سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-326 Fatwa no: 1447-326

تقریر کے دوران انگریزی اصطلاحات استعمال کرنے کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ آج کل بڑے بڑے مفتیان کرام بھی اپنی تقریر میں انگریزی کے الفاظ عموما استعمال کرتے ہیں،وہ کیا تاثر دینا چاہتے ہیں،ہم بھی اس کا علم رکھتے ہیں،میں نے تو سنا ہے، کہ اچھی زبان عربی ہے،دوسرا یہ کہ جس چیز کو فروغ دینا ہے،اس کو چلاؤ اورپھیلاؤ،جوالفاظ زیادہ بولو گے وہی پھیلے گے۔
جواب :

بصورتِ مسئولہ بہتر تو یہی ہے کہ آدمی پوری کی پوری توجہ عربی زبان پر دے،کیونکہ عربی زبان ہماری دینی زبان ہے،نیز قرآن مجید اوراحادیث مبارکہ عربی زبان ہی میں ہیں،تو ان سے کما حقہ فائدہ تب ہی ممکن ہے،کہ جب آدمی عربی زبان پر قادر ہو۔پھر اس کے بعد دوسرا درجہ اپنی قومی زبان کا ہے،قومی زبان ہی ایک قوم کا آپس میں   جوڑ،اتفاق اوراتحاد کا سبب ہے،لہذا اپنی مذہبی اور قومی زبان کو چھوڑکر  بلاضرورت  غیروں کی زبان بولنا ایک  نامناسب اورغیرذمہ درانہ فعل ہے،البتہ اگر کوئی اجبنی زبان اچھی نیت ،مثلا ،تبلیغِ دین  یا دفاعِ دین وغیرہ   کےلئے سیکھتا ہے،تو نہ صرف  یہ کہ جائز ہے،بلکہ مستحب اورمستحسن ہے۔
 جہاں تک تعلق ہے اپنی زبان میں بات کرتے ہوئے اجنبی زبان استعمال کرنے کا ،تو اگر اپنی زبان میں بات کرتے ہوئے کسی اجنبی  زبان   مثلا انگریزی کا کوئی  لفظ استعمال  کیا جائے،اور یہ  اس زبان سے  تاثر یا اس سے محبت  کی  وجہ سے نہ ہو  ،بلکہ   سمجھانے کی غرض سے ہو،یا بے اختیار ہو،یا یہ کہ وہ لفظ کثیرالاستعمال  ہو،تو یہ  اتنی بری بات بھی نہیں،کیونکہ  کوئی  زبان بھی بشمول عربی  ،دوسری زبانوں سے مستغنی  نہیں ہوسکتی، خود ہماری اردو زبان کئی زبانوں سے مل کربنی ہے،اسی طرح آج کل  عربی زبان میں  بھی سینکڑوں جدید انگریزی اصطلاحات استعمال ہوتی ہیں،لہذا اس چیز کو اتنا مسئلہ نہیں بنانا چاہئے کہ جس کی وجہ سے دل میں کسی عالم یا مفتی  کی  تحقیر پیدا ہو۔
قال الله تعالى:{ وَإِنَّهُ لَتَنْزِيلُ رَبِّ الْعَالَمِينَ (192) نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ (193) عَلَى قَلْبِكَ لِتَكُونَ مِنَ الْمُنْذِرِينَ (194) بِلِسَانٍ عَرَبِيٍّ مُبِينٍ} [الشعراء: 192 - 195]
وفي المعجم الأوسط :عن بن عباس قال قال رسول الله صلى الله عليه و سلم احبوا العرب لثلاث لأني عربي والقرآن عربي ولسان اهل الجنة عربي(5/ 369)
في الموسوعة الفقهية الكويتية :للغة العربية فضل على سائر الألسن ؛ لأنها لسان أهل الجنة ، ويثاب الإنسان على تعلمها وعلى تعليمها غيره، وفي الحديث الشريف : أحبوا العرب لثلاث : لأني عربي ، والقرآن عربي ، ولسان أهل الجنة في الجنة عربي ، وفي رواية : وكلام أهل الجنة عربي

الحكم التكليفي : - قال الشافعي : يجب على كل مسلم أن يتعلم من لسان العرب ما يبلغه جهده في أداء فرضه ، قال في القواطع : معرفة لسان العرب فرض على العموم في جميع المكلفين إلا أنه في حق المجتهد على العموم في إشرافه على العلم بألفاظه ومعانيه ، أما في حق غيره من الأمة ففرض فيما ورد التعبد به في الصلاة من القراءة والأذكار ؛ لأنه لا يجوز بغير العربية ... قال الشافعي : لسان العرب أوسع الألسنة مذهبا وأكثرها ألفاظا ، وأولى الناس بالفضل في اللسان من لسانه لسان النبي صلى الله عليه وسلم ، ولا يجوز - والله أعلم - أن يكون أهل لسانه أتباعا لأهل لسان غير لسانه في حرف واحد ، بل كل لسان تبع للسانه ، وكل أهل دين قبله فعليهم اتباع دينه.(فضل اللغة العربية : 30/ 36:دارالسلاسل)
وفيه ايضا:يباح تعلم غير العربية للأفراد ، وقد تستحب لهم ، ويجب تعلمها وجوب كفاية للمصلحة العامة ، كاتقاء شر الأعداء ، وقد ورد عن زيد بن ثابت رضي الله عنه أنه قال : أمرني رسول الله صلى الله عليه وسلم أن أتعلم له كتاب يهود ، قال : إني والله ما آمن يهود على كتاب قال فما مر بي نصف شهر حتى تعلمته له ، قال : فلما تعلمته كان إذا كتب إلى يهود كتبت إليهم ، وإذا كتبوا له قرأت له كتابهم وفي رواية : " أنه أمره أن يتعلم السريانية " ، والإسلام رسالة عالمية ، قال تعالى : { قل يا أيها الناس إني رسول الله إليكم جميعا } (4) ، ويجب على المسلمين تبليغ الرسالة إلى الناس جميعا بلغة يفهمونها وجوب كفاية(تعلم غير العربي من اللغات : 35/ 278:دارالسلاسل)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026