سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-327 Fatwa no: 1447-327

والد کا بعض اولاد کےلئے گھر ہبہ کرنے اوربعض کو وصیت کرنےکا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک  آدمی کی دو بیویا ں تھیں،اور دونوں سے اولاد بھی تھی،شخص مذکور نے بڑی بیوی کی کے بیٹے کو اپنا ایک گھر  اپنی زندگی میں  دےدیا تھا،جبکہ  دوسری بیوی کو طلاق دی،تاہم اس سے جو بیٹا تھا،جو ابھی تقریبا سات آٹھ سال کا ہے،اس کےلئے میرے پاس کچھ نقدی اورکچھ اورسامان رکھ کریہ کہا کہ  میری وصیت ہے کہ میرے مرنے کے بعد یہ  نقدی اورسامان  میرے چھوٹے بیٹے کو(جب وہ بڑا ہوجائے) دےدینا،اب مسئلہ یہ پیش آیا ہے، کہ بڑے بیٹے کو کسی طرح پتہ چل گیا ہے،اب وہ مجھ سے مطالبہ کررہاہے،تو اس صورت حال میں مجھے کیا کرنا چاہئے کہ نقدی اورسامان اس کے حوالہ کروں،یا انکار کرکے جب اس کا چھوٹا بیٹا بڑا ہوجائے،اس کے حوالہ کروں۔
تنقیح:۔مرحوم کا چھوٹا بیٹا ،اب بڑے بھائی کی زیرِ کفالت ہے۔

جواب :

مذکورہ مسئلہ سمجھنے سے پہلے دو باتیں سمجھنا ضروری ہے:۔
1۔ہبہ تام ہونےکے لئے ضروری ہے،کہ اس پر قبضہ کیا جائے،بصورتِ دیگر ہبہ تام نہیں ہوگا،اور ملک کا فائدہ نہیں دےگا۔
2۔شریعت میں وارث کےلئے وصیت جائز نہیں،اگر کسی نے وارث کےلئے وصیت  کی ،تو ورثاء کی اجازت پر موقوف ہوگی،ورثاء نے اجازت دی،تو نافذ ہوگی،بصورتِ دیگر نہیں۔
بصورتِ مسئولہ چونکہ یہ بات واضح نہیں کہ  مرحوم نے بڑے بیٹے کو جو گھر ہبہ کیا ہے،اس کا باقاعدہ قبضہ بھی کروایا تھایا نہیں،اگر باقاعدہ قبضہ نہیں کروایا ہے،صرف زبانی ہبہ کروایاہے،یا صرف نام کروایا ہے، تو اس  صورت میں ہبہ تام نہیں ہوگا،لہذا وہ میراث کے اصولوں کے مطابق تقسیم ہوگا۔
باقی جہاں تک آپ کے پاس   رکھی ہوئی امانت ہے،اس میں وصیت اور ہبہ دونوں  پہلوں ہیں،اگرسوال میں ذکردہ تفصیل کو دیکھا جائے تو یہ وصیت ہے،اوروارث کےلئے وصیت  ورثاء کی اجازت کے بغیر  نافذ نہیں ہوتی،اور اگر ہبہ مان لیاجائے،تو شخصِ مذکور نے چونکہ مذکورہ مال اپنی ملکیت سے الگ کرکے آپ کےپاس امانۃ رکھوایا ہے، تو اس صورت میں بچے کی طرف سے قبضہ بھی تام ہے،لہذا اس صورت میں یہ بچے کا حق ہے اور اسی کو  ملنا چاہئے۔
مذکورہ صورت میں آپ تفصیل  سےمعلومات حاصل کریں،کہ بڑے بیٹے کےلئے ہبہ کی نوعیت  کیا ہے،اگر والد مرحوم نے اس کو ہبہ کرنے کےساتھ ساتھ مکمل قبضہ بھی دلوایا ہے،تو پھر دوسرے بیٹے کےلئے آپ کے پاس  جو امانت رکھی ہے،وہ بھی  ہبہ ہے،لہذا اس میں بڑے بیٹے کا حق نہیں بنتا ،اور اگر بڑے بیٹا کا ہبہ تام نہیں  ہوا ہے،بلکہ میراث ہے،تو پھر چھوٹے بیٹے کےلئے رکھی ہوئے رقم  بھی وصیت سمجھی جائیگی،اور دیگر ورثاء کی اجازت کے بغیر نافذ نہیں ہوگی۔
في شرح معاني الآثار:عنْ عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهَا قَالَتْ إِنَّ أَبَا بَكْرٍ الصِّدِّيقَ نَحَلَهَا جِدَادَ عِشْرِينَ وَسْقًا مِنْ مَالِهِ بِالْغَابَةِ. فَلَمَّا حَضَرَتْهُ الْوَفَاةُ قَالَ وَاللهِ يَا بُنَيَّةُ مَا مِنْ أَحَدٍ مِنَ النَّاسِ أَحَبَّ إِلَيَّ غِنًى مِنْكِ وَلَا أَعَزَّ النَّاسِ عَلَيَّ فَقْرًا مِنْ بَعْدِي مِنْكِ وَإِنِّي كُنْتُ نَحَلْتُكِ جِدَادَ عِشْرِينَ وَسْقًا فَلَوْ كُنْتِ جَدَدْتِيهِ وَأَحْرَزْتِيهِ كَانَ لَكِ وَإِنَّمَا هُوَ الْيَوْمَ مَالُ وَارِثٍ وَإِنَّمَا هُمَا أَخُوكِ وَأُخْتَاكِ فَاقْسِمُوهُ عَلَى كِتَابِ اللهِ تَعَالَى. فَقَالَتْ عَائِشَةُ: وَاللهِ يَا أَبَتِ لَوْ كَانَ كَذَا وَكَذَا لَتَرَكْتُهُ إِنَّمَا هِيَ أَسْمَاءُ فَمَنِ الْأُخْرَى قَالَ: ذُو بَطْنٍ بِنْتُ خَارِجَةَ أَرَاهَا جَارِيَةً( شرح معاني الآثار4/ 88) 
في السنن الصغير للبيهقي: عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، أَنَّهُ قَالَ: «الْإِنْحَالُ مِيرَاثٌ مَا لَمْ يُقْبَضْ» (2/ 338)
في الموسوعة الفقهية الكويتية :وَلَمْ يُفَصِّل الْحَنَفِيَّةُ - وَهِيَ رِوَايَةُ ابْنِ الْخَطَّابِ عَنْ أَحْمَدَ - هَذَا التَّفْصِيل فِي الْقَبْضِ، بَل اعْتَبَرُوا التَّخْلِيَةَ - وَهِيَ: رَفْعُ الْمَوَانِعِ وَالتَّمْكِينِ مِنَ الْقَبْضِ - قَبْضًا حُكْمًا عَلَى ظَاهِرِ الرِّوَايَةِ،(9/ 134)

واللہ اعلم بالصواب

تاریخ اشاعت: 20 Jun 2026