سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-27 Fatwa no: 1447-27

اولاد میں کاروبار کی تقسیم اور معاون بڑے بیٹے کے دعوے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: ایک شخص کے چھ بیٹے ہیں ، اس شخص کا ایک سٹور تھا جو اپنے پیسوں سے شروع کیا تاہم بڑے بیٹے کی محنت سے ترقی ہوگئی لیکن مال اور پیسہ سارا والدصاحب کا تھا،اب والداس سٹور کو بیٹوں کے درمیان تقسیم کرنا چاہتا ہےلیکن بڑا بیٹا کہتا ہے کہ یہ میرا حق ہے جبکہ والد کہتا ہے کہ سب بیٹوں میں برابر تقسیم ہوگا ، شرعی حکم سے آگاہ کریں ۔
جواب :

بصورت مسئولہ چونکہ سٹور میں لگا ہوا سرمایہ یعنی سارا مال اور پیسہ والد صاحب کا ہے ، اسلئے بڑے بیٹے کی حیثیت ایک معاون ومددگار کی ہوگی ، لہذا وہ صرف کاروبار کی ترقی کی وجہ سے مالک شمار نہ ہوگا بلکہ مالک والد صاحب ہی ہیں وہ اپنے  مال کے مالک ومختار ہیں ، زندگی میں جس کو دینا چاہیں دے سکتے ہیں اور جس طرح تقسیم کرنا چاہیں  کر سکتے ہیں ، اسلئے بڑے بیٹے کا دعوی درست نہیں ۔ تاہم بہتر یہ ہے کہ سب اولاد میں برابر برابر تقسیم کریں یا میراث کے اصول کے مطابق کہ بیٹے کو بیٹی سے دوگنا دے دیں۔
كما في ردالمحتار على الدرالمختار:
فِي الْقُنْيَةِ الْأَبُ وَابْنُهُ يَكْتَسِبَانِ فِي صَنْعَةٍ وَاحِدَةٍ وَلَمْ يَكُنْ لَهُمَا شَيْءٌ فَالْكَسْبُ كُلُّهُ لِلْأَبِ إنْ كَانَ الِابْنُ فِي عِيَالِهِ لِكَوْنِهِ مُعِينًا لَهُ أَلَا تَرَى لَوْ غَرَسَ شَجَرَةً تَكُونُ لِلْأَبِ ثُمَّ ذَكَرَ خِلَافًا فِي الْمَرْأَةِ مَعَ زَوْجِهَا إذَا اجْتَمَعَ بِعَمَلِهِمَا أَمْوَالٌ كَثِيرَةٌ، فَقِيلَ هِيَ لِلزَّوْجِ وَتَكُونُ الْمَرْأَةُ مُعِينَةً لَهُ،  
(فصل في الشركة الفاسدة،ج6،ص497،ط:جلالي كتب خانه)
وفي الفتاوى الخيرية :
(سئل) فیه اخوة خمسة سعيهم وكسبهم واحد وعائلتهم واحدةحصلوا بسعيهم وكسبهم أموالافهل تكون الاموال المذكورة مشتركة بينهم أخماسا ( الجواب ) ما حصله الاخوة الخمسةبسعيهم وكسبهم يكون بينهم أخماسا ( أقول ) هذا في غير الأب مع إبنه والزوج مع زوجته لما نقله المؤلف في غير هذا المحل عن دعوي البزازية ونصه ذكر شيخ الإسلام جلال الدين في أب وإبن اكتسبا ولم يكن لهما مال من الكسب أموال الكل للأب لأن الإبن إذا كان في عياله فهو معين له ألا تري أنه لو غرس شجرة فهي للأب وكذا الحكم في الزوجين.
(كتاب الشركة،ج1،ص95،ط:مكتبة رشيدية)

Mufti

تاریخ جواب: 10 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 11 May 2026

واللہ اعلم بالصواب