سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-331 Fatwa no: 1447-331

سرمایہ کاری کےلئےبینک سےلون(قرضہ)لینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ میں اور میری ایک فرینڈ ،لون(قرضہ) کےلئے اپلائی کرنا چاہتے ہیں،پھر اس کو ایک آدمی کے ساتھ انوسمنٹ کرینگے،وہاں سے جو نفع وصول ہوگا،اسی کے ساتھ بینک کے انسٹال منٹ بھریں گے،آخر میں جاکر کل اماؤنٹ(کل رقم )بینک کو ادا ہوجائیگی،اس کا فائدہ یہ ہوگا،کہ بینک جو چارجز لےگا،وہ تھوڑا کم ہوگا،کیا ہمارا اس طرح کالون(قرضہ ) لینا شرعا جائز ہے یا نہیں؟وضاحت فرمائیں۔
جواب :

بصورتِ مسئولہ کسی بھی غرض سے بینک سے یا کسی شخص یا ادارے سے، سودی قرض لینا،چاہے وہ یومیہ اخراجات کے لئے ہو یاکاروبار کےلئے،ہر دو صورت میں ناجائز اور حرام ہے،سودی لین دین والوں کے ساتھ اللہ تعالی نے اعلانِ جنگ کیا ہے،اسی طرح آپ ﷺ نے سود کھانےاور کھلانے والوں،سودی معاملہ لکھنے یا اس پر گواہ بننے والوں پرلعنت فرمائی ہے،اس لئے اس جیسے معاملات سے خود بھی دور رہیں،اور دوسروں کو بھی دور کرنے کی کوشش کریں۔
قال الله تعالى:الَّذِينَ يَأْكُلُونَ الرِّبَا لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ الَّذِي يَتَخَبَّطُهُ الشَّيْطَانُ مِنَ الْمَسِّ ذَلِكَ بِأَنَّهُمْ قَالُوا إِنَّمَا الْبَيْعُ مِثْلُ الرِّبَا وَأَحَلَّ اللَّهُ الْبَيْعَ وَحَرَّمَ الرِّبَا فَمَنْ جَاءَهُ مَوْعِظَةٌ مِنْ رَبِّهِ فَانْتَهَى فَلَهُ مَا سَلَفَ وَأَمْرُهُ إِلَى اللَّهِ وَمَنْ عَادَ فَأُولَئِكَ أَصْحَابُ النَّارِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ (275) يَمْحَقُ اللَّهُ الرِّبَا وَيُرْبِي الصَّدَقَاتِ وَاللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ (276) إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ وَأَقَامُوا الصَّلَاةَ وَآتَوُا الزَّكَاةَ لَهُمْ أَجْرُهُمْ عِنْدَ رَبِّهِمْ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا هُمْ يَحْزَنُونَ (277) يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَذَرُوا مَا بَقِيَ مِنَ الرِّبَا إِنْ كُنْتُمْ مُؤْمِنِينَ (278) فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا فَأْذَنُوا بِحَرْبٍ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَإِنْ تُبْتُمْ فَلَكُمْ رُءُوسُ أَمْوَالِكُمْ لَا تَظْلِمُونَ وَلَا تُظْلَمُونَ (279) وَإِنْ كَانَ ذُو عُسْرَةٍ فَنَظِرَةٌ إِلَى مَيْسَرَةٍ وَأَنْ تَصَدَّقُوا خَيْرٌ لَكُمْ إِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُونَ (280) وَاتَّقُوا يَوْمًا تُرْجَعُونَ فِيهِ إِلَى اللَّهِ ثُمَّ تُوَفَّى كُلُّ نَفْسٍ مَا كَسَبَتْ وَهُمْ لَا يُظْلَمُونَ (281) } [البقرة: 275 - 281]
في سنن الترمذي :عن عبد الرحمن بن عبد الله بن مسعود عن ابن مسعود قال : لعن رسول الله صلى الله عليه و سلم آكل الربا وموكله وشاهده وكاتبه(باب آكل الربا: 3/ 512:ط:داراحياء التراث العربي)

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب