سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-320 Fatwa no: 1447-320

اپنی مزنیہ کےساتھ حالتِ حمل میں نکاح کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہے مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کی ایک عورت کے ساتھ 2011ء میں منگنی ہوئی تھی،لیکن نکاح نہیں ہوا تھا،2022ء میں شخصِ مذکور نے اپنی منگیتر کے ساتھ مباشرت کی،جس کے نتیجہ میں وہ حاملہ ہوگئی،پھر حمل کے دوران (جب حمل پانچ مہینے کا تھا) شخصِ مذکور نے اس کے ساتھ نکاح کیا۔اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا مذکور نکاح درست ہے یا نہیں ۔راہنمائی فرمائیں۔شکریہ
جواب :

بصورتِ مسئولہ  میاں بیوی  دونوں نے نکاح سے پہلے زنا  کرکے سنگین جرم کا ارتکاب کیا  ہے،اس لئے اس پر دونوں کو اللہ تعالی سے سچی توبہ اور استغفار کرناچاہئے،باقی جہاں تک حمل کی  حالت میں ان  کے نکاح کا حکم ہے،تو وہ نکاح ٹھیک ہے بشرطیکہ نکاح کی دیگر شرائط(گواہ وغیرہ) پوری ہوں،اورمذکورہ صورت میں  نکاح کے بعد میاں بیوی  کا حمل  کی حالت میں مباشرت بھی جائز  تھا،اس میں شرعا کوئی ممانعت نہیں  تھی۔
في مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر :و صح نكاح حبلى من زنا عند الطرفين وعليه الفتوى لدخولها تحت النص وفيه إشعار بأنه لو نكح الزاني فإنه جائز بالإجماع(كتاب النكاح: 1/ 485:ط:دارالكتب العلمية)
في الدر المختار :(و ) صح نكاح ( حبلى من زنى لا ) حبلى ( من غيره ) أي الزنى لثبوت نسبه ... ( وإن حرم وطؤها ) ودواعيه ( حتى تضع ) متصل بالمسألة الأولى لئلا يسقي ماؤه زرع غيره إذ الشعر ينبت منه.فروع لو نكحها الزاني حل له وطؤها اتفاقا(فصل في المحرمات: 3/ 48:دارالفكر)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026