سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-312 Fatwa no: 1447-312

طواف زیارت رہ جانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں  مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں  کہ ایک شخص نے سولہ(16)  سال پہلے حج کیا ،لیکن اس کا  طوافِ زیارت رہ  گیا،نہ اس کو خود اس طواف کے بارے میں زیادہ معلومات تھیں،اورنہ ہی امیر نے بتایا،بعد میں ایک رشتہ دار نے بتایا کہ دم دے دو،لہذا اس کے کہنے پر دم دےدیا،لیکن چھوٹے جانور کا،بعد میں طواف وداع بھی کیا تھا،2023ء کے حج سے پہلے اس کی بیوی کو کسی نے بتایا کہ یہ  طواف بہت ضروری ہے، اگر یہ رہ جائے،تو میاں بیوی ایک دوسرے پر حرام ہوجاتے ہیں،بیوی نے یہ بات شوہر سے کی،تب شوہر نے بتایا کہ میرا طواف زیارت بھی رہ گیا تھا، لیکن عبدالرحمٰن  نے کہا تھا کہ دم سے ادا ہوجائےگا،لہذا وہ دونوں پھر مطمئن ہوگئے،لیکن اب انہوں نے نیٹ پر کچھ ویڈیوز دیکھی ہیں،جن میں علماء بتاتے ہیں کہ طواف زیارت دوبارہ کرنا ہوگااور دم بھی بڑا دینا ہوگا،شیخ مکی نے کسی کے سوال کے جواب میں کہا ہے کہ اس کے بعد کوئی طواف تو کیا ہوگا،طوافِ وداع تو کیا ہی ہوگا،بس دم بڑا دینا ہوگا،اب وہ میاں بیوی بڑے پریشان ہیں،اور ایک دوسرے سے الگ رہ رہے ہیں اور اس شخص کا عمرے پر جانے کا ارادہ ہے،ساتھ طواف زیارت کا بھی،اگر آپ کے خیال میں اس کے ذمہ  طواف زیارت باقی ہے،تو اس کے بارے میں کچھ سوالات کرنے ہیں:
1-حج ،عمرے کےلئے تو مکہ سے باہر ایک مخصوص فاصلے پرنیت کرنی ہوتی ہے،تو کیا طوافِ زیارت کا بھی یہی حکم ہے؟یاعمرے کرنے کے بعد حرم ہی سے نیت کرسکتے ہیں۔
2۔عمرے کا احرام کھولنے کےبعد طواف زیارت کےلئے بھی احرام باندھنا ہوگا،یا عام کپڑوں میں بھی طواف زیارت کرسکتے  ہیں۔
3-کچھ علماء کہتے ہیں کہ دم کا گوشت نہ خود کھاناہے،اور نہ امیروں کو دینا ہے،بلکہ غریب اورمساکین کو دینا ہے،لیکن وہ شخص دوبارہ تین دن کےلئے مکہ جائےگا، اور وہاں کسی کو جانتا بھی نہیں،تو غریب اور مساکین کہاں سے ڈھونڈےگا؟
4-طوافِ زیارت کرنے کے بعد کیا وہ دونوں  دوبارہ نکاح پڑھوائیں گے یا سابقہ نکاح درست ہے؟
5-بیوی تو اس سب سے آخر تک لاعلم تھی،اب پتہ چلا،تو دونوں الگ ہیں،شوہر بھی  دم دےکر سمجھا تھا کہ اس کا فرض ادا ہوگیا ہے،بیوی بہت پریشان ہے کہ کیا وہ بھی اس گناہ جو لاعلمی میں ہوا،شامل ہے؟ وضاحت فرمائیں۔

جواب :

واضح رہے کہ اگرکسی آدمی کا طوافِ زیارت رہ جائے،اور اس کے بعد وہ طوافِ وداع یا کوئی اور نفلی طواف بھی نہ کرے،تو وہ اس وقت  تک  محر م رہے گا(یعنی بیوی کےساتھ مباشرت جائز نہ ہوگی) جب تک کہ طوافِ زیارت کا اعادہ نہ کرے،اورطواف میں تاخیر کی وجہ سے اس پر ایک دم بھی لازم ہوگا۔البتہ اگر وہ ایامِ نحر ہی میں  طوافِ وداع یااورکوئی نفلی طواف ادا کرے،تو یہ طوافِ زیارت کا بدل بن جائےگا،اورطواف ِ وداع کے چھوٹ جانے کی وجہ سے ایک دم لازم آئے گا،لیکن  اگروہ  ایام ِ نحر کے بعد طواف ادا کرے،تو اس صورت میں بھی طوافِ وداع،طوافِ زیارت کا بدل بن جائےگا،لیکن اس صورت میں دو دم لازم آئینگے،ایک توطواف زیارت میں تاخیر کی وجہ سےجبکہ دوسرا  طوافِ وداع چھوڑنے کی وجہ سے،البتہ چونکہ طوافِ وداع کسی وقت کے ساتھ خاص نہیں ،اس لئے اگر بعد میں بھی کبھی اس کو ادا کیا،تو دوسرا دم ساقط ہوجائےگا۔
بصورتِ مسئولہ چونکہ شخص ِ مذکورنے طوافِ وداع ادا کیا تھا،اس لئے وہ طوافِ زیارت کا بدل بن گیا تھا،اس لئے اس کےلئے بیوی  حلال ہوگئی تھی،لہذا اس میں کوئی پریشانی کی بات نہیں ،پھر اگر اس نے طوافِ وداع ایامِ نحر ہی میں ادا کیا تھا،تو چونکہ وہ طوافِ زیارت کا بدل بن گیا تھا،اس لئےاس  پرطوافِ وداع چھوڑنے کی وجہ سے ایک دم  لازم ہوگا،لیکن اگر شخص ِ مذکورہ عمرے کے سفر میں طواف ِ وداع کا اعادہ کرےگا،تو اس سے دم ساقط ہوجائےگا،کیونکہ طوافِ وداع کےلئے کوئی خاص وقت مقرر نہیں۔لیکن اگر اس نےطوافِ وداع  ایامِ نحر کے بعد  ادا کیا ہو،تو اس صورت میں دو دم لازم ہونگے،ایک  طوافِ زیارت کو ایامِ نحرسے موخرکرنے کی وجہ سے ،اور دوسرا طوافِ وداع چھوڑنے کی وجہ سے ،لیکن اس صورت میں بھی اگر وہ طواف وداع عمرے کے سفر میں ادا کرےگا،تو یہ دوسرا دم ساقط ہوجائےگا۔مذکورہ بالا تمام مسائل میں دم سے مراد چھوٹا دم ہے،نہ کہ بڑا۔
نوٹ:چونکہ مذکورہ بالا عبارت میں   آپ کا اصل سوال حل  ہوگیا،اس لئے  باقی ماندہ سوالات کے جوابات کی ضرورت نہیں ۔
في الفتاوى الهندية :وإن ترك كلا الطوافين فهو حرام على النساء أبدا وعليه أن يرجع ويطوف طواف الزيارة وطواف الصدر وعليه دم لتأخير طواف الزيارة في قول أبي حنيفة رحمه الله تعالى ولا شيء عليه لتأخير طواف الصدر لأنه غير مؤقت وإذا ترك طواف الزيارة خاصة وطاف طواف الصدر فطواف الصدر يكون للزيارة وعليه لتركه طواف الصدر دم(الفصل في الطواف والسعي: 1/ 246:دارالفكر)
وفي الهداية:لولم يطف طواف الزيارة أصلا حتى رجع إلى أهله فعليه أن يعود بذلك الإحرام ،لإنعدام التحلل منه وهومحرم عن النساء أبدا حتى يطوف.(كتاب الجنايات:1/295:ط:مكتبة الحسن)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026