سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-332 Fatwa no: 1447-332

ضعیف مؤذن کےلئے مسجد کے فنڈ میں سے بغیر کام کے تنخواہ دینےکا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہماری مسجد کے ایک موذن نے پچاس سال سے زائد مسجد کی خدمت کی ہے،جس کے عوض اس کو تنخواہ ملتی رہی،اب جبکہ وہ ضعیف ہوگئے ہیں،اور مزید خدمت سے قاصر ہیں،تو مسجد کی کمیٹی نے یہ فیصلہ کیا ہے کہ مسجد کی ماہانہ آمدنی میں سے ان کو گھر بیٹھے ہرماہ مسجد کے فنڈ سے تنخواہ دی جائیگی۔اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا مسجد کی کمیٹی کےلئے اس کی اجازت ہے،کہ وہ مسجد کے فنڈ میں سے اس کے لئے تنخواہ دے۔ وضاحت فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ مسجد کےفنڈ میں سے ہر وہ کا م جائز ہے جو مسجدکے مصالح میں سے ہو ،بصورتِ دیگر نہیں۔ بصورتِ مسئولہ جب تک موذن صاحب مسجد میں خدمات انجام  دیتے رہے،اس وقت تک وہ مسجد کے فنڈ سے تنخواہ لینےکے مستحق تھے،اب سبکدوش ہونے کے بعد چونکہ  ان کو تنخواہ دینا مصالحِ مسجد میں سے نہیں ،اس لئے ان کو مسجد کے فنڈ سے تنخواہ دینا درست نہیں۔البتہ  چونکہ مؤذن صاحب نے ایک طویل عرصہ  مسجد کی خدمت کی ہے،اس لئے ان کو بھی بےسہار انہیں چھوڑنا چاہئے،لہذا مسجد کی کمیٹی کو چاہئے کہ اس غرض سے ایک الگ فنڈ قائم کریں،جس سے مؤذن یا معزول امام صاحب  کی خدمت کی جائے۔ان شاء اللہ  تعالی اس کا کمیٹی والوں کو دنیا اور آخرت دونوں میں صلہ ملےگا۔
في الفتاوى الهندية :الذي يبدأ من ارتفاع الوقف عمارته شرط الواقف أم لا ثم ما هو أقرب إلى العمارة وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد والمدرس للمدرسة يصرف إليهم بقدر كفايتهم كذا في السراج والبسط كذلك إلى آخر المصالح(كتاب الوقف: 2/ 368:ط:دارالفكر)
المحيط البرهاني :
في «فتاوي أبي الليث» أيضاً: مسجد له مستغلات وأوقاف، فأراد المتولي أن يفرش الآجر أو يشتري الحصير والدهن للمسجد أو ما أشبهه، أما فرش الأجر فله ذلك؛ لأنه من باب البناء، وأما شراء الدهن والحصير فلا، فحينئذ من ثلاثة أوجه: أما إن وسع الواقف ذلك على القيم بأن قال: يفعل القيم ما يرى من مصلحة المسجد وبنائه، وفي هذا الوجه له ذلك، وأما إن لم يوسع عليه وجعله لعمارة المسجد وبنائة وفي هذا الوجه ليس له ذلك، وأما إن لم يعرف شرط الواقف وفي هذا الوجه ينظر إلى من قبله إن كانوا يشترون منه الدهن والحصير والخشب له أن يفعل وما لا فلا، وقيل: ذكر المصلحة والعمارة وتركه سواء، ولا يتمكن المتولي من شراء الدهن والحصير.( 6/ 109:داراحياء التراث العربي)

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب