سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-311 Fatwa no: 1447-311

ضرورت سے زائد زمین والا کیا زکوۃ وصول کرسکتا ہے؟

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں  کہ ایک شخص ہے،جو کہ فی الحال غریب ہے اورروزمرہ کی ضروریات کےلئے مزدوری وغیرہ کرکے مشکل سے گھر بارکا خرچہ چلاتاہے،لیکن اگر دوسری طرف دیکھا جائے توشخص مذکور کےپاس کچھ زمین ہے،جو اپنے والد سے میراث میں شخص مذکور کو ملی ہے،اور مذکورہ زمین بالکل خالی پڑی ہے،یعنی غیرآباد بھی ہے،اور کوئی کھیتی باڑی  یا کوئی  کرایہ ،یا آمدنی  میں بھی یہ زمین استعمال نہیں ہورہی،خلاصہ کلام یہ کہ زمین بالکل فارغ ہے،اورفی الحال شخصِ مذکور اس زمین کو زیرِ ضرورت بھی نہیں لا رہا،کیونکہ شخصِ مذکور کے پاس اپنا گھر رہائش کےلئے موجود ہے،اور مذکورہ زمین کی مالیت کا اگر اندازہ لگایا جائے تو نصابِ زکوۃ سے زائد مالیت کی ہے،اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا ایسے شخص کو زکوۃ دینا  جائز ہے یانہیں؟راہنمائی فرمائیں۔

جواب :

بصورتِ مسئولہ اگر شخص ِ مذکور واقعتاً غریب ہے،اور بمشکل اس کا خرچہ چل رہا ہے،تو اس صورت میں اس کو بقدرِ ضرورت  زکوۃ دینا اور اس کا لینا جائز ہے،ضرورت سےزائد نہیں ۔اگرچہ اس صورت میں بھی زکوۃ نہ لینا  بہتر ہے،بلکہ اگر اس کو آسانی سے قرض مل سکتا ہو،اور پھراس کو  اس کے لوٹانے کا یقین بھی ہو،تو اس صورت میں بہتر یہ ہے کہ قرض لے کر ضرورت پوری  کرے،کیونکہ زکوٰۃ غرباء اور مساکین کا حق ہے،تاکہ ان کو ان کا حق مل سکے۔
في الفتاوى الهندية :لو كان له حوانيت أو دار غلة تساوي ثلاثة آلاف درهم وغلتها لا تكفي لقوته وقوت عياله يجوز صرف الزكاة إليه في قول محمد رحمه الله تعالى ولو كان له ضيعة تساوي ثلاثة آلاف ولا تخرج ما يكفي له ولعياله اختلفوا فيه قال محمد بن مقاتل يجوز له أخذ الزكاة(الفصل السابع في المصارف: 1/ 189:دارالفكر)
في البحر الرائق :ويحل لمن له دور وحوانيت تساوي نصبا وهو محتاج لغلتها لنفقته ونفقه عياله على خلاف فيه(باب المصرف: 2/ 263:دارالمعرفة)
في الفتاوى الهندية :
ومنها ابن السبيل وهو الغريب المنقطع عن ماله كذا في البدائع جاز الأخذ من الزكاة قدر حاجته ولم يحل له أن يأخذ أكثر من حاجته وألحق به كل من هو غائب عن ماله وإن كان في بلده لأن الحاجة هي المعتبرة ثم لا يلزمه أن يتصدق بما فضل في يده عند قدرته على ماله كالفقير إذا استغنى كذا في التبيين والاستقراض لابن السبيل خير من قبول الصدقة(الباب السابع في المصارف: 1/ 188:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026