سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-313 Fatwa no: 1447-313

کیا قضاء نمازیں بیٹھ کرپڑھنا جائز ہے؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی بیمار ہے وہ کھڑا ہوکر وقتی فرض نمازتو پڑھ سکتا ہے،لیکن ضعف کی وجہ سے سنتیں بیٹھ کرپڑھتا ہے،لیکن اس کے ذمہ بہت ساری قضاء نمازیں ہیں،اب پوچھنا یہ کہ کیا اس کمزوری کی کیفیت میں شخصِ مذکور قضاء نمازیں بیٹھ کرپڑھ سکتا ہے یانہیں وضاحت فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ نماز جس کیفیت کے ساتھ قضاء ہوجائے،اسی کیفیت کےساتھ اس کا لوٹانا لازم ہوتاہے،تاہم معذور آدمی  اس حکم سے مستثنی ہے۔
بصورتِ مسئولہ اگر شخصِ مذکور واقعۃً اس قدر کمزور ہے،کہ وہ وقتی  فرض نماز کے بعد سنتیں بھی کھڑے ہوکر نہیں  پڑھ سکتا،تو  پھر اس کےلئے حکم یہ ہے،کہ وہ جس قدر کھڑا ہوکر نماز پڑھ سکتا ہے،اس قدر کھڑے ہوکر نماز ادا کرے،یہاں تک کہ اگر وہ صرف  تکبیر تحریمہ کھڑے ہوکر کہہ سکتا ہے،تو کم از کم تکبیرِ تحریمہ کھڑے ہوکر کہے،پھر اگر کچھ قرات کھڑے ہوکر کرسکتا ہو،تو ٹھیک ہے،بصورتِ دیگر بیٹھ کر نماز پوری کرے۔
في سنن أبى داود :عن عمران بن حصين قال كان بى الناصور فسألت النبى -صلى الله عليه وسلم- فقال « صل قائما فإن لم تستطع فقاعدا فإن لم تستطع فعلى جنب(باب في صلوة القاعد: 1/ 360:ط:داراحياء التراث العربي)
وفي شرح أبي داود للعيني :قلت: اختلف أصحابنا في حد المرض الذي يُبيح الصلاة قاعدا؛ فقيل:أن يكون بحالٍ لو قام سقط من ضعف، أو دوران رأسٍ ، أو غير ذلك، وقيل: أن يصير صاحب فراشٍ؛ وأصح الأقاويل: أن يلحقه ضرر بالقيام، وإذا كان قادرا على بعض القيام دون تمامه كيف يصنع؟ قال الفقيه أبو جَعْفر: يؤمر بأن يقوم مقدار ما يقدر، فإذا عجز قعد، حتى إذا كان قادرا على أن يكبر قائما ولا يقدر على القيام للقراءة، أو قادرا على القيام ببعض القراءة دون تمامها، قالوا: يؤمر بأن يكبر قائما ويقرأ ما يقدر عليه قائما، ثم يقعد إذا عجز. وبه أخذ شمس الأئمة الحلواني.(باب في صلوة القاعد: 4/ 226: داراحياء التراث العربي)
في البحر الرائق :ومن حكمه أن الفائتة تقضى على الصفة التي فاتت عنه إلا لعذر وضرورة(باب قضاء الفائتة: 2/ 86:دارالمعرفة)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026