سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-29 Fatwa no: 1447-29

اجارے پر لی گئی زمین کو آگے اجارہ یا مزارعت پر دینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ: زید نے بکر سے اجارے پر پانچ سال کیلئے زمین لےلی دس من گندم کی اجرت پر، اب زید آگے عمرو کو نصف یا ثلث پر دےسکتا ہے یا نہیں ؟
جواب :

واضح رہے کہ عقد اجارہ میں مدت اجارہ ، اجرت کی مقدار اور منفعت کا متعین ہونا ضروری ہے، لہذاصورت مسئولہ  میں چونکہ مدت اجارہ،اجرت اور منفعت وغیرہ معلوم ہے تو مذکورہ عقد اجارہ درست ہےلہذا اجارہ پر لی گئی زمین آگے کسی اور کو اجارہ پردینا جائز ہے بشرطیکہ زیادہ سے زیادہ اسی اجرت کومتعین کیا جائے جو پہلے عقد اجارہ میں طے ہوئی ہے،اگر اس سے زیادہ اجرت مقرر کی گئی ہو اور وہ اجرت اجارہ اول کی جنس میں سے ہوتو اس زائد رقم کو صدقہ کرنا واجب ہے ،اسی طرح کسی اور کو بھی عقد مزارعت پر دینا  جائز ہے بشرطیکہ اس میں عقد مزارعت کے دیگر شرائط موجود ہوں۔
كما فى الهندية:
الأصل عندنا أن المستأجر يملك الإجارة فيما لا يتفاوت الناس في الانتفاع به... وإذا استأجر دارا وقبضها ثم آجرها فإنه يجوز إن آجرها بمثل ما استأجرها أو أقل، وإن آجرها بأكثر مما استأجرها فهي جائزة أيضا إلا إنه إن كانت الأجرة الثانية من جنس الأجرة الأولى فإن الزيادة لا تطيب له ويتصدق بها، وإن كانت من خلاف جنسها طابت له الزيادة.
(ألباب السابع في إجارة المستأجر،ج7،ص422،ط:رشيدية)
وفي ردالمحتارعلى الدالمختار:
وَشَرْطُهَا كَوْنُ الْأُجْرَةِ وَالْمَنْفَعَةِ مَعْلُومَتَيْنِ؛ لِأَنَّ جَهَالَتَهُمَا تُفْضِي إلَى الْمُنَازَعَةِ..... (وَيُعْلَمُ النَّفْعُ بِبَيَانِ الْمُدَّةِ كَالسُّكْنَى وَالزِّرَاعَةِ مُدَّةَ كَذَا) أَيَّ مُدَّةٍ كَانَتْ وَإِنْ طَالَتْ وَلَوْ مُضَافَةً كَآجَرْتُكَهَا غَدًاوَلِلْمُؤَجِّرِ بَيْعُهَا الْيَوْمَ، وَتَبْطُلُ الْإِجَارَةُ بِهِ يُفْتَى خَانِيَّةٌ.
(كتاب الإجارة،ج6،ص5،ط:ايچ ايم سعيد)
وفي فتح القدير:
(وَمَنْ اسْتَأْجَرَ أَرْضًا عَلَى أَنْ يَكْرُبَهَا وَيَزْرَعَهَا أَوْ يَسْقِيَهَا وَيَزْرَعَهَا فَهُوَ جَائِزٌ) ؛ لِأَنَّ الزِّرَاعَةَ مُسْتَحَقَّةٌ بِالْعَقْدِ، وَلَا تَتَأَتَّى الزِّرَاعَةُ إلَّا بِالسَّقْيِ وَالْكِرَابِ. فَكَانَ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا مُسْتَحَقًّا. وَكُلُّ شَرْطٍ هَذِهِ صِفَتُهُ يَكُونُ مِنْ مُقْتَضَيَاتِ الْعَقْدِ فَذِكْرُهُ لَا يُوجِبُ الْفَسَادَ.
 (باب الإجارة الفاسدة،ج9،ص112،ط:دارالفكر)
وفى البناية:
قال: ويجوز استئجار الأراضي للزراعة؛ لأنها منفعة مقصودة معهودة فيها. وللمستأجر الشرب والطريق وإن لم يشترط؛ لأن الإجارة تعقد للانتفاع، ولا انتفاع في الحال إلا بهما فيدخلان في مطلق العقد.
(استيجارالأراضي للزراعة،ج10،ص250،ط:دارالكتب العلمية)

Mufti

تاریخ جواب: 10 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 11 May 2026

واللہ اعلم بالصواب