سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-324 Fatwa no: 1447-324

منہ لگا کربوتل سے پانی پینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیا ن کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ بوتل کے ساتھ منہ لگا کر پانی پینا کیسا ہے،کیا یہ غیروں کے ساتھ مشابہت نہیں ،پہلے مسجدوں میں کولر اورگلاس تراویح کے دوران رکھے جاتے تھے،مگر آج کل ہر شخص اپنی انفرادی بوتل اپنے ساتھ لے کر آتا ہے۔اس میں شرعی راہنمائی درکار ہے؟
جواب :

بوتل یا  مشکیزہ وغیرہ  سے منہ لگا کر پانی پینے کے بارے میں دونوں قسم کی  احادیث موجود ہیں،بعض روایات میں مشکیزہ کو منہ لگا کر پانی پینے سے منع کیا گیا ہے،جبکہ بعض دیگر احادیث سے اس کا جواز معلوم ہوتا ہے،دونوں میں تطبیق کی یہ صورت ہوسکتی ہے،کہ  اگر بوتل یا مشکیزہ  وغیرہ اجتماعی ہو،تو پھر تو منہ لگا  کرپانی نہیں پینا چاہئے، کیونکہ بعض دفعہ  بوتل یا مشکیزہ  کا منہ بدبودار ہوجاتاہے،اور اس سے دوسرے لوگوں کو تکلیف ہوگی،اور اگر بوتل یا مشکیزہ انفرادی ہو،تو پھر چونکہ مذکورہ خرابی کا امکان نہیں ،اس لئے اس صورت میں  بوتل کو منہ لگا کر پانی میں شرعا کوئی خرابی نہیں ۔باقی  اس میں غیروں کےساتھ مشابہت  کا پہلو  نہیں  ہے کیونکہ مسلمانوں میں بھی شروع سے دونوں طریقے مروج ہیں۔چنانچہ بوتل یا مشکیزہ کے منہ سے پانی پینے کے  جواز کی احادیث ملاحظہ ہوں:۔
في سنن الترمذي :عن عبد الرحمن بن أبي عمرة عن جدته كبشة قالت : دخل علي رسول ا لله صلى الله عليه و سلم فشرب من في قربة معلقة قائما فقمت إلى فيها فقطعته(باب :الرخصة في ذلك: 4/ 306:داراحياء التراث العربي)
في مصنف ابن أبي شيبة - 
24609- حدثنا يزيد بن هارون ، عن هشام ، عن عكرمة ، عن ابن عباس ؛ أنه كان لا يرى بأسا بالشرب من في الإداوة (. ترقيم عوامة8/ 20)
24610- حدثنا وكيع ، عن سفيان ، عن سالم ، عن سعيد بن جبير ، قال : رأيت ابن عمر يشرب من في الإداوة. (. ترقيم عوامة8/ 20)
ان تینوں  روایتوں کا لبِ  لباب یہ ہے کہ آپ ﷺ نےمنہ لگا کر مشکیزہ سے پانی پیا  ہے،نیز صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی اس کو برا نہیں سمجھتے۔
في سنن أبى داود : عن عكرمة عن ابن عباس قال نهى رسول الله -صلى الله عليه وسلم- عن الشرب من فى السقاء وعن ركوب الجلالة والمجثمة(باب من في  السقاء: 3/ 389:دارالكتاب العربي)
اس روایت سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ ﷺ نے  منہ لگا کر مشکیزہ  سے پانی پینے کو منع فرمایا ہے۔اب دونوں قسم کی روایات میں تطبیق حضرت عروہ  کی روایت کو سامنے رکھ کر  کی جاسکتی ہے،چنانچہ آپ  سے  مروی ہے کہ آﷺ نے منہ لگا کر مشکیزہ سے پانی پینےکو منع فرمایا،کیونکہ منہ لگا کر پانی    پینے سے وہ بدبودار ہوجاتاہے۔ 
في شعب الإيمان : عن هشام بن عروة، عن أبيه قال: " نهى النبي صلى الله عليه وسلم أن يشرب من فم السقاء " " قال هشام فإنه ينتنه ذلك. رواه حماد بن سلمة، عن هشام، عن أبيه، عن عائشة موصولا وقال لأن [ص:147] ذلك ينتنه (باب:الشرب بثلاثة الانفاس: 8/ 146:مكتبة الرشد)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026