سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-315 Fatwa no: 1447-315

مرحوم کے بھائی کی موجودگی میں بھتیجے میراث کے مستحق نہیں

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ زین خان کے تین بیٹے ہیں۔1-علی اصغرخان 2-الطاف حسین 3-خان آفرخان۔
ان میں سے 30-1-2025 کو علی اصغرخان  کی وفات ہوئی،اس کے ورثاء میں سے  ایک بیٹی  زندہ ہے،اس کا ایک بھائی الطاب حسین  کوئی دو ڈھائی سال پہلے انتقال کرچکا ہے،تاہم الطاف حسین کی اولاد موجود ہے،اس کے علاوہ  مرحوم کا اور بھائی خان آفرخان بھی زندہ ہے، اب سوال یہ پوچھنا ہے کہ علی اصغر خان کا نصف مال تو اس کی بیٹی کو چلا جائے گا،باقی مال صرف خان آفرخان کا  ہوگا،یا الطاف حسین کی اولا د بھی مرحوم  تایا سے میراث کے مستحق ہے۔شرعی راہنمائی فرمائیں۔

جواب :

بصورت مسئولہ، میت کے کل مال میں سے کفن دفن کے اخراجات نکالنے کے بعد اگر اس پر کوئی قرضہ ہو یا اس کے ذمہ بیوی کا مہر باقی ہو، تو وہ ادا کیا جائے گا،نیز اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو وہ ایک تہائی مال سے پوری کی جائیگی،اس کے بعد جو مال بچ جائے،اس میں سے آدھا حصہ مرحوم  کی بیٹی کا ہوگا،اورباقی  ماندہ مال  مرحوم کے بھائی کو ملے گا،مرحوم کے بھتیجے(الطاف حسین  کی اولاد )  میراث  کے حق دار نہیں۔
وقال الله تعالى: يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا  مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ(11)
وفيه ايضا:ثم العصبات من جهة  النسب،والعصبة:كل من يأخذ ما أبقته اصحاب الفرائض...ثم جزء ابيه اي الاخوة.(ترتيب تقسيم التركة:ص:9:ط:بشرى)
وفي السراجي: قال علماؤنا تتعلق بتركة الميت حقوق اربعة :مرتبة الاول يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير...ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله،ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين،ثم يقسم الباقي بين ورثته.                (الفصل:الفرائض نصف العلم:ص:3)
وفيه ايضا:أما العصبة بنفسه:فكل ذكر لا تدخل في نسبته إلى الميت أنثى. وهم أربعة أصناف:جزء الميت،وأصله،وجزء أبيه وجده.الأقرب فالأقرب.(باب العصبات:54)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026