سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-328 Fatwa no: 1447-328

دائمی منصوبہ بندی کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی خود مجذوب ہے،اور اس کی بیوی کی نظر انتہائی کمزور ہے،اب وہ یہ پوچھنا چاہتے ہیں کہ کیا ایسی صورت حال میں کہ جب ہم دونوں بچے کی تربیت نہیں کرپارہے،نسل بندی کرنا جائز ہے یا نہیں؟ وضاحت فرمائیں۔
جواب :

اصل سوال سمجھنے سے پہلے یہ جاننا ضروری ہے کہ منصوبہ بندی کی دو صورتیں ہیں:
ا۔منعِ حمل:اس کو قطع نسل بھی کہتے ہیں،اس کا مطلب یہ ہے،کہ مرد یاعورت میں سے کوئی ایک  ایسا طریقہ اختیار کرے،جس سے بالکل توالد وتناسل کی قوت  ختم ہوجائے۔
ب۔تحدیدِ نسل:یعنی جب  آدمی کےبچےایک خاص عدد تک پہنچ جائیں،یا عورت مزید بچے جننے کی متحمل نہ  ہو،تو پھر  دوا یا کوئی اور ایسا مواد استعمال کرے،جس کے بعد بچے پیدا ہونابند ہوجائیں۔
ان میں سے پہلی قسم یعنی توالد اور تناسل کی صلاحیت کو ختم  کرناشرعا ناجائزاورحرام ہے،آپﷺنے انتہائی  سختی کے ساتھ اس سے منع فرمایاہے۔جبکہ دوسری  صورت  یعنی  جس میں کسی عذرِشرعی  کی وجہ سے سلسلہ ولادت ایک مدت تک  روک دیاجائے کی گنجائش ہے۔
اب آپ کے سوال کا جواب یہ ہے کہ اگرچہ  مذکورہ صورت میں میاں بیوی دونوں معذور ہیں،لیکن  پھر بھی ان کےلئے نسل کی صلاحیت ختم کرنا جائز نہیں ،تاہم وہ ایک عرصے کےلئے سلسلہ ولادت کو روک سکتے ہیں،پھر اگر عورت بچے جننےاور ان کی پرورش کی صلاحیت رکھتی ہے،تو ٹھیک ہے،بصورتِ دیگر دوبارہ منصوبہ بندی کرسکتی  ہے۔
في سنن ابن ماجه:عن سعد قال لقد رد رسول الله صلى الله عليه و سلم على عثمان بن مظعون التبتل . ولو أذن له لاختصينا[ ش ( التبتل ) هو الانقطاع عن النساء وترك النكاح للانقطاع إلى عبادة الله تعالى(باب النهي عن التبتل:1/ 593:ط:دارالفکر)
  في البحوث العلمية: الفرق بين منع الحمل وتنظيمه وتحديد النسل:
أ- منع الحمل : هو استعمال الوسائل التي يظن أنها تحول بين المرأة وبين الحمل ؛ كالعزل ، وتناول العقاقير ، ووضع اللبوس ونحوه في الفرج ، وترك الوطء في وقت الإخصاب ، ونحو ذلك .
ب- تحديد النسل : هو الوقوف بالإنسال عند الوصول إلى عدد معين من الذرية باستعمال وسائل يظن أنها تمنع من الحمل .(باب:تحديد النسل:ص: 3/ 133:ط:رئاسةإدارة البحوث العلمية والإفتاء)
وفي الفقه الاسلامي::وبناء عليه يجوز استعمال موانع الحمل الحديثة كالحبوب وغيرها لفترة مؤقتة، دون أن يترتب عليه استئصال إمكان الحمل، وصلاحية الإنجاب، قال الزركشي: يجوز استعمال الدواء لمنع الحبل في وقت دون وقت كالعزل، ولايجوز التداوي لمنع الحبل بالكلية. أو ربط عروق المبايض إذا ترتب عليه امتناع الحمل في المستقبل، والعبرة في ذلك لغلبة الظن، أي احتمال مافوق 50%. وكذلك الحكم في تعقيم الرجل(باب العزل: 4/ 194:ط:دارالفکر)

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب