سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-319 Fatwa no: 1447-319

زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میری مِلک میں ایک مکان ہے،جس میں ،میری اہلیہ اوردو لڑکے ،جنکی شادی ابھی نہیں ہوئی رہ رہے ہیں،دو بیٹیاں ،جن کی شادی ہوچکی ہے، اپنےاپنے گھروں میں ہیں،اگر میں اپنی زندگی میں گھر دونوں لڑکوں کے نام کروں،اور بچیوں کوکچھ رقم دےدوں، تاکہ مرنے کے بعد کوئی شر نہ ہو،اسی طرح اہلیہ کو بھی رقم دینی ہوگی۔
جواب :

واضح رہے،کہ آدمی اپنی زندگی میں اپنے مال اورجائیدادکا مالک ہوتاہے،اور مالک کو اپنی مملوکہ چیز میں تصرف کا پورا اختیارحاصل ہوتا ہے،لہذا وہ کسی کو زیادہ دینا چاہے یاکم دینا چاہے وہ کرسکتا ہے،اس پرکوئی مواخذہ نہیں ،بشرطیکہ ایسا کرنا کسی وارث کو محروم کرنے کی نیت سے نہ ہو۔
بصورت مسئولہ اگرآپ اپنی زندگی میں اپنی جائیداد تقسیم کرنا چاہتے ہیں،توکرسکتے ہیں ،اس میں شرعا کوئی خرابی نہیں،پھر اس میں  بہتر یہ ہے کہ اولاد میں برابری کی جائے،تاہم  آپ اپنے  مال وجائیدادکو میراث کے اصولوں کے مطابق بھی تقسیم کرسکتے ہیں،میراث کے اصولوں کے مطابق آپ کل مال کے آٹھ حصے بنائیں گے،ان میں سے اہلیہ کو آٹھواں حصہ جبکہ باقی سات حصے بہن بھائیوں میں اس طور پر تقسیم ہونگے،کہ ہربھائی کو بہن سے ودگنا حصہ مل جائے۔البتہ اگر آپ مکان اپنے بیٹوں کے نام کرنا چاہتے ہیں،اور بیٹیوں کو نقد رقم دینا چاہتے ہیں،تو یہ بھی درست ہیں،لیکن  صرف نام کرانے سے مکان ان کا نہیں ہوگا،بلکہ پھر زندگی میں ان کو قبضہ کرانا بھی ضروری ہے۔نیز اپنی اہلیہ کو بھی کچھ حصہ ضرور دینا چاہئے،اس کو محروم کرنا جائز نہیں۔
قال الله تعالی: {يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ} [النساء: 11]
درر الحكام شرح مجلة الأحكام:لِلْإِنْسَانِ أَنْ يَتَصَرَّفَ فِي مِلْكِهِ كَيْفَمَا شَاءَ فَلَا يُعَدُّ تَصَرُّفُهُ فِيهِ مَهْمَا كَانَ تَعَدِّيًا(المادۃ:المتسبب لايضمن الاباالتعمد:ص: 1/ 83:ط:دارالکتب العلمية بيروت)
فیشرح النووي على مسلم :وفي هذا الحديث أنه ينبغي أن يسوى بين أولاده في الهبة ويهب لكل واحد منهم مثل الآخر ولا يفضل ويسوى بين الذكر والانثى وقال بعض أصحابنا يكون للذكر مثل حظ الأنثيين والصحيح المشهور أنه يسوي بينهما لظاهر الحديث فلو فضل بعضهم أو وهب لبعضهم دون بعض فمذهب الشافعي ومالك وأبي حنيفة أنه مكروه وليس بحرام والهبة صحيحة. (كتاب الهبة،باب كراهة تفضيل بعض الاولاد،11  / 65)
وفي بدائع الصنائع:  وَذَكَرَ مُحَمَّدٌ في الموطأ يَنْبَغِي لِلرَّجُلِ أَنْ يُسَوِّيَ بين وَلَدِهِ في النحلى ( ( ( النحل ) ) ) وَلَا يُفَضِّلَ بَعْضَهُمْ على بَعْضٍ وَظَاهِرُ هذا يَقْتَضِي أَنْ يَكُونَ قَوْلُهُ مع قَوْلِ أبي يُوسُفَ وهو الصَّحِيحُ لِمَا رُوِي أَنَّ بَشِيرًاأَبَاالنُّعْمَانِ أتى بِالنُّعْمَانِ إلَى رسول اللَّهِ فقال إنِّي نَحَلْتُ ابْنِي هذا غُلَامًا كان لي فقال له رسول اللَّهِ كُلُّ وَلَدِكَ نَحَلْتَهُ مِثْلَ هذا فقال لَا فقال النبي عليه الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ فَأَرْجِعهُ وَهَذَا إشَارَةٌ إلَى الْعَدْلِ بين الْأَوْلَادِ في النِّحْلَةِ وهو التَّسْوِيَةُ بَيْنَهُمْ وَلِأَنَّ في التَّسْوِيَةِ تَأْلِيفَ الْقُلُوبِ وَالتَّفْضِيلُ يُورِثُ الْوَحْشَةِ بَيْنَهُمْ فَكَانَتْ التَّسْوِيَةُ أَوْلَى وَلَوْ نَحَلَ بَعْضًا وَحَرَمَ بَعْضًا جَازَ من طَرِيقِ الْحُكْمِ لِأَنَّهُ تَصَرُّفٌ في خَالِصِ مِلْكِهِ لَا حَقَّ لِأَحَدٍ فيه إلَّا أَنَّهُلَا يَكُونُ عَدْلًا سَوَاءٌ كان الْمَحْرُومُ فَقِيهًا تَقِيًّا أو جَاهِلًا فَاسِقًا على قَوْلِ الْمُتَقَدِّمِينَ من مَشَايِخِنَا، وَأَمَّا على قَوْلِ الْمُتَأَخِّرِينَ منهم لَا بَأْسَ أَنْ يُعْطِيَ الْمُتَأَدِّبِينَ وَالْمُتَفَقِّهِينَ دُونَ الْفَسَقَةِ الْفَجَر (كتاب الهبة،العائد في الهبة،5/182ط،بيروت)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026