نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ ہنڈی والے کا شخصِ مذکور کی طرف سے فی الفور ادائیگی کرنا درحقیقت اس کو قرض دینا ہی ہے،اور قرض پر اضافی رقم وصول کرنا سود کے زمرے میں آتا ہے،اس لئے فریقین کا یہ معاہدہ شرعا درست نہیں ،لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔البتہ مطلوبہ ضرورت پورا کرنے کےلئے یہ طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے،کہ ہنڈی والا پولٹری فارم سے مرغی اپنے لئے خریدلے، پھر چاہے بذات خود خریدلے یاشخص مذکور کو خریدنے کا وکیل بنائے،جب وکیل کا قبضہ تام ہوجائے،(جو درحقیقت ہنڈی والے ہی کا قبضہ ہے)تو اس کے بعد ہنڈی والا اس کے ساتھ ایجاب وقبول کرکے مرغی نفع کےساتھ اس کو فروخت کردے،اور شخص مذکور بےشک ادائیگی بعد میں کرے،تاہم اس صورت میں یہ ضروری ہے،کہ جب تک ہنڈی والےنے باقاعدہ ایجاب اور قبول کرکے مرغی فروخت نہ کی ہو،اس وقت اسی کی ملکیت میں ہونگی،لہذا اگر اس وقت میں وہ ہلاک ہوگئیں،تو نقصان ہنڈی والے کا ہوگا،البتہ قبضہ دینےکے بعد اس کا ذمہ فارغ ہوجائےگا۔
وفي فقه البيوع:أما السؤال الثاني المتعلق بانتقال ضمان المبيع من البائع إلى المشتري،فإن المعروف في الأعراف التجارية الدولية،أن المشتري أو وكيله إن كان موجودا عندالبائع ليتسلم المبيع منه،فإن ضمان المبيع ينتقل من البائع إلى المشتري فور ما يخلى البائع بين البضاعة وبين المشتري.وهذا موافق لمذهب الحنفية الذين يعتبرون التخلية من البائع قبضا ناقلا للضمان إلى المشتري،ولا يشترطون القبض بالبراجم أو الكيل أوالعد،كما مر في مبحث القبض.(2/1056:مكتبةمعارف القرأن)
في المعائير الشرعية:ألأصل أن تشتري المؤسسة السلعة بنفسها مباشرة من البائع،ويجوز لها ذلك عن طريق وكيل غير الأمر بالشراء،ولا تلجأ لتوكيل العميل(الأمر بالشراء)إلا عند الحاجة الملحة. ولايتولى الوكيل البيع لنفسه،بل تبيعه المؤسسة بعد تملكها العين.(رقم المعيار:8:ص:210)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔