سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-330 Fatwa no: 1447-330

سرکاری سکول کے استاد کا دینی مدرسے کے لئے تبادلے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک سرکاری سکول کا استاد پرائیویٹ سکول میں ڈیوٹی کےلئے مقررکردیاگیاہے،جو کہ مدرسہ کا سکول کہاجاتاہے،جبکہ تنخواہ گورنمنٹ ادا کررہی ہے،اورمدرسہ کےلئے یہ تبادلہ محکمہ ایجوکیشن کےبالا افسران نےکیاہے،جوکہ ڈائریکٹر ہے،اورڈپٹی ڈائریکٹر ہے،لیکن تبادلہ ضرورت یا مدد کےتحت ہواہے،جبکہ یہ سب قانونی نہیں ہے،غیرقانونی ہے،ایجوکیشن کا قانون نہیں ہے،کیا یہ تبادلہ شرعا درست ہے یانہیں؟ جواب مطلوب ہے۔
جواب :

واضح رہے کہ شریعت  حکومت ِوقت کی طرف سے مقرر کردہ قوانین کی پاسداری کرنے پرزور دیتی ہے،بشرطیکہ وہ قوانین شرعی احکامات سے  متصادم نہ ہوں۔
بصورتِ مسئولہ  چونکہ ڈائریکٹر کو گورنمنٹ کی طرف سے اس بات کی اجازت نہیں  ہوتی،کہ وہ کسی سرکاری سکول کےاستاد کو پرائیویٹ طلباء کےلئے متعین کرے(جیساکہ سوال میں مذکورہے)اس لئے اس کا شرعا ایسا کرناجائز  نہ ہوگا۔
نوٹ: مدرسے کی ضرورت پوری کرنےکےلئےکمیشنرفنڈ یادیگر کسی  فنڈ سے پرائویٹ استاد رکھا جائے تو بہتر ہے۔
قال الله تعالى: وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا       [الإسراء: 34]
قال الله تعالى:واطيعواالله ورسوله واولى الامر منكم.     (سورة النساء:الاية:59)
في رد المحتار: ولیس للخاص أن یعمل لغیرہ ، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل (کتاب الإجارۃ ،: ۹/۸۲)

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب