نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںالسلام علیکم ورحمت اللہ وبرکاتہ !
ایک بہن کے مسئلے میں آپکی اور مرکز کے مفتیانِ کرام کی رہنمائی چاہیے مسئلہ عورتوں کے ایام کے متعلق ہے عاجزہ گذشتہ چند ماہ کا پورا ٹائم سرکل شئیر کر رہی ہے تاکہ مسئلہ حل کرنے میں آسانی ہوجاے 6جولائی 2023 کو حیض آیا 12جولائی کو ختم ہوا ۔حیض کے دن سات رہے اور عادت بھی سات دن ہی ہے •اگست2023کو حیض نہیں آیا۔ •ستمبر2023کوحیض نہیں آیا۔مگر آخری 30تاریخ کو حیض آیا۔جو کہ دسمبر6کوختم ہوا۔حیض کے دن سات ہی رہے۔• پھر 15جنوری 2024/کو حیض آیا21کوختم ہوا۔حیض کے ایام سات رہے۔• پھر فروری 17’18اور19تاریخ کے آدھے دن تک ہلکی ہلکی بلیڈنگ ہوئی ۔جسمیں عاجزہ یہ سمجھی کہ یہ دم حیض ہے مگر چونکہ تین دن اور تین رات سے کم تھا تو غسل کرکے نماز شروع کردی 13نمازیں قضاء ہوئیں جن کو بعد میں لوٹایا۔فروری28تک پاکی رہی فجر کی نماز ادا کی تقریباً دس بجے دم جاری ہوا پورا دن رہا۔لیکن استحاضہ سمجھ کر نمازیں ادا کیں لیکن جب مسئلہ پوچھا توکسی باجی نے گذشتہ ماہ کا حساب لگا کر دیا تو فرمایا کہ یہ دن حیض کے چل رہے ہیں نماز اب نہ پڑھو ان کے کہنے پر چار نمازیں 29تاریخ کی قضاء کیں لیکن پاکی تھی تو باقی دنوں کی نمازیں روزانہ ادا کرتی رہی ہوں ایک دن ہی بلیڈنگ ہوئی ۔اور جو ذمے قضاء نمازیں تھیں وہ بھی لوٹا دیں ۔اب کل 7تاریخ بروز جمعرات کو پھر سے دم جاری ہوا استحاضہ سمجھ کر تین نمازیں ادا کیں لیکن جب بلیڈنگ زیادہ اور تکلیف بڑھ گئی تو عشاء کی نماز قضا کر دی آج بروز جمعہ 8تاریخ ہے دم جاری ہے عاجزہ کا خود غالب گمان بھی یہی ہے کہ ابھی یہ دن حیض اور میری حیض والی عادت اور حالت کے مطابق ہیں • لیکن چونکہ دل میں اب شک پڑھ چکا ہے تو مسئلہ یہ معلوم کرنا ہے کیا اب جاری دم،دم حیض ہوگا یا استحاضہ کیونکہ آگے رمضان ہے نماز روزے اور تلاوت کا مسئلہ ہے بہت پرشان ہوں اس سلسلے میں عاجزہ کی رہنمائی فرمادیجیے۔دوسرا یہ بھی بتاتی چلوں کہ چھ سات ماہ قبل ڈاکٹر نے خون پانی کی رسولیاں بتائی تھیں اوریہ بھی کہاتھا کہ یہ خود سے پھٹ جاتی ہیں جن سے خون آ سکتا ہے تو وہ بھی ٹھوڑا مسئلہ ہوسکتا اس معاملے میں رہنمائی فرمادیجے جزاکم اللہ خیرا کثیراً فی الدارین والسلام مع الکرام
وعليكم السلام ورحمۃ الله وبركاتہ!
واضح رہے کہ عورت کےحیض کے ایام کم سے کم تین دن تین راتیں ہیں،اور زیادہ سے زیادہ دس دن اوردس راتیں ہیں،اگر کسی عورت کی عادت معلوم ہو،اوروہ اپنی عادت کے مطابق پاک ہوجائے،لیکن دس دن گزرنے سے پہلے دوبارہ خون آجائے،تو پھر اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر خون دسویں دن سے پہلے یا دسویں دن پر رک گیا،تو عورت کی عادت تبدیل ہوگئی ہے،اور اگردسویں دن کے بعد بھی جاری رہا تو پھر عورت کی اپنی سابقہ عادت برقرار ہے،اور یہ اضافی دنوں میں آنے والا خون استحاضہ ہے،لہذا اس میں چھوڑی گئی تمام نمازوں اور روزوں کا اعادہ ضروری ہوگا۔
بصورت مسئولہ آپ کو28 فروری کو آنے والاخون حیض کا خون ہے،پھر یہ چونکہ آپ کی سابقہ عادت جو کہ سات دن کی تھی،سے بڑھ کر نویں دن د وبارہ خون آیا ہے،اب اگر خون دسویں (10) دن کےبعد بھی جاری رہا ہو،تو پھر آپ کی اپنی سابقہ عادت برقرار ہے یعنی اٹھائیس ( 28 )تاریخ سے لے کرپانچ (5)تاریخ تک،اور ان دنوں میں جو نمازیں پڑھیں ہیں،چونکہ لاعلمی میں پڑھیں ہیں ،اس لیے اس پر ان شاء اللہ اجر ملے گا۔تاہم اس صورت میں جمعرات(جو نواں دن ہے خون آنے کےبعد) اورجمعہ(جو دسواں دن ہے خون آنے کے بعد) کی چھوڑی ہوئیں نمازوں کی قضاء ضروری ہے،کیونکہ یہ استحاضہ کا خون تھا،نہ کہ حیض کا۔اور اگر خون دسویں دن بند ہوا ہے،تو پھر آپ کی عادت تبدیل ہوگئی ہے ،لہذا ان پورےدس دن یعنی اٹھائیس(28)سے لےکرآٹھ(8) تاریخ تک جو نمازیں ادا کی گئی ہیں،چونکہ لا علمی میں ادا کی گئی ہیں،اس لئے ان پر ان شاء اللہ اجر ملے گا۔
نوٹ:-آپ کی آسانی کےلئے ایک ضابطہ لکھا جاتا ہے آپ اس میں غور کرکےخود معلوم کرسکتی ہیں،کہ اب میرا حیض کا زمانہ ہے یا طہر کا۔وہ یہ کہ جب خون رک جانے کے بعد طہرکےمکمل پندرہ(15) دن گزر جائیں،اور اس کے بعد خون آنا شروع ہوجائے،توآپ اس کو حیض کا خون ہی شمار کیا کریں،پھر اگرخون آپ کی عادت سے پہلے بند ہوجائے،تو جس دن بند ہوجائے،اس وقت کی نماز کو آخری وقت تک موخرکریں،اگر آخری وقت میں بھی خون نہیں آیا تو غسل کرکے احتیاطا نماز پڑھ لیا کریں ،اور اگر رمضان ہے،تو روزے رکھنا بھی شروع کریں۔پھر اگر اپنی سابقہ عادت پر خون آیا تو یہ سارےدن حیض کے ہوں گے،اس لئے اگر ان دنوں میں روزہ رکھا ہے،تو اس کی قضا ضروری ہوگی۔اور اگر عادت تک خون نہیں آیا ،لیکن دسویں دن سے پہلے دوبارہ خون آنا شروع ہوا۔تو پھر وہی تفصیل ہے جو جواب میں گزرا ہے ،کہ اس صورت میں آپ کی سابقہ عادت برقرار ہے،لہذا عادت کے بعد جو نمازیں یا روزے چھوڑ دی ہونگی ،انکی قضاء لازم ہوگی،اور اگر دس دن سے پہلے خون رکا،تو پھر عادت تبدیل ہوگئی ہے،لہذا ان دنوں میں چھوڑی گئی نمازوں کی قضاء نہیں البتہ اگر رمضان کے روزے چھوڑے ہیں،تو ان کی قضاء ضروری ہوگی۔
في سنن الدارقطني:حدثنا سعيد بن محمد حدثنا أبو هشام حدثني عبد العزيز بن أبي عثمان الرازي عن سفيان : قال أقل الحيض ثلاث وأكثره عشر(كتاب الحيض: 1/ 210:دارالمعرفة)
في الدر المختار: ( ويحل وطؤها إذا انقطع حيضها لأكثره ) بلا غسل وجوبا بل ندبا ( وإن ) انقطع لدون أقله تتوضأ وتصلي في آخر الوقت وإن ( لأقله ) فإن لدون عادتها لم يحل وتغتسل وتصلي وتصوم احتياطا وإن لعادتها فإن كتابية حل في الحال وإلا ( لا ) يحل ( حتى تغتسل ) أو تتيمم بشرطه. ( أو يمضي عليها زمن يسع الغسل ) ولبس الثياب ( والتحريمة ) يعني من آخر وقت الصلاة لتعليلهم بوجوبها في ذمته(باب الحيض: 1/ 294:ط:دارالفكر)
في الفتاوى الهندية:الطهر المتخلل بين الدمين والدماء في مدة الحيض يكون حيضار ولو خرج أحد الدمين عن مدة الحيض بأن رأت يوما دما وتسعة طهرا ويوما دما مثلا لا يكون حيضا لأن الدم الأخير لم يوجد في مدة الحيض(الفصل الأول في الحيض: 1/ 36:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔