سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-329 Fatwa no: 1447-329

دوکان میں حجامت والی مشین فروخت کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی کی دوکان ہے،جس میں وہ دیگر اشیاء کےساتھ ساتھ حجامت والی مشین ،اور سیگریٹ لگانے والا لائٹر(جو چارج ہوتا ہے)فروخت کرتا ہے،حجامت والی مشین میں کمائی اچھی ہے،اس وجہ سے وہ دوکان میں لاتاہے،لیکن سوال یہ پوچھنا ہے کہ کیا اس کی کمائی حلال ہے یاحرام ؟راہنمائی فرما کر ثوابِ دارین حاصل کریں۔
جواب :

واضح رہے کہ ہر اس چیز کی تجارت اور اس سے حاصل ہونے والا نفع حرام ہوتاہے،جس چیز کی بناؤٹ یا اس کا استعمال حرام ہی  میں ہوتا ہو،اسی طرح ہر وہ چیز کہ جس کا استعمال حلال اور حرام دونوں میں ہوتا ہے،لیکن فروخت کرنے  والااس کو حرام کام میں  استعمال ہی کی نیت سےفروخت   کرے،اس صورت میں بھی فروخت کرنے والا گناہ گار ہوگا،اور حاصل ہونے والا نفع حلال نہیں ہوگا۔ بصورتِ دیگر حلال ہوگا۔
بصورتِ مسئولہ چونکہ حجامت والی مشین اورسیگریٹ لگانے والا لائٹر کا استعمال صرف حرام کاموں کے ساتھ مختص نہیں ،اس لئے اس کی تجارت اورکمائی بھی حلال ہوگی،تاہم اس میں بھی احتیاط یہی ہے کہ اگر کسی کے بارے میں یقین ہوجائے،کہ وہ  اس کو حرام کا م ہی میں استعمال کرےگا،تو ایسے شخص کے ہاتھوں نہیں فروخت کرنا چاہئے،لیکن اگر فروخت کیا ،تو اس صورت میں بھی کمائی حرام نہیں ہوگی،زیادہ سے زیادہ اس میں کراہت ہوگی۔
قال الله تعالى:{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} [المائدة: 2]
في فقه البيوع:فالقسم الأول:ما وضع لغرض محظور...وذكر فيه الفقهاء آلات الملاهي المحظورة،ويقصدون بها آلات الموسيقي الممنوعة في المذاهب الاربعة...ويجوز بيع ألات الملاهي من البرط،والطبل،والمزمار ...عند أبي حنيفه،لكنه يكره،وعندهما لا ينعقد بيع هذه الأشياء...والظاهر أن الكراهة التي ذكرها الحنفية في بيعها قبل أفصلها تحريمية...
القسم الثاني ما وضع لمباح: أما لقسم الثاني فهو ما وضع لغرض مباح...فبيعه ممن يستعمله في مباح أو ممن لا يعلم منه أنه يستعمله في محظورجائز عند الجميع بدون كراهة...
القسم الثالث:ما وضع لأغراض عامة:
والقسم الثالث:ما وضع لأغراض عامة،ويمكن استعماله في حالته الموجودة في مباح أو غيره...والظاهر من مذهب الحنفية أنهم يجيزون بيع هذا القسم،وإن كان معظم منافعه محرما،ولذلك أجازوا بيع الدهن المتنجس...ولكن جواز البيع في هذه الأشياء بمعنى صحة العقد.أما الإثم فيتأتى فيه ما ذكرناه في شروط العاقد من أنه إذا كان يقصد به معصية ،بائع أو مشتريا،فالبيع يكره تحريما ،وذلك إما بنية في القلب،أو بالتصريح في العقاد.(2/305...313:ط:معارف القرأن)
وفيه ايضا:الاعانة علی المعصية حرام مطلقا بنص القرآن اعنی قوله تعالی: ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (المائدة:2) وقوله تعالی: فلن اکون ظھیرا للمجرمین (القصص:17) ولکن الاعانة حقیقته ما قامت المعصية بعین فعل المعین، ولا یتحقق الا بنية الاعانة او التصریح بها(1/185:ط:معارف الفران)

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب