سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-321 Fatwa no: 1447-321

لائف انشورنس کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک آدمی انشورنس کرانا چاہتا ہے،طریقہ کار یہ ہوگا،کہ وہ بیس سال تک سالانہ 50ہزار روپے جمع کرےگا،بیس سال بعد اس کو پچاس لاکھ روپے ملیں گے،تاہم اس میں کچھ کمی زیادتی بھی ہوسکتی ہے،دس سال سے پہلے پہلے اس معاہدہ کو کوئی توڑ نہیں سکتا،بصورتِ دیگر اس کواس کی ادا کردہ رقم نہیں ملی گی،البتہ اگر بیس سال گزرنے سے پہلے پہلے زید کی موت واقع ہوئی ،تو جمع کردہ رقم اس کے ورثاء کو ملی گی۔اب پوچھنا یہ کہ کیا معاملہ شرعا درست ہے یانہیں ؟وضاحت فرمائیں۔
جواب :

بصورتِ مسئولہ عقدِ مذکور شرعا جائز نہیں ،لہذا اس سے احتراز ضروری ہے،عدمِ جواز کی وجہ یہ ہے،کہ عقدِ مذکور سود پر مشتمل ہے،اس طور پرکہ  بیس لاکھ پر ایک مقررہ مدت کے بعد پچاس لاکھ ملتے ہیں،اور سود کوقرآن مجید اور احادیث مبارکہ  نے صراخت کےساتھ حرام قرار دیا ہے،اس لئے اس سے بچنا ضروری ہے،البتہ انشورنش کے  متبادل کے طورعلماء کرام کی سرپرستی میں "تکافل"کو تشکیل دیاگیاہے،اس  لئے ان کےساتھ مطلوبہ معاملہ کیا جاسکتاہے
قال الله تعالى:الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (275) يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ(276)
وقال ايضا:يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَأْكُلُوا الرِّبَا أَضْعَافًا مُضَاعَفَةً وَاتَّقُوا اللَّهَ لَعَلَّكُمْ تُفْلِحُونَ (130) وَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ
وفي المسلم:ان الحلال بين،وان الحرام بين،وبينهما مشتبهات لايعلمهن كثير من الناس،فمن اتقى الشبهات استبرالدينه وعرضه،ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام (كتاب المساقاة:باب:اخذ الحلال وترك الشبهات)
في الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي:ويتبين من التعريف أيضاً أن التأمين من عقود الغرر، إذ لا يعرف وقت العقد مقدار ما يعطي كل من العاقدين أو يأخذ، فقد يدفع المستأمن قسطاً واحداً من الأقساط، ثم يقع الحادث، وقد يدفع جميع الأقساط، ولا يقع الحادث. (5/ 3420)
وفيه ايضا:وأما الربا: فمن المؤكد أن عوض التأمين ناشئ من مصدر مشبوه، لأن كل شركات التأمين تستثمر أموالها في الربا، وقد تعطي المستأمن (المؤمن له) في التأمين على الحياة جزءاً من الفائدة، والربا حرام قطعاً. ثم إن الربا واضح بين العاقدين: المؤمِّن والمستأمن؛ لأنه لا تعادل ولا مساواة بين أقساط التأمين وعوض التأمين، فما تدفعه الشركة قد يكون أقل أو أكثر، أو مساوياً للأقساط، وهذا نادر، والدفع متأخر في المستقبل، فإن كان التعويض أكثر من الأقساط، كان فيه ربا فضل وربا نسيئة، وإن كان مساوياً ففيه ربا نسيئة، وكلاهما حرام. (6/ 4183)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026