نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ نماز جس کیفیت کے ساتھ قضاء ہوجائے،اسی کیفیت کےساتھ اس کا لوٹانا لازم ہوتاہے،تاہم معذور آدمی اس حکم سے مستثنی ہے۔
بصورتِ مسئولہ اگر شخصِ مذکور واقعۃً اس قدر کمزور ہے،کہ وہ وقتی فرض نماز کے بعد سنتیں بھی کھڑے ہوکر نہیں پڑھ سکتا،تو پھر اس کےلئے حکم یہ ہے،کہ وہ جس قدر کھڑا ہوکر نماز پڑھ سکتا ہے،اس قدر کھڑے ہوکر نماز ادا کرے،یہاں تک کہ اگر وہ صرف تکبیر تحریمہ کھڑے ہوکر کہہ سکتا ہے،تو کم از کم تکبیرِ تحریمہ کھڑے ہوکر کہے،پھر اگر کچھ قرات کھڑے ہوکر کرسکتا ہو،تو ٹھیک ہے،بصورتِ دیگر بیٹھ کر نماز پوری کرے۔
في سنن أبى داود :عن عمران بن حصين قال كان بى الناصور فسألت النبى -صلى الله عليه وسلم- فقال « صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى جنب(باب في صلوة القاعد: 1/ 360:ط:داراحياء التراث العربي)
وفي شرح أبي داود للعيني :قلت: اختلف أصحابنا في حد المرض الذي يُبيح الصلاة قاعدا؛ فقيل:أن يكون بحالٍ لو قام سقط من ضعف، أو دوران رأسٍ ، أو غير ذلك، وقيل: أن يصير صاحب فراشٍ؛ وأصح الأقاويل: أن يلحقه ضرر بالقيام، وإذا كان قادرا على بعض القيام دون تمامه كيف يصنع؟ قال الفقيه أبو جَعْفر: يؤمر بأن يقوم مقدار ما يقدر، فإذا عجز قعد، حتى إذا كان قادرا على أن يكبر قائما ولا يقدر على القيام للقراءة، أو قادرا على القيام ببعض القراءة دون تمامها، قالوا: يؤمر بأن يكبر قائما ويقرأ ما يقدر عليه قائما، ثم يقعد إذا عجز. وبه أخذ شمس الأئمة الحلواني.(باب في صلوة القاعد: 4/ 226: داراحياء التراث العربي)
في البحر الرائق :ومن حكمه أن الفائتة تقضى على الصفة التي فاتت عنه إلا لعذر وضرورة(باب قضاء الفائتة: 2/ 86:دارالمعرفة)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔