سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-334 Fatwa no: 1447-334

عیسائیوں کی شادی میں شرکت کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ کیا عیسائیوں کی شادی میں شرکت کےلئے چرچ یا ان کےگھر جاناشرعا جائز ہے یانہیں؟تفصیلی جواب مرحمت فرمائیں۔
جواب :

غیر مسلم جو بھی ہو،ان کےساتھ دلی محبت تو کسی صورت میں بھی جائز نہیں، قرآن مجید کی کئی آیات اورآپﷺ کی کئی احادیث مبارکہ سے یہ بات واضح طور پرثابت ہے،چنانچہ اللہ تعالی کا ارشاد ہے"اے ایمان والو!تم میرے دشمن اور اپنے دشمن کو دوست مت بناؤ"اسی طرح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار کے ساتھ مشابہت سےبھی  منع فرمایا ہے،جوکہ  محبت کی ایک دلیل ہوتی ہے،البتہ  کفار کےساتھ معاملات کرنے کی گنجائش ہے،ان کے ساتھ خوش اخلاقی سے پیش آنے سے شرعا کوئی امر مانع نہیں،خاص طور پر جب اس رویہ کامقصد ان کو اسلام کی طرف مائل کرنا ہو۔
جہاں تک ان کی شادی بیاہ یا دیگر تقریبات میں شرکت کا حکم ہے،اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگر ان تقریبات میں  خلافِ شرع امور نہ ہوتے ہوں،تو پھر ان میں شرکت کی گنجائش ہے بصورتِ دیگر نہیں۔آج کل چونکہ غیر مسلموں کی شادی ،چاہے عیسائی ہو یاہندو عموما شراب نوشی،ڈھول  باجے،مرد وخواتین کا  اختلاط،نیز اور کئی سارے مفاسد پر مشتمل ہوتی ہے ،اس لئے ان میں جانے اور شرکت  کرنے سے احترازکیا جائے۔
قال الله تعالى: 
يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَتَّخِذُوا عَدُوِّي وَعَدُوَّكُمْ أَوْلِيَاءَ تُلْقُونَ إِلَيْهِمْ بِالْمَوَدَّةِ وَقَدْ كَفَرُوا بِمَا جَاءَكُمْ مِنَ الْحَقِّ} [الممتحنة: 1]
قال الله تعالى:
 لَا يَنْهَاكُمُ اللَّهُ عَنِ الَّذِينَ لَمْ يُقَاتِلُوكُمْ فِي الدِّينِ وَلَمْ يُخْرِجُوكُمْ مِنْ دِيَارِكُمْ أَنْ تَبَرُّوهُمْ وَتُقْسِطُوا إِلَيْهِمْ إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ الْمُقْسِطِينَ} [الممتحنة: 8]
في سنن أبى داود 
:عن ابن عمر قال قال رسول الله -صلى الله عليه وسلم- « من تشبه بقوم فهو منهم ».(4/ 78)دارالكتاب العربي)
وفي حاشية بن عابدين:
وفي التتارخانية عن الينابيع: لو دعي إلى دعوة فالواجب الإجابة إن لم يكن هناك معصية ولا بدعة والامتناع أسلم في زماننا إلا إذا علم يقيناً أن لا بدعة ولا معصية اهـ والظاهر حمله على غير الوليمة لما مر ويأتي تأمل (قوله: وثمة لعب) بكسر العين وسكونها والغناء بالكسر ممدوداً السماع ومقصوراً اليسار (قوله: لاينبغي أن يقعد) أي يجب عليه، قال في الاختيار: لأن استماع اللهو حرام والإجابة سنة والامتناع عن الحرام أولى(6/348:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 16 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب