں تیز ہیں اور آپس میں مہربان ہیں اے مخاطب تو ان کو دیکھے گا کہ کبھی رکوع کررہے ہیں کبھی سجدہ کررہے ہیں اور اللہ کے فضل اور رضامندی کی جستجو میں لگے ہوئے ہیں ان کی (عبدیت) کے آثار سجدوں کی تاثیر سے ان کے چہروں پر نمایاں ہیں۔
صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے بارے میں آپ ﷺ کا ارشادگرامی ہے:
في سنن أبى داود :
 « لا تسبوا أصحابى فوالذى نفسى بيده لو أنفق أحدكم مثل أحد ذهبا ما بلغ مد أحدهم ولا نصيفه ». (4/ 346دارالكتاب العربي)
آپﷺ نے فرمایا میرے صحابہ رضی اللہ عنہم کو گالی مت دو،اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے،اگر تم میں سے کوئی  احد پہاڑ کےبرابر سونا صدقہ کرے،وہ صحابی  کے ایک مد(تولنے کا ایک چھوٹا سے پیمانہ ہے) یا آدھے مد تک  نہ پہنچ سکے گا۔
في سنن الترمذي :
 قال رسول الله صلى الله عليه و سلم الله الله في أصحابي الله الله في أصحابي لا تتخذوهم غرضا بعدي فمن أحبهم فبحي أحبهم ومن أبغضهم فببغضي أبغضهم ومن آذاهم فقد آذاني ومن آذاني فقد آذى الله ومن آذى الله فيوشك أن يأخذه(5/ 696:داراحیاء التراث العربی)
"اللہ اللہ میرے صحابہ کے بارے میں، اللہ اللہ میرے صحابہ کے بارے میں۔ میرے بعد انہیں ہدف نہ بنانا۔ جو انہیں پسند کرے گا وہ میری پسند کی وجہ سے انہیں پسند کرے گا، اور جو ان سے دشمنی کرے گا وہ میری دشمنی کی وجہ سے ان سے دشمنی کرے گا۔ جو انہیں اذیت دے گا، اس نے مجھے اذیت دی، اور جو مجھے اذیت دے گا، اس نے اللہ کو اذیت دی، اور جو اللہ کو اذیت دے گا، اللہ اس کو پکڑ لے گا۔
یہ آیات مبارکہ اوراحادیث مبارکہ تو تمام صحابہ کرام کے بارے میں ہیں ،اور اس جیسے سینکڑوں آیات اوراحادیث مبارکہ صحابہ کرام رضوان اللہ اجمعین کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔اس سے اندازہ ہوتاہے،کہ کسی صحابی کے بارے میں تنقید تو دور کی بات منفی سوچ رکھنا بھی کس قدرخطرناک اورنقصان دہ بات ہے۔اس لئے صحابہ کرام  کے بارے میں دل ودماغ صاف رکھنا درحقیقت ایمان کا حصہ ہے۔
فضیلت امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ:
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ  کی فضیلت کےلئے یہ بات کافی ہے،کہ آپ رسول اللہ ﷺ کے جلیل القدر صحابی ہونے کے ساتھ ساتھ کاتبِ وحی ہیں،اور یہ بات مسلم ہے کہ صحابہ کے بعد سارے تابعین،محدثین،فقہاء ،اولیاء اورمفسرین جمع ہوجائے،کسی بھی صحابی کے مرتبے تک نہیں پہنچ سکتے۔اس لئے  امیرمعاویہ رضی اللہ سے بعض  رکھنا یا ان پر تنقید کرنا اپنے ساتھ ظلم کرنا ہے،لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔
حضرت معاویہ  رضی اللہ عنہ کےبارے میں آپ ﷺ کا ارشاد گرامی ہے:
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي عَمِيرَةَ الْأَزْدِيِّ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ ذَكَرَ مُعَاوِيَةَ، وَقَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ هَادِيًا مَهْدِيًّا، وَاهْدِ بِهِ "
 ترجمہ:اے اﷲ !معاویہ کو (لوگوں کے لیے) ہادی بنا، ہدایت یافتہ فرما اور ان کے ذریعے دوسروں کو ہدایت عطا فرماء۔
جس شخصیت کےلئے آپ ﷺ نے ایسی جامع دعا مانگی ہو،اس کے بارے میں شک وشبہ میں رہنا بہت خطرناک بات ہے،اس لئے ایسے آدمی کو توبہ اوراستغفار کرنا چاہئے۔
اس تمہید کے بعداصل سوال کا جواب ملاحظہ ہو۔
بصورت مسئولہ شخصِ مذکور نے کیا تنقید کی ہے،وہ واضح نہیں ،البتہ  مسجد کے نام  کےلئےاس کو امیرمعاویہ رضی اللہ عنہ کے نام پر اشکال ہونا قابلِ مذمت ہے(اس پر وعیدیں اوپرمذکور ہوئیں ہیں)کیونکہ اہل سنت والجماعت کے نزدیک حضرت معایہ رضی اللہ عنہ کو صرف اس لئے تنقید کا نشانہ بنانا کہ انہوں نے یزید کو اپنا خلیفہ بنایا تھا جائز نہیں ،کیونکہ یزید کابدسیرت ہونا آپ رضی اللہ عنہ کے سامنے واضح نہیں تھا۔
باقی  جہاں تک شخصِ مذکور کےساتھ بائیکاٹ کا حکم ہے،تو ہمارا مشورہ یہ ہے کہ  اس کے ساتھ بائیکاٹ کے بجائےاس کی  غلطی فہمی دور کرنےکی کوشش کی جائے،جب تک وہ برملا حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کو تنقید کا نشانہ نہیں  بناتے ،تو اس کے ساتھ یہی رویہ اپنایا جائے تاہم اگر  وہ برملا اس کا اظہار شروع کرے،یا دوسروں کو دعوت دینی شروع کردےتوپھر اس کے ساتھ بائیکاٹ کرنے میں مضائقہ نہیں۔
وفي تطهير الجنان لابن الحجر:
وزین له من يزيد حسن العمل وعدم الانحراف و الخلل كل ذلك لما أشار إليه الصادق المصدوق صلی الله تعالى عليه وسلم من أنه إذا أراد الله إنفاذ أمره سلب ذوي العقول عقولهم حتى ينفذ ما أراده تعالی فمعاویة معذور فيما وقع منه ليزيد لأنه لم يثبت عنه نقص فيه بل كان يزيد يدس على أبيه من يحسن له حاله حتى اعتقد أنه اولی من أبناء بقية أولاد الصحابة كلهم فقدمه عليهم مصرحا بتلك الأولوية (وفيه أيضا) ولو ثبت عنده أدنى ذرة مما يقتضی فسقه بل إثمه لم يقع منه ما وقع (هامش الصواعق المحرقة مصري ص ٥٣)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026