نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ رقص کی دو قسمیں ہیں:
1۔جس میں تخنث اور تکسرہویعنی جس میں اعضاء کو نمایاں کیاجاتا ہو، اورمٹکایا جاتا ہو۔
2۔جو تخنث اور تکسر سے خالی ہو۔
ان میں سے پہلی قسم کی حرمت کے بارےمیں ائمۃ اربعہ میں سے کسی کا اختلاف نہیں ، سب کے نزدیک ناجائز اور حرام ہے،اورایسارقص کرنے والا بالاتفاق فاسق اور گناہ گار ہے۔
بعض حضرات نے امام شافعی ؒ کی طرف مطلقا رقص کی اباحت کا قول منسوب کیا ہے،جو کہ درست نہیں ہے،مسلک شافعی کے مشہورمحدث علامہ ابن حجر العسقلانیؒ نے اس کی سخت تردید کرتے ہوئےلکھاہےکہ: جس رقص میں تخنث اور تکسر ہو،دیگر مذاہب کی طرح امام شافعیؒ کے نزدیک بھی حرام اور ناجائزہے،چنانچہ ملاحظہ ہو:
في شعب الإيمان –للبيهقي:وأما الرقص فقد قال الحليمي رحمه الله فما كان فيه تثن وتكسر حتى يباين أخلاق الذكور فهو حرام على الرجال وهو شر من التصفيق وقد جعله رسول الله صلى الله عليه وسلم للنساء لا ينبغي للرجال أن يصفقوا فأولى أن لا يكون لهم الرقص الذي فيه من التخنث أعظم مما في التصفيق(فصل في ايات السجود: 5/ 245:دارالكتب العلمية)
في الدر المختار:ومن يستحل الرقص قالوا بكفره ولا سيما بالدف يلهو ويزمر(باب المرتد: 4/ 259:ط:دارالفکر)
في الموسوغة الكويتية:حُكْمُ الرَّقْصِ وَقَيَّدَ الشَّافِعِيَّةُ الإْبَاحَةَ بِمَا إِذَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ تَكَسُّرٌ كَفِعْل الْمُخَنَّثِينَ وَإِلاَّ حَرُمَ عَلَى الرِّجَال وَالنِّسَاءِ ، أَمَّا مَنْ يَفْعَلُهُ خِلْقَةً مِنْ غَيْرِ تَكَلُّفٍ فَلاَ يَأْثَمُ بِهِ .قَال فِي الرَّوْضِ : وَبِالتَّكَسُّرِ حَرَامٌ وَلَوْ مِنَ النِّسَاءِ (باب:حکم الرقص:23/9:ط:وزارةالاقاف:الکويت)
في بغية المسترشدين: أما ما هو بتكسر وتثنّ فحرام مطلقاً حتى على النساء(باب :مقدمة المؤلف: 1/605:ط:دارالفكر)
في الفقه الإسلامي وأدلته:وأما الرقص الذي يشتمل على التثني والتكسر والتمايل والخفض والرفع بحركات موزونة فهو حرام ومستحله فاسق.(باب الغناء والاته:4/ 213:ط:دارالفكر)
جہاں تک دوسری قسم کا تعلق ہے،یعنی جس میں تکسر اور تخنث نہ ہو،تواحناف اور مالکیہ کے نزدیک یہ بھی جائزنہیں ،جبکہ امام شافعیؒ کے صحیح قول کے مطابق مکروہ ہے،اور استادغزالی(جو عرب کے ایک مشہور عالم تھے) اوربعض دیگر حضرات سے اباحت کا قول منقول ہے۔
شیخ عبدالرحمن الجزری اپنی مشہور تالیف"الفقہ علی المذاھب الاربعۃ"میں لکھتے ہیں ،کہ استاد غزالی ؒ نے جن احادیث سے رقص کی اباحت پر استدلال کیا ہے،درحقیقت اس سےمراد وہ رقص ہے،جو شہوت ابھارنے والانہ ہو،بصورتِ دیگران کے نزدیک بھی جائزنہیں۔
صاحب سننِ بیہقی نےوہ احادیث،جن سے بعض حضرات نے رقص کے جواز پر مطلقا استدلال کیاہے" باب مَنْ رَخَّصَ فِى الرَّقْصِ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ تَكَسُّر وَتَخَنُّث"کے عنوان کے تحت ذکرکے اس بات کی طرف اشارہ کیا ہے،کہ جائزرقص وہ ہے،جو تخنث اور تکسر سے خالی ہو۔لہذا جس رقص میں اعضاء لچک داراورڈھیلے کئےجاتے ہیں ،وہ جائز نہیں ہے۔بہرحال عدمِ جواز ہی اولی ہے،کیونکہ عرف میں رقص نام ہی معیوب ہے۔
في بغية المسترشدين: وأما الرقص بلا تكسر وتثنّ فالذي اعتمده ابن حجر أنه مكروه ونقل عن بعض أصحابنا حرمته إن أكثر منه(باب :مقدمة المؤلف:: 1/605:ط:دارالفكر)
في الفقه على المذاهب الأربعة:وقد استدل الاستاذ الغزالي على إباحة الرقص : برقص الحبشة والزنوج في المسجد النبوي يوم عيد حيث أقرهم رسول الله صلى الله عليه و سلم وأباح لزوجه السيدة عائشة رضي الله عنه أن تتفرج عليهم وهي مستترة به صلى الله عليه و سلم وهوكما تعلم لا يثير أي شهوة فالنوع المباح من الرقص هو الذي لا يثير شهوة فاسدة(باب حكم الغناء: 2/ 42:ط:دارالفكر)
في السنن الكبرى للبيهقي:باب مَنْ رَخَّصَ فِى الرَّقْصِ إِذَا لَمْ يَكُنْ فِيهِ تَكَسُّرٍ وَتَخَنُّثٍ عَنْ أَبِى إِسْحَاقَ عَنْ هَانِئِ بْنِ هَانِئٍ عَنْ عَلِىٍّ رَضِىَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : أَتَيْنَا رَسُولَ اللَّهِ -صلى الله عليه وسلم- أَنَا وَجَعْفَرٌ وَزِيدٌ فَقَالَ لِزَيْدٍ :« أَنْتَ أَخُونَا وَمَوْلاَنَا ». فَحَجَلَ وَقَالَ لِجَعْفَرٍ :« أَشْبَهْتَ خَلْقِى وَخُلُقِى ».
فَحَجَلَ وَرَاءَ حَجْلِ زَيْدٍ ثُمَّ قَالَ لِى :« أَنْتَ مِنِّى وَأَنَا مِنْكَ ». فَحَجَلْتُ وَرَاءَ حَجْلِ جَعْفَرٍ. {ج} قَالَ الشَّيْخُ : هَانِئُ بْنُ هَانِئٍ لَيْسَ بِالْمَعْرُوفِ جِدًّا. {ق} وَفِى هَذَا إِنْ صَحَّ دَلاَلَةٌ عَلَى جَوَازِ الْحَجْلِ وَهُو أَنْ يَرْفَعَ رِجْلاً وَيَقْفِزَ عَلَى الأُخْرَى مِنَ الْفَرَحِ فَالرَّقْصُ الَّذِى يَكُونُ عَلَى مِثَالِهِ يَكُونُ مِثْلَهُ فِى الْجَوَازِ وَاللَّهُ أَعْلَمُ.(دائرة المعارف:: 10/ 226:ط)
اب اس تمہید کے بعد سوال میں پوچھاگیا مسئلہ ملاحظہ ہو:
ذکر یا عبادت کے وقت کسی قسم کا رقص مشروع نہیں ہے،جو حضرات عبادت یا ذکر کے دوران رقص کی مشروعیت پرمختلف قسم کے واقعات اور احادیث پیش کرتے ہیں سب من گھڑت اورخودساختہ ہیں ،عبادت کے دوارن آپﷺ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے کوئی رقص ثابت نہیں ہے،بعض حضرات عبادت کے دوران رقص کے جواز کو صوفیہ کی طرف منسوب کرتے ہیں،یہ درست نہیں ہےاس لئے کہ حافظ ابن حجر ؒاور دیگر کئی فقہائے کرام اہل حق صوفیہ کا مسلک نقل کرکے فرماتے ہیں:" اہل حق صوفیہ کے نزدیک رقص کرنا،ڈھول بجاناسراسر گمراہی ہے،اس کا اسلام کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہے،بلکہ اس کا موجِد سامری اور اس کے پیروکارہیں،،لہذا حاکم کو چاہئے،کہ ایسے لوگوں کو مسجد میں آنے سے روک دے،اورکسی کےلئے ان کے ساتھ مجلس میں شریک ہونااوران کےساتھ تعاون کرنا جائز نہیں ہے ،یہی امام ابوحنیفہ ؒ ،امام شافعی ؒ، امام مالک اوردیگر ائمہ مسلمین کا مسلک ہے۔
في بغية المسترشدين: ونقل ابن حجر عن الطرطوشي ما حاصله : أن مذهب السادة الصوفية أن الرقص وضرب الدف والشبابة بطالة وضلالة ، وما الإسلام إلا كتاب الله تعالى وسنة رسوله ، وأما الرقص والتواجد فأوّل من أحدثه أصحاب السامري حين اتخذ لهم العجل فقاموا يرقصون ويتواجدون...فينبغي للسلطان ونوابه أن يمنعوهم من الحضور في المساجد وغيرها ، ولا يحل لأحد يؤمن بالله واليوم الآخر أن يحضر معهم أو يعينهم على باطلهم ، هذا مذهب الشافعي ومالك وأبي حنيفة (باب :مقدمة المؤلف:: 1/605:ط:دارالفكر)
في عون المعبود:وفي كتاب المستطرف في مادة عجل نقل القرطبي عن سيدي أبي بكر الطرطوشي رحمهما الله تعالى أنه سئل عن قوم يجتمعون في مكان فيقرؤن من القرآن ثم ينشد لهم الشعر فيرقصون ويطربون ثم يضرب لهم بعد ذلك بالدف والشبابة هل الحضور معهم حلال أم حرام فقال مذهب الصوفية أن هذه بطالة وجهالة وضلالة وما الإسلام إلا كتاب الله وسنة رسوله وأما الرقص والتواجد فأول من أحدثه أصحاب السامري لما اتخذوا العجل فهذه الحالة هي عبادة العجل وإنما كان النبي صلى الله عليه و سلم مع أصحابه في جلوسهم كأنما على رؤسهم الطير مع الوقار والسكينة فينبغي لولاة الأمر وفقهاء الإسلام أن يمنعوهم من الحضور في المساجد وغيرها ولا يحل لأحد يؤمن بالله واليوم الآخر أن يحضر معهم ولا يعينهم على باطلهم(باب كراهية الغناء:ص: 13/ 187:دارالكتب العلمية)
آج کل بھی بعض لوگ اپنے آپ کو تصوف کی طرف منسوب کرتے ہیں ،ان کی مجالس ساز،رقص اور گانے بجانے پر مشتمل ہوتی ہیں،بتکلف وجد میں آنےاورگریبان پھاڑنےکو تصوف کی روح سمجھتے ہیں،درحقیقت ان کا تصوف سے کوئی تعلق نہیں ،ان کے مذکورہ افعال سراسر گمراہی اورناجائز ہیں،چنانچہ ابن عابدین ؒ کی شہرآفاق کتاب"رد المحتار" اور"الموسوعۃ الفقہیۃ الکویتیۃ" میں ان جیسے لوگوں کے بارے میں مذکور ہے:
جس کا خلاصہ یہ ہے،کہ قرآن مجید کی تلاوت۔۔۔اور ذکرکے دوران آواز بلند کرنے کو مکروہ کہا گیا ہے،تو آپ کا کیا خال ہے، اس گانے بجانے کے بارے میں جس کو یہ لوگ "وجد"اور"محبت" سے تعبیر کرتے ہیں۔
"جوہرہ" میں منقول ہے،کہ جو کچھ آج کل کے صوفیاء حضرات کرتے ہیں(رقص،گانے وغیرہ)،حرام ہے،ان کے ساتھ بیٹھنا بھی جائز نہیں،پہلے صوفیاء ایسا نہیں کرتے تھے۔
"وفي الملتقى وعن النبي أنه كره رفع الصوت عند قراءة القرآن...والتذكير فما ظنك به عند الغناء الذي يسمونه وجدا ومحبة فإن مكروه لا أصل له في الدين . قال الشارح زاد في الجوهرة وما يفعله متصوفة زماننا حرام لا يجوز القصد والجلوس إليه ومن قبلهم لم يفعل كذلك(فرع: 6/ 349:ط:دارالفكر)
في البحر الرائق:وقال الْإِمَامُ شَمْسُ الْأَئِمَّةِ السَّرَخْسِيُّ فَفِي هذا الحديث بَيَانُ كَرَاهَةِ رَفْعِ الصَّوْتِ عِنْدَ سَمَاعِ الْقُرْآنِ وَالْوَعْظِ فَتَبَيَّنَ بِهِ أَنَّ ما يَفْعَلُهُ الَّذِينَ يَدَّعُونَ الْوَجْدَ وَالْمَحَبَّةَ مَكْرُوهٌ لا أَصْلَ له في الدِّينِ وَتَبَيَّنَ بِهِ أَنَّهُ يُمْنَعُ الْمُتَقَشِّفَةُ وحمقاء ( ( ( وحمقى ) ) ) أَهْلِ التَّصَوُّفِ مِمَّا يَعْتَادُونَهُ من رَفْعِ الصَّوْتِ وَتَمْزِيقِ الثِّيَابِ عِنْدَ السَّمَاعِ لِأَنَّ ذلك مَكْرُوهٌ في الدِّينِ عِنْدَ سَمَاعِ الْقُرْآنِ وَالْوَعْظِ فما ظَنُّك عِنْدَ سَمَاعِ الْغِنَاءِ(كتاب السير:ص: 5/ 82:ط:دارالمعرفة)
في الموسوعة الكويتية:الرَّقْصُ وَالدَّوَرَانُ وَالطَّبْل وَالزَّمْرُ عِنْدَ الذِّكْرِ :
43 - يَزِيدُ بَعْضُ أَهْل الْبِدَعِ عِنْدَ الذِّكْرِ عَلَى مَا تَقَدَّمَ أُمُورًا أُخْرَى ، قَال الشَّاطِبِيُّ : يَا لَيْتَهُمْ وَقَفُوا عِنْدَ هَذَا الْحَدِّ الْمَذْمُومِ ، وَلَكِنَّهُمْ زَادُوا عَلَى ذَلِكَ الرَّقْصَ وَالزَّمْرَ وَالدَّوَرَانَ وَالضَّرْبَ عَلَى الصُّدُورِ ، وَبَعْضُهُمْ يَضْرِبُ عَلَى رَأْسِهِ ، وَمَا أَشْبَهَ ذَلِكَ مِنَ الْعَمَل الْمُضْحِكِ لِلْحَمْقَى ، لِكَوْنِهِ مِنْ أَعْمَال الصِّبْيَانِ وَالْمَجَانِينِ ، الْمُبْكِي الْعُقَلاَءِ ، رَحْمَةً لَهُمْ ، إِذْ لَمْ يُتَّخَذْ مِثْل هَذَا طَرِيقًا إِلَى اللَّهِ وَتَشَبُّهًا بِالصَّالِحِينَ(باب :مقدمة المؤلف: 1/605:ط:دارالفكر)
احادیث سے جواب:۔
باقی ایک دو احادیث جن میں "رقص" کا لفظ آیا ہے،ان حضرات کا اس طرح عمومی استدلال بالکل درست نہیں،کیونکہ ایک روایت جس میں حبشیوں کے ر قص کا ذکر ہے،تو اس کے بارے میں امام نوویؒ نے لکھا ہے،کہ وہ نیزوں اور اسلحوں کے ساتھ اچھل کودنا،اورکھیلنا تھا۔(لہذا اسی ایک روایت سے رقص کے جواز پر،پھر خاص کر عبادت و ریاضت کے دوران سمجھ سے بالاتر ہے۔
دوسری روایت جس میں حضرت علی ،حضرت جعفر اورحضرت زید کا تذکرہ ہے،اس سے بھی رقص پر استدلال درست نہیں،کیونکہ اس میں لفظ"حجل"آیاہے،اور حجل کا معنی ہے،کہ خوشی کی وجہ سے ایک پاؤں اٹھا کرچلنا یاچھلانگ لگانا(لہذا ان رویات سے رقص کے جواز پر یا پھر دف بجانے کے جواز پر استدلال درست نہیں۔
خلاصہ کلام:
مذکورہ بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ شریعت میں رقص کی گنجائش نہیں ہے،جو لوگ عبادت کے دوران بتکلف رقص کرتے ہیں ،سازبجاتے ہیں،گریبان چاک کرتے ہیں،ان کے یہ افعال نا جائزاورحرام ہیں ،احادیث مبارکہ اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے اس کاکوئی ثبوت نہیں ہے ،لہذا اس قسم کی مجالس میں جانا،ان کے ساتھ کسی قسم کا تعاون کرنا شرعاجائز نہیں ہے۔
البتہ جن لوگوں سے ذکر یا عبادت کے دوران بلااختیار اس طرح کی حرکات صادر ہوجائیں،جس کو وجد کہتے ہیں ،تووہ بلاشبہ معاف ہیں،جیساکہ" مراقی الفلاح "میں مذکورہے۔
"وفي مجمع الأنهر عن التسهيل الوجد مراتب وبعضه يسلب الاختيار فلا وجه لمطلق الإنكار وفي التتارخانية ما يدل على جوازه للمغلوب الذي حركاته كحركات المرتعش"(فصل:في صفة الاذكار: 215:ط:المطبعة الكبرى)
Mufti
تاریخ جواب: 16 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔