نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ چونکہ سٹور میں لگا ہوا سرمایہ یعنی سارا مال اور پیسہ والد صاحب کا ہے ، اسلئے بڑے بیٹے کی حیثیت ایک معاون ومددگار کی ہوگی ، لہذا وہ صرف کاروبار کی ترقی کی وجہ سے مالک شمار نہ ہوگا بلکہ مالک والد صاحب ہی ہیں وہ اپنے مال کے مالک ومختار ہیں ، زندگی میں جس کو دینا چاہیں دے سکتے ہیں اور جس طرح تقسیم کرنا چاہیں کر سکتے ہیں ، اسلئے بڑے بیٹے کا دعوی درست نہیں ۔ تاہم بہتر یہ ہے کہ سب اولاد میں برابر برابر تقسیم کریں یا میراث کے اصول کے مطابق کہ بیٹے کو بیٹی سے دوگنا دے دیں۔
كما في ردالمحتار على الدرالمختار:
فِي الْقُنْيَةِ الْأَبُ وَابْنُهُ يَكْتَسِبَانِ فِي صَنْعَةٍ وَاحِدَةٍ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمَا شَيْءٌ فَالْكَسْبُ كُلُّهُ لِلْأَبِ إنْ كَانَ الِابْنُ فِي عِيَالِهِ لِكَوْنِهِ مُعِينًا لَهُ أَلَا تَرَى لَوْ غَرَسَ شَجَرَةً تَكُونُ لِلْأَبِ ثُمَّ ذَكَرَ خِلَافًا فِي الْمَرْأَةِ مَعَ زَوْجِهَا إذَا اجْتَمَعَ بِعَمَلِهِمَا أَمْوَالٌ كَثِيرَةٌ، فَقِيلَ هِيَ لِلزَّوْجِ وَتَكُونُ الْمَرْأَةُ مُعِينَةً لَهُ،
(فصل في الشركة الفاسدة،ج6،ص497،ط:جلالي كتب خانه)
وفي الفتاوى الخيرية :
(سئل) فیه اخوة خمسة سعيهم وكسبهم واحد وعائلتهم واحدةحصلوا بسعيهم وكسبهم أموالافهل تكون الاموال المذكورة مشتركة بينهم أخماسا ( الجواب ) ما حصله الاخوة الخمسةبسعيهم وكسبهم يكون بينهم أخماسا ( أقول ) هذا في غير الأب مع إبنه والزوج مع زوجته لما نقله المؤلف في غير هذا المحل عن دعوي البزازية ونصه ذكر شيخ الإسلام جلال الدين في أب وإبن اكتسبا ولم يكن لهما مال من الكسب أموال الكل للأب لأن الإبن إذا كان في عياله فهو معين له ألا تري أنه لو غرس شجرة فهي للأب وكذا الحكم في الزوجين.
(كتاب الشركة،ج1،ص95،ط:مكتبة رشيدية)
Mufti
تاریخ جواب: 10 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 11 May 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔