سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-317 Fatwa no: 1447-317

موبائل کا جیب میں ہوتے ہوئے نماز پڑھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ اگر ایک آدمی کے جیب میں ایسی ڈبی ہو،جس میں عینک بھی ہو،خوشبو بھی ہو،جو سنت ہے،اور اس کے ساتھ شراب کی شیشی بھی ہو،اور یہ ایک دوسرےسے جدا نہ ہوسکتی ہوں،تو کیا اس ڈبی کا جیب میں ہوتے ہوئے نماز ہوجائیگی؟تو کیا اس کی مشابہت موبائل کے ساتھ نہیں ہوتی ،جس میں ہر طرح کی اچھی ،بری حلال اورحرام چیزیں رکھی ہوئی ہیں۔
جواب :

واضح رہے کہ نماز کے صحیح ہونے کےلئے ضروری ہے،کہ نمازی نجاستِ حقیقیہ(بول ،براز،یا دیگر نجس چیزوں) اورنجاستِ حکمیہ(جنابت اوربے وضوء ہونے)سے پاک ہو،بصورت دیگر نماز درست نہیں ہوگی۔ مذکورہ صورت میں  جو تشبیہ دی گئی ہے،وہ درست نہیں ،کیونکہ یہ  ایک فرضی صورت بنائی گئی  ہے،دوسرا یہ کہ موبائل میں گندی چیزیں  اگرچہ نہیں ہونی چاہئیں،گندی چیزیں سننے اوردیکھنے سے دنیا اورآخرت دونوں کی بربادی ہے،لیکن اس کے باوجود اس سے نماز پرکوئی فرق نہیں پڑتا،ایک تو اس لئے کہ وہ نہ تو نجاست حکمیہ میں سے ہیں اور نہ ہی نجاست حقیقیہ میں سے ،حالانکہ نمازکے صحیح ہونے کےلئے ضروری ہے کہ  آدمی نجاست سے پاک ہو،اس لئے موبائل کے  جیب میں ہوتے ہوئے نماز پڑھنا درست ہے،اس سے کوئی فرق نہیں پڑھے گا،لیکن شراب نجس ہے،اس لئے اس کے جیب میں ہوتے ہوئے نماز نہیں ہوگی۔
قال الله تعالى:{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا قُمْتُمْ إِلَى الصَّلَاةِ فَاغْسِلُوا وُجُوهَكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ إِلَى الْمَرَافِقِ وَامْسَحُوا بِرُءُوسِكُمْ وَأَرْجُلَكُمْ إِلَى الْكَعْبَيْنِ وَإِنْ كُنْتُمْ جُنُبًا فَاطَّهَّرُوا وَإِنْ كُنْتُمْ مَرْضَى أَوْ عَلَى سَفَرٍ أَوْ جَاءَ أَحَدٌ مِنْكُمْ مِنَ الْغَائِطِ أَوْ لَامَسْتُمُ النِّسَاءَ فَلَمْ تَجِدُوا مَاءً فَتَيَمَّمُوا صَعِيدًا طَيِّبًا فَامْسَحُوا بِوُجُوهِكُمْ وَأَيْدِيكُمْ مِنْهُ مَا يُرِيدُ اللَّهُ لِيَجْعَلَ عَلَيْكُمْ مِنْ حَرَجٍ وَلَكِنْ يُرِيدُ لِيُطَهِّرَكُمْ وَلِيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ} [المائدة: 6]
في بدائع الصنائع : أما شرائط أركان الصلاة فمنها الطهارة بنوعيها من الحقيقية والحكمية والطهارة الحقيقية هي طهارة الثوب والبدن ومكان الصلاة عن النجاسة الحقيقية والطهارة الحكمية هي طهارة أعضاء الوضوء عن الحدث وطهارة جميع الأعضاء الظاهرة عن الجنابة  أما طهارة الثوب وطهارة البدن عن النجاسة الحقيقية فلقوله تعالى { وثيابك فطهر } وإذا وجب تطهير الثوب فتطهير البدن أولى  وأما الطهارة عن الحدث والجنابة فلقوله تعالى { يا أيها الذين آمنوا إذا قمتم إلى الصلاة فاغسلوا وجوهكم }  إلى قوله { ليطهركم }  وقول النبي لا صلاة إلا بطهور ...والإنقاء هو التطهير فدلت النصوص على أن الطهارة الحقيقية عن الثوب والبدن والحكمية شرط جواز الصلاة ...وكذلك الحدث والجنابة وإن لم تكن نجاسة مرئية فهي نجاسة معنوية توجب استقذار ما حل به(  فصل وأما شرائط الأركان: 1/ 114:دارالكتاب العربي)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026