نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورتِ مسئولہ میاں بیوی دونوں نے نکاح سے پہلے زنا کرکے سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے،اس لئے اس پر دونوں کو اللہ تعالی سے سچی توبہ اور استغفار کرناچاہئے،باقی جہاں تک حمل کی حالت میں ان کے نکاح کا حکم ہے،تو وہ نکاح ٹھیک ہے بشرطیکہ نکاح کی دیگر شرائط(گواہ وغیرہ) پوری ہوں،اورمذکورہ صورت میں نکاح کے بعد میاں بیوی کا حمل کی حالت میں مباشرت بھی جائز تھا،اس میں شرعا کوئی ممانعت نہیں تھی۔
في مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر :و صح نكاح حبلى من زنا عند الطرفين وعليه الفتوى لدخولها تحت النص وفيه إشعار بأنه لو نكح الزاني فإنه جائز بالإجماع(كتاب النكاح: 1/ 485:ط:دارالكتب العلمية)
في الدر المختار :(و ) صح نكاح ( حبلى من زنى لا ) حبلى ( من غيره ) أي الزنى لثبوت نسبه ... ( وإن حرم وطؤها ) ودواعيه ( حتى تضع ) متصل بالمسألة الأولى لئلا يسقي ماؤه زرع غيره إذ الشعر ينبت منه.فروع لو نكحها الزاني حل له وطؤها اتفاقا(فصل في المحرمات: 3/ 48:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔