نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ شریعت حکومت ِوقت کی طرف سے مقرر کردہ قوانین کی پاسداری کرنے پرزور دیتی ہے،بشرطیکہ وہ قوانین شرعی احکامات سے متصادم نہ ہوں۔
بصورتِ مسئولہ چونکہ ڈائریکٹر کو گورنمنٹ کی طرف سے اس بات کی اجازت نہیں ہوتی،کہ وہ کسی سرکاری سکول کےاستاد کو پرائیویٹ طلباء کےلئے متعین کرے(جیساکہ سوال میں مذکورہے)اس لئے اس کا شرعا ایسا کرناجائز نہ ہوگا۔
نوٹ: مدرسے کی ضرورت پوری کرنےکےلئےکمیشنرفنڈ یادیگر کسی فنڈ سے پرائویٹ استاد رکھا جائے تو بہتر ہے۔
قال الله تعالى: وَأَوْفُوا بِالْعَهْدِ إِنَّ الْعَهْدَ كَانَ مَسْئُولًا [الإسراء: 34]
قال الله تعالى:واطيعواالله ورسوله واولى الامر منكم. (سورة النساء:الاية:59)
في رد المحتار: ولیس للخاص أن یعمل لغیرہ ، ولو عمل نقص من أجرته بقدر ما عمل (کتاب الإجارۃ ،: ۹/۸۲)
واللہ اعلم بالصواب
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
آپ کا داخلہ موقوف ہے۔ تفصیل جاننے کے لیے دفتر تعلیمات سے رابطہ کریں۔
!.Please complete the Captcha
نتیجہ ابھی دستیاب نہیں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔