نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںضرورت کےوقت(مثلا بال سفید ہوگئے ہوں) کالے خضاب کےعلاوہ کسی اوررنگ مثلا براؤن یا سرخی مائل وغیرہ سے سر کےبال رنگنا نہ صر ف جائز ہے بلکہ مستحسن ہے،جبکہ کالے خضاب کی گنجائش ہے،اگرچہ بہتر یہ ہے،کہ اس کےبجائے کوئی اور رنگ استعمال کیاجائے،لیکن آج کل مغرب کی تقلید میں کالے بالوں کو مختلف رنگ لگا کرزردی مائل بنانا یابراؤن کرنا فیشن بن گیا ہے،اس لئے اس کی اجازت نہیں دی جاسکتی ،لہذا اس سے احتراز کیا جائے،حدیث شریف میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے،کہ جو آدمی جس قوم کی مشابہت اختیار کرے گا،قیامت کےدن اس کا حشر ان کےساتھ ہوگا،اس لئے ایک مسلمان کےلئے یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ غیروں کی محبت اورتقلید میں ایسے بے ہودہ اورلایعنی کاموں میں پڑا رہے۔
في سنن أبى داود:عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ عَنْ أَبِى الأَسْوَدِ الدِّيلِىِّ عَنْ أَبِى ذَرٍّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- « إِنَّ أَحْسَنَ مَا غُيِّرَ بِهِ هَذَا الشَّيْبُ الْحِنَّاءُ وَالْكَتَمُ(باب في الخضاب:ص: 4/137:ط:دارالكتاب العربي)
وفي سنن ابن ماجه:عن أبي ذر قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم ( إن أحسن ماغيرتم به الشيب الحناء الكتم)(باب في الخضاب بالحناء:ص: 2/ 1196:ط:دارالفكر)
وفيه ايضا:عن عثمان بن موهب قال دخلت على أم سلمة . قال فأخرجت إلي شعرا من شعر رسول الله صلى الله عليه و سلم مخضوبا بالحناء والكتم(باب الخضاب بالحناء:ص:2/ 1196:ص:دارالفكر)
فی سنن أبي داود:
حدَّثنا عثمانُ بنُ أبي شيبةَ، حدَّثنا أبو النضرِ، حدَّثنا عبدُ الرحمن ابنُ ثابتٍ، حدَّثنا حسانُ بنُ عطيَّهَ، عن أبي مُنيب الجُرَشيٍّ(6/ 144)
عن ابنِ عُمَرَ، قال: قال رسولُ الله - صلَّى الله عليه وسلم -:، مَن تَشَبَّه بقومٍ فهو منهم
الدر المختار:يستحب للرجل خضاب شعره ولحيته ولو في غير حرب في الأصح والأصح أنه عليه الصلاة والسلام لم يفعله ويكره بالسواد(فرع:يكره الاعطاء سائل المسجد:ص: 6/ 422:ط:دارالفكر)
وتحته في الشامية:قال النووي ومذهبنا استحباب خضاب الشيب للرجل والمرأة بصفرة أو حمرة وتحريم خضابه بالسواد على الأصح لقول عليه الصلاة والسلام غيروا هذا الشيب(مسائل شتى:ص: 6/ 756:ط:دارالفكر)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔