نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ بدلِ صلح ورثاء کے درمیان میراث کے اصولوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔بصورتِ مسئولہ چونکہ میت کے ورثاء میں ایک حمل بھی ہے،اس لئے بہتر تویہ ہےکہ حمل کی ولادت تک انتظار کیا جائے،اور پھر اس کے بعد میراث تقسیم کی جائے۔لیکن اگر میراث تقسیم کرناضروری ہو،تو پھر دو مسئلے بنائےجائیں گے،ایک میں حمل کو مذکر(نر) فرض کیا جائے گا،جبکہ دوسرےمیں مونث(مادہ)۔پھر ایک صورت کے مطابق مال تقسیم کیا جائے،بہتر یہ ہے کہ حمل کو مذکر(نر)فرض کرکے میراث تقسیم کی جائے،پھر اگر وہ بچہ ہوا،تو مزید کسی تقسیم کی ضرورت نہیں اور اگر بچی ہوئی ،تو اس کو اس کا حصہ دے کر جو مال بچ جائے،وہ دوبارہ متعلقہ ورثاء میں ان کے حصوں کے مطابق تقسیم کیا جائے۔
بصورت مسئولہ میت کے کل مال میں سے کفن دفن کے اخراجات نکالنے کے بعد اگر اس پر کوئی قرضہ ہو، تو وہ ادا کیا جائے گا،نیز اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو وہ ایک تہائی مال سے پوری کی جائیگی،اس کے بعد اس کے کل مال کے چوبیس(24)حصے بنائے جائیں گے،ان میں ایک ثمن یعنی آٹھواں حصہ بیوی کو،سدس یعنی چھٹا حصہ اس کی ماں کو،جبکہ باقی مال تین بیٹیوں اورحمل (کو مذ کر فرض کرکے) میں للذکرمثل حظ الانثیین (مذکر کو مؤنث سے دگنا دیا جائیگا)کے ضابطے کے مطابق تقسیم ہوگا۔لہذا اگر مرحوم کا کوئی اور ترکہ نہیں تو پھر پندرہ(15) لاکھ کا آٹھواں حصہ یعنی ایک لاکھ ستاسی ہزارپانچ سو روپے(187500) بیوی کو ملیں گے،جبکہ پندرہ لاکھ کا چھٹا حصہ یعنی دولاکھ پچاس ہزار روپے مرحوم کی والدہ کو ملیں گے، جبکہ باقی رقم میں سے ہرایک بہن کو دولاکھ ساڑھے بارہ ہزارروپے(212500) جبکہ حمل(متوقع بھائی) کےلئے بہنوں سے دوگنا یعنی چار لاکھ پچیس ہزار(425000) روپے رکھے جائیں گے،پھر اگر حمل بچہ ہوا،تو اس کو اس کا حصہ یعنی چار لاکھ پچیس ہزارروپے دئےجائیں گے،مزید تقسیم کی ضرورت نہیں ،لیکن اگر حمل بچی ہوئی،تو اس صورت میں اس کو اس کا حصہ یعنی دولاکھ ساڑھے بارہ ہزار روپے دئے جائیں گے،جبکہ باقی رقم یعنی دولاکھ ساڑھے بارہ ہزار چار بہنوں میں برابری کے ساتھ تقسیم کی جائیگی یعنی اس صورت میں ہربہن کو مزیدتریپن ہزار ایک سو پچیس(53125) روپے دئے جائیں گے۔
في سنن أبى داود :وقال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- : إن العقل ميراث بين ورثة القتيل على قرابتهم فما فضل فللعصبة .(باب ديات الاعضاء: 4/ 313:دارالكتاب العربي)
في البحر الرائق: قال رحمه الله ( ووقف للابن حظ ابن ) أي إذا ترك الميت امرأته حاملا أو غيرها ممن يرثه ولدها وقف للحمل نصيب ابن واحد وهذا قول أبي يوسف وعنه يوقف نصيب ابنين وهو قول محمد لأن ولادة الاثنين معتادة وعن أبي حنيفة أنه يوقف نصيب أربع بنين أو أربع بنات أيهما أكثر لأنه يتصور ولادة أربعة في بطن واحدة فيترك نصيبهم ( ( ( نصيبها ) ) ) احتياطا والفتوى على الأول لأن ولادة الواحد هي الغالب والأكثر منه موهوم والحكم للغالب ويؤخذ من الورثة على قوله كفيل لاحتمال أن يكون أكثر وهذا إذا كان في الورثة ولد وأما إذا لم يكن فيهم ولد فلا يختلف الميراث بينهم بكثرة الأولاد وقلتهم (كتاب الفرائض:8/ 574:دارالمعرفة)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔