سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-314 Fatwa no: 1447-314

گاؤں کی مسجد میں جمعہ ادا کرنے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ گاؤں میں ایک بڑی مسجد ہے،لیکن اس میں پانچ وقت نماز باجماعت نہیں ہوتی،تقریبا20منٹ کے فاصلے پر کئی دکانیں بھی ہیں،جس میں اکثرضروریات زندگی میسر ہیں،جمعہ کے دن اس مسجد میں ایک قاری صاحب یا مولوی صاحب آجاتے ہیں،اورنماز پڑھاکرچلے جاتے ہیں،اب مسئلہ یہ پوچھنا ہے کہ ایسی مسجد میں نمازِ جمعہ درست ہے یانہیں؟ وضاحت فرمائیں۔
جواب :

بصورت مسئولہ جب اتنی بڑی مسجد ہے،تو پھر اس میں سب سے پہلے تو پانچ وقت  باجماعت نماز ادا کرنی کی کوشش کریں،بصورت دیگر سارے گاؤں والے  گناہ گار ہونگے۔
باقی جہاں تک جمعہ  کی نماز  کا تعلق ہے،اس میں تفصیل یہ ہے،کہ شریعت نے اقامتِ جمعہ کےلئے چند شرائط مقرر کی ہیں،اگر وہ شرائط پائی جائیں تو جمعہ درست ہوگا بصورتِ دیگر نہیں ،وہ شرائط ذیل میں درج کی جاتی ہیں:۔
1- نمازِ جمعہ کے صحیح ہونے کےلئے ضروری ہے،کہ وہ شہر ہو یا مضافات شہر یا کم از کم بڑا قصبہ  ہو،شہر ہونےکا مطلب یہ ہے،کہ وہاں لوگوں کے درمیان مصالحت کےلئے کوئی قاضی یا مفتی مقرر ہو،نیز اس جگہ میں اکثر ضروریاتِ زندگی بھی میسر ہو،بصورتِ دیگر جمعہ کی نماز درست نہ ہوگی،بلکہ لوگوں پرظہر کی چار رکعت پڑھنا ہی لازم ہے۔
2-امیر یا اس کا کوئی نائب موجود  ہو۔
3-ظہر کے وقت کے اندراندر ہو۔
4-نماز سے پہلے خطبہ (عربی والا) دیا جائے۔
5-نماز باجماعت ہو۔
آپ  کے ذکرکردہ سوال میں چونکہ  پہلی شرط یعنی شہر یامضافات شہر کا ہونا،مفقود ہے،اس لئے  یہاں جمعہ درست نہ ہوگا،لہذا ظہر کی نماز ہی پڑھی جائے۔البتہ چونکہ وہاں کچھ عرصہ سے جمعہ کی نماز ہورہی ہے،اس لئے  پہلے تو لوگوں کو حکمت اورپیار سے صحیح مسئلہ سمجھا کر جمعہ ترک کرنا چاہئے،لیکن اگر جمعہ ترک کرنے میں فتنہ وفساد کا اندیشہ  ہو،تو پھر  جمعہ کی نماز  ہی پڑھی جائے،لیکن چونکہ جمعہ کےصحیح ہونے اور نہ ہونے میں شک ہوا،اس لئے جمعہ  کے بعد چار رکعت میں ظہر کی نیت کرنی چاہئے،تاکہ ظہر فرض  ہونے کی صورت میں   ذمہ بری ہو۔
في الفتاوى الهندية :ولأدائها شرائط في غير المصلي منها المصر هكذا في الكافي والمصر في ظاهر الرواية الموضع الذي يكون فيه مفت وقاض يقيم الحدود وينفذ الأحكام وبلغت أبنيته أبنية منى هكذا في الظهيرية وفتاوى قاضي خان وفي الخلاصة وعليه الاعتماد كذا في التتارخانية ومعنى إقامة الحدود القدرة عليها هكذا في الغياثية وكما يجوز أداء الجمعة في المصر يجوز أداؤها في فناء المصر وهو الموضع المعد لمصالح المصر متصلا بالمصر... ومن لا تجب عليهم الجمعة من أهل القرى والبوادي لهم أن يصلوا الظهر بجماعة يوم الجمعة بأذان وإقامة... ومنها السلطان عادلا كان أو جائرا هكذا في التتارخانية ... ومنها وقت الظهر حتى لو خرج وقت الظهر في خلال الصلاة تفسد الجمعة ... ومنها الخطبة قبلها حتى لو صلوا بلا خطبة أو خطب قبل الوقت لم يجز ... ومنها الجماعة وأقلها ثلاثة سوى الإمام كذا في التبيين ...(الفصل السادس في صلوة الجمعة: 1/ 145:دارالفكر)
وفيه ايضا:ثم في كل موضع وقع الشك في جواز الجمعة لوقوع الشك في المصر أو غيره وأقام أهله الجمعة ينبغي أن يصلوا بعد الجمعة أربع ركعات وينووا بها الظهر حتى لو لم تقع الجمعة موقعها يخرج عن عهدة فرض الوقت بيقين كذا في الكافي وهكذا في المحيط.( الفصل السادس في صلوة الجمعة: (1/ 145:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026