نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںکیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ہمارے علاقہ ڈیرہ اسماعیل خان میں بعض گھروں میں بجلی کے میٹرز نہیں لگے ہوئے ہیں،اور لگانے میں بھی بڑے مسائل ہوتے ہیں،اب جو بندہ کرایہ داری پر رہ رہا ہو ،اس کی کوشش ہوتی ہے کہ ایسے گھر میں رہے،جس گھر میں میٹر نہیں لگا ہوا ہے،لہذا وہ بجلی کا بل بھی ادا نہیں کرتا،لہذا اگر وہ میٹر کے بغیر بجلی استعمال کرتا ہے،تو اس کےلئے کیا حکم ہے؟
دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ کبھی مالکِ مکان میٹر ریڈر کے ساتھ بات طے کرتا ہے،کہ میں آپ کو اتنی رقم دوں گا،لیکن آپ نے یونٹس اس سے زیادہ نہیں لکھنے ہیں،وہ راضی ہوجاتا ہے،اگر ایسا ایگریمنٹ مالکِ مکان کرے،تو کرایہ دار کےلئے اس میں کیا حکم ہے؟ کیا اس پر بھی گناہ ہوگا؟وضاحت فرمائیں۔
واضح رہے کہ مباح امور میں ،یا وہ ملکی قوانین جو ملک کے مفاد و ترقی کے خاطر بنائے جاتے ہیں،میں حکومت وقت کی فرمان برداری ضروری ہے،ان میں کسی بھی عنوان سے کمی کوتاہی کرنا شرعا جائز نہیں ۔
بصورتِ مسئولہ اگر بعض گھروں میں میٹرزحکومت کی غفلت کی وجہ سے نہیں لگے ہیں،تو اس صورت میں کرایہ دار پر کوئی وبال نہیں ہوگا،البتہ ایسا بہت کم ہوتاہے۔عموما مالک ِ مکان گہرے تعلق کی بنیاد پر یا میٹرز لگانے والے ذمہ دران کو رشوت دےکرمیٹر لگوانے سے رکتے ہیں،جیساکہ سوال کی دوسری شق میں مذکور ہے،تو ایسی صورت میں مالکِ مکان اور میٹرلگانے والے ذمہ دارن سب گناہ گار ہونگے،ایسے لوگ نہ صرف یہ کہ دینی اعتبار سے سخت سزا اور عقاب کے مستحق ہیں،بلکہ قانونا بھی یہ مجر م ہیں،لہذا ان کو اپنے فعل سے باز آنا چاہئے۔اس دوسری صورت میں بھی اگرچہ کرایہ دار کو اس میں رہنے کی گنجائش ہے کیونکہ وہ اس جرم میں بالفعل شریک نہیں ،لیکن پھر بھی احتیاط کا تقاضہ یہی ہے،کہ ایسے گھر میں نہ رہے،جس کا مالک شرعا اورقانونا مجرم ہو۔
قال الله تعالى:يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا أَطِيعُوا اللَّهَ وَأَطِيعُوا الرَّسُولَ وَأُولِي الْأَمْرِ مِنْكُمْ فَإِنْ تَنَازَعْتُمْ فِي شَيْءٍ فَرُدُّوهُ إِلَى اللَّهِ وَالرَّسُولِ إِنْ كُنْتُمْ تُؤْمِنُونَ بِاللَّهِ وَالْيَوْمِ الْآخِرِ ذَلِكَ خَيْرٌ وَأَحْسَنُ تَأْوِيلًا (59)
وتحته في التفسير الكبير:عن رسول الله صلى الله عليه وسلم قال: "السمع والطاعة على المرء المسلم فيما أحب وكره، ما لم يؤمر بمعصية، فإذا أمر بمعصية فلا سمع ولا طاعة".
في المعجم الأوسط: فقال معاذ مهلا يا حبيب فإني سمعت رسول الله صلى الله عليه و سلم يقول إنما للمرء ما طابت به نفس إمامه(7/ 23:ط:دارالحرمين)
"فتاوى اللجنة الدائمة"میں مذکور ہے۔
هل يجوز توقيف ساعة (عداد) الكهرباء أو الماء في دولة كافرة من أجل إضعاف تلك الدولة ؟ مع العلم بأن الدولة تأخذ مني ضرائب ظالمة رغماً عني .
الجواب:"لا يجوز ؛ لما فيه من أكل أموال الناس بالباطل.
ایک دوسرے سوال کے جواب میں مذکور ہے۔
" وسئلت اللجنة الدائمة أيضاً : هل يجوز التحايل للامتناع عن دفع فاتورة الكهرباء أو الماء أو التليفون أو الغاز أو أمثالهما ؟ علما بأن معظم هذه الأمور تتولاها شركات مساهمة يمتلكها عامة الناس .
فأجابت : لا يجوز ؛ لما فيه من أكل أموال الناس بالباطل ، وعدم أداء الأمانة ، قال تعالى : ( إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا ) وقال : ( يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَأْكُلُوا أَمْوَالَكُمْ بَيْنَكُمْ بِالْبَاطِلِ إِلا أَنْ تَكُونَ تِجَارَةً عَنْ تَرَاضٍ مِنْكُمْ وَلا تَقْتُلُوا أَنْفُسَكُمْ إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِكُمْ رَحِيمًا ) " انتهى . " (23/441) .
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔