سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-316 Fatwa no: 1447-316

مفقود الخبر کی بیوی اوربچے دادا کی میراث میں حصہ لینے کے حق دار نہیں

براہ راست فتویٰ
سوال :

میرا بھائی طاہر جو کہ28اگست 2015ء کو  لاپتہ ہوا،اس کی بیوی کے پاس ذریعہ معاش اورروزگار نہیں ہے وہ  اپنے خاوند کے والد یعنی سسر کی جائیداد سے اپنے اوربیٹیوں یعنی (پوتیوں) کےلئے حصہ لینا چاہتی ہے،اس سلسلے میں ہماری والدہ نے عدالت سے رجوع کیا،جس کی بنا پر عدالت نے بیانات کی روشنی میں بھائی طاہر کو فوت شدہ قراردیا،طاہرنے اپنے ترکہ  میں کوئی ذاتی جائیداد نہیں چھوڑی ہے،اورنہ ہی والد نے اپنی زندگی میں  بیٹے کو جائیداد دی ہے،اب طاہرکے والد بھی فوت ہوچکے ہیں اورجائیداد بھی تقسیم ہونی ہے،اب سوال یہ ہے کہ والد کی جائیداد میں جو حصہ بیٹے طاہرکےلئے وقف ہوگا،اس میں طاہر کے ورثاء میں سے ایک بیوہ(عدالتی فیصلے کے  مطابق) تین بیٹیاں جوکم عمر ہیں،ایک والدہ ،چھ بہنیں اورایک بھائی ہے،اب مذکورہ ورثاء میں طاہر کی میراث کس طرح تقسیم ہوگی،شرعی راہنمائی فرمائیں۔

جواب :

اصل مسئلہ سمجھنے سے پہلےبطورِ تمہید دوباتیں سمجھنا ضروری ہے:
1-مفقود الخبر ( وہ آدمی جس کی موت اورزندگی  کا پتا کوشش کی باوجود نہ چلے)اپنے بارے میں زندہ تصور کیا جاتاہے یعنی اس کو زندہ تصور کرکے نہ اس کا مال تقسیم کیا جاسکتاہے اورنہ ہی اس کی بیوی دوسری جگہ نکاح کرسکتی ہے۔جبکہ دوسروں سے میراث لینے میں مردہ تصور کیا جاتاہے،یعنی وہ کسی اوروارث سے میراث کا مستحق نہیں ٹھہرتا ہے۔
2-احناف کے اصل مذہب کے  مطابق مفقود الخبر کی بیوی  نوے سال تک انتظار کرےگی،اس کے بعد وہ   شوہرکی وفات والی عدت گزار کرآزاد ہو جائیگی تاہم ضرورت کے وقت مالکیہ کےمذہب پر بھی عمل  کرسکتی ہے،وہ یہ کہ اگر عورت کو   عزتِ نفس کا خطرہ لاحق ہو،یا نان ونفقہ کا کوئی بندوبست نہ ہو،تو اس صورت میں  عدالت میں درخواست دائر کرکےاپنے شوہرکا لاپتہ ہونا،اس کی موت اورزندگی کا کوئی پتا نہ ہونا ثابت کرے ،اور اپنی مشکلات پیش کرکے جدائی کا مطالبہ کرے ،عدالت اس کے شوہر کو خوب تلاش کرنے کے بعد چارسال بعد یاقاضی کی اپنی صوابدید کے مطابق اس سے کم عرصے میں   دونوں میں تفریق کا فیصلہ کرے،پھر مذکورہ مدت گزرنے کےبعد عورت عدت گزار کر آزاد ہوجائیگی۔
ان تمہیدات کے بعد اصل مسئلے کا جواب ملاحظہ ہو۔
بصورتِ مسئولہ چونکہ  مفقود الخبر کی اپنی کوئی میراث نہیں  ہے،اور اپنے والد سے وہ میراث لینے کا حق دار نہیں ،جیساکہ تمہید میں گرزچکا ہے،اس لئے  اس کی بیوی اوربیٹیاں  مفقود الخبرکے والد کی میراث میں سے حصہ لینے کےحقدار نہیں ہیں۔البتہ ان کا تعاون کرنا خصوصا بچیوں کا ،دادی اورچچا کے ذمہ لازم ہے۔
جہاں تک مفقود الخبر کی بیوی کا تعلق ہے تو مالکیہ کے قول پر عمل کرتے ہوئے وہ عدت گزار کردوسری جگہ آباد ہوسکتی ہے۔
قال الله تعالى:﴿ وَاِذَا حَضَرَ الْقِسْمَةَ اُولُو الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنُ فَارْزُقُوْهُمْ مِّنْهُ وَقُوْلُوْا لَهُمْ قَوْلاً مَّعْرُوْفاً ﴾  [النساء:8]
في السراجی:المفقود حی فی ماله حتی  لایر ث منه احد ،ومیت فی مال غیرہ حتی لا یرث من احد ،ویوقف ماله حتی یصح موته او تمضی عليه مدۃ ۔واختلف الروایات فی تلک المدۃ۔۔۔قال بعضهم :تسعون سنةوعليه الفتوی۔(الفصل فی المفقود ،85)
في فتح القدير :قال ( وإذا تم له مائة وعشرون سنة من يوم ولد حكمنا بموته ) قال رضي الله عنه : وهذه رواية الحسن عن أبي حنيفة : وفي ظاهر المذهب يقدر بموت الأقران ، وفي المروي عن أبي يوسف بمائة سنة ، وقدره بعضهم بتسعين ، والأقيس أن لا يقدر بشيء .والأرفق أن يقدر بتسعين ، وإذا حكم بموته اعتدت امرأته عدة الوفاة من ذلك الوقت ( ويقسم ماله بين ورثته الموجودين في ذلك الوقت ) كأنه مات في ذلك الوقت معاينة إذ الحكمي معتبر بالحقيقي ( ومن مات قبل ذلك لم يرث منه ) لأنه لم يحكم بموته فيها فصار كما إذا كانت حياته معلومة ( ولا يرث المفقود أحدا مات في حال فقده ) لأن بقاءه حيا في ذلك الوقت باستصحاب الحال وهو لا يصلح حجة في الاستحقاق(كتاب المفقود:13/ 435:موقع الاسلام)
في تکملة فتح الملهم: وقد ذکر الإمام أبوبکر جصاص الرازي رحمه اللّٰه في أحکام القرآن، والعلامة العیني في عمدة القاري: الإجماع علی أن الحفید لایرث مع الابن...وفيه ايضا....ولو کان مدار الإرث علی الیتم والفقر والحاجة لما ورث أحد من الأقرباء والأغنیاء، وذهب المیراث کله إلی الیتامیٰ والمساکین … وأن معیار الإرث لیس هو القرابة المحضة ولا الیُتم والمسکنة، وإنما هو الأقربیة إلی المیت‘‘.(۲/۱۷-۱۸)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026