سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-318 Fatwa no: 1447-318

ضرورت کی غرض سے خریدےجانے والی گاڑی پر زکوۃ کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک آدمی کباڑ کا کام کرتاہے،تو اس نے کباڑ کے نقل وحمل کےلئے ایک گاڑی رکھی ہوئی ہے،اور اسی میں استعمال ہوتی ہے،تو کیا اس گاڑی کی قیمت پربھی زکوۃ واجب ہوگی ۔رہنمائی فرمائیں
جواب :

  ز کوۃ کے حوالے سے ایک ضابطہ ذہن میں رہے،کہ سونا،چاندی ،نقدی  یاسامانِ تجارت  میں سے اگرکوئی ایک چیز نصاب(ساڑھے باؤن تولے چاندی کی قیمت)تک  پہنچتی  ہو،یا  سب کو ملاکر نصاب تک پہنچتی ہوں،توسال  گزرنےپراس پر زکوۃ واجب  ہوجاتی ہے،جبکہ اس کے علاوہ چیزیں(مثلا،زمین ،گاڑی وغیرہ) اگر تجارت کی نیت سے خریدی جائیں ،تب تو ان پرسال گزرنے سے زکوۃ واجب ہوگی،بصورتِ دیگر نہیں۔
بصورتِ  مسئولہ  چونکہ شخصِ مذکورنے گاڑی صرف  کباڑ کولانے اورلےجانے کی غرض سے خریدی  ہے،اس لئے اس پر زکوۃ واجب نہیں ۔
في الفتاوى الهندية :تجب في كل مائتي درهم خمسة دراهم، وفي كل عشرين مثقال ذهب نصف مثقال مضروبا كان أو لم يكن مصوغا أو غير مصوغ حليا كان للرجال أو للنساء تبرا كان أو سبيكة كذا في الخلاصة... وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز... الزكاة واجبة في عروض التجارة كائنة ما كانت إذا بلغت قيمتها نصابا من الورق والذهب كذا في الهداية. ويقوم بالمضروبة كذا في التبيين وتعتبر القيمة عند حولان الحول بعد أن تكون قيمتها في ابتداء الحول مائتي درهم من الدراهم الغالب عليها الفضة كذا في المضمرات. (الفصل الأول في زكاة الذهب والفضة 1/ 178دارالفكر)
وفيه ايضا:وأما اليواقيت واللآلئ والجواهر فلا زكاة فيها، وإن كانت حليا إلا أن تكون للتجارة كذا في الجوهرة النيرة. ولو اشترى قدورا من صفر يمسكها ويؤاجرها لا تجب فيها الزكاة كما لا تجب في بيوت الغلة(1/ 180:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026