سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-336 Fatwa no: 1447-336

قرض دےکرنفع وصول کرنے کی ایک صورت

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک آدمی مرغی فروخت کرتا ہے،کبھی وہ پولٹری فارم سے رابطہ کرکے مرغی خریدتاہے،اس کے پاس فی الحال اتنی رقم نہیں ہوتی ،اس لئے وہ کسی ہنڈی والے سے معاہدہ کرتاہے، کہ آپ پولٹری فارم کے لئے ادائیگی کرینگے،اور بعد میں مثلا ہرایک لاکھ پر میں آپ کو تین سو یا پانچ سو روپے نفع دونگا،اس میں ہنڈی والا یہ بھی ذمہ داری اٹھاتا ہےکہ اگر ادائیگی میں تاخیر یا کمی کوتاہی ہوئی اور اس کی وجہ سے کچھ نقصان ہوا،تو میں ذمہ دار ہوں گا،اب پوچھنا یہ ہے کہ کیا فریقین کا آپس میں یہ معاہدہ شرعا درست ہے یانہیں ؟ اور اگر نہیں تو جواز کی کیا صورت ہوسکتی ہے،اس لئے کہ چار پانچ دن کےلئے کوئی پندرہ بیس لاکھ کا قرض نہیں دیتا۔
جواب :

بصورت مسئولہ ہنڈی والے کا شخصِ مذکور کی طرف سے فی الفور ادائیگی کرنا  درحقیقت اس کو قرض دینا ہی ہے،اور قرض پر اضافی رقم وصول کرنا سود کے زمرے میں آتا ہے،اس لئے فریقین کا یہ معاہدہ شرعا درست نہیں ،لہذا اس سے اجتناب ضروری ہے۔البتہ مطلوبہ ضرورت پورا کرنے کےلئے یہ طریقہ اختیار کیا جاسکتا ہے،کہ ہنڈی والا پولٹری فارم سے مرغی اپنے لئے خریدلے، پھر  چاہے بذات خود خریدلے یاشخص مذکور کو خریدنے کا وکیل بنائے،جب وکیل کا قبضہ تام ہوجائے،(جو درحقیقت ہنڈی والے ہی کا قبضہ ہے)تو اس کے بعد ہنڈی والا اس کے ساتھ ایجاب وقبول کرکے مرغی  نفع کےساتھ اس کو فروخت کردے،اور شخص مذکور بےشک ادائیگی بعد میں کرے،تاہم اس صورت میں یہ ضروری ہے،کہ جب تک ہنڈی والےنے باقاعدہ ایجاب اور قبول کرکے مرغی فروخت نہ کی ہو،اس وقت اسی کی ملکیت  میں ہونگی،لہذا  اگر اس وقت میں وہ  ہلاک ہوگئیں،تو نقصان ہنڈی والے کا ہوگا،البتہ قبضہ دینےکے بعد اس کا ذمہ فارغ ہوجائےگا۔
وفي فقه البيوع:أما السؤال الثاني المتعلق بانتقال ضمان المبيع من البائع إلى  المشتري،فإن المعروف في الأعراف التجارية الدولية،أن المشتري أو وكيله إن كان موجودا عندالبائع ليتسلم المبيع منه،فإن ضمان المبيع ينتقل من البائع إلى المشتري فور ما يخلى البائع بين البضاعة وبين المشتري.وهذا موافق لمذهب الحنفية الذين يعتبرون التخلية من البائع قبضا ناقلا للضمان إلى المشتري،ولا يشترطون القبض بالبراجم أو الكيل أوالعد،كما مر في مبحث القبض.(2/1056:مكتبةمعارف القرأن)
في المعائير الشرعية:ألأصل أن تشتري المؤسسة السلعة بنفسها مباشرة من البائع،ويجوز لها ذلك عن طريق وكيل غير الأمر بالشراء،ولا تلجأ  لتوكيل العميل(الأمر بالشراء)إلا عند الحاجة الملحة. ولايتولى الوكيل البيع لنفسه،بل تبيعه المؤسسة بعد تملكها العين.(رقم المعيار:8:ص:210)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب