سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-337 Fatwa no: 1447-337

بغیر تحقیق کے کسی کوقادیانی کہنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیافرماتے ہیں علماء کرام اور مفتیان عظام اس مسئلہ کے بارے میں! کہ ایک خاندان علی الاعلان پرنٹ میڈیا ، ایکٹرانک میڈیا، اور سوشل میڈیا پر، انفرادی اور اجتماعی، زبانی اور تحریری یہ علان کرتا ہے کہ وہ حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ جو حضرت عبداللہ کے گھر مکہ مکرمہ میں حضرت آمنہ کے بطن سے پیدا ہوئے ہیں۔ جس نے مکہ مکرمہ میں تیرہ سال اور مدنیہ منورہ میں دس سال نبوت کی زندگی گزاری ہیں۔جو حضرت خدیجہؓ ، حضرت عائشہؓ اور دیگر ازدواج مطہرات کے شوہر ہیں ہی کو آخری نبی مانتاہے۔ آپﷺ کی زندگی میں یا آپﷺ کی رحلت کے بعد جو بھی جس نام سے نبوت کا دعویٰ کر چکا ہے۔ اس کو کذاب دجال ، کافر اور مرتد مانتاہے ۔قادیانی لاہوری اور احمدیوں کو دائرہ اسلام سے خارج مرتد اور دجال سمجھتا ہے مگر اس کے باوجود بھی بعض لوگ اس خاندان کو قادیانی کہتے ہیں۔یہ خاندان ایک شہر میں آباد ہےاور تقریبا ۵۰ سال کا عرصہ اسی شہر میں گزار چکا ہے۔ کسی ایک فرد کو بھی انہوں نے اس قسم کی کوئی دعوت نہیں دی بلکہ ان کا کہنا ہے کہ ختم نبوت پر ہماری جان مال سب کچھ قربان ہو۔ ہم سید خاندان سے تعلق رکھتے ہیں۔ ہمارا سلسلہ حضرت علی کرم اللہ وجہ سے ملتا ہے۔ہم صرف پیری فقیری کی زندگی گزارتے ہیں۔اہل سنت والجماعت مسلک حنفی کے پیروکار ہیں۔ اب سوال یہ ہے کہ ان کو قادیانی کہنا قرآن و سنت کی روشنی میں کیا صحیح ہے؟ اگر نہیں توجو لوگ ان کو قادیانی کہتے ہیں ان کا کیا حکم ہے؟
جواب :

چونکہ مذکورہ مسئلہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے اس لئے اس کو قدرِ تفصیل سے سمجھنے کی ضرورت ہے،لہذا اصل مسئلہ سمجھنے سے پہلے چند تمہیدی باتیں ملاحظہ ہوں۔
1۔"مسلمان"-جو شخص زبان سے اللہ تعالی کے ایک ہونے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا اقرار کرتا ہو،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے ظاہری اعمال (نماز،روزہ ،زکوٰۃ اورحج وغیرہ )کوماننے کےساتھ ساتھ ادا کرنے کا بھی اہتمام کرتاہو،شریعت کی اصطلاح میں اسے مسلمان کہا جاتاہے۔
2-"کافر"شریعت نے جن چیزوں(اللہ تعالی کی ذات وصفات پر ،فرشتوں  پر،تمام آسمانی کتابوں پر،تمام پیغمبروں  پر،خیراورشر کی تقدیر پر،آخرت کے دن پر) پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے،ان میں سے کسی  ایک کو نہ ماننا یا اس کا انکار کرنا،اسی طرح  جو احکامات قطعی طور پرقرآن و حدیث سے  ثابت ہیں،ان میں سےکسی  ایک کا انکار کرنا کفر ہے اور اس اعتقاد رکھنے والے کو کافر کہا جاتاہے۔
3- کسی مسلمان کو صرف شک وشبہ کی بنیاد پر اسلام سے خارج قرار دینا یااس کے خلاف پروپیگنڈا کرنا شرعا وقانوناایک انتہائی  سنگین جرم ہے۔بغیر تحقیق  کےکسی مسلمان کو کافر کہنے یا دائرہ اسلام سے خارج کرنے  پربندہ خود اسلام سے خارج ہوجاتاہے۔
ان تمہیدات کے بعد اصل مسئلہ کا جواب  ملاحظہ ہو۔
بصورت مسئولہ اگر آپ کا بیان درست ہےیعنی  مذکورہ خاندان اللہ تعالی کو ذات وصفات میں یکتا ماننے کےبعد،سوال میں  ذکرکردہ صفات کےساتھ  حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی کوآخری  نبی مانتا ہو،آپ صلی اللہ کے بعد نبوت کا دعوی کرنے والے کو کافر سمجھتا ہو،قادیانیوں  اوراحمدیوں کو دائرہ اسلام سے خارج  سمجھتا ہو،اور ان سب باتوں کا برملا اعلان بھی کرتا ہو،تو یہ خاندان بلاشبہ مسلمان ہیں،لہذا اس کو کسی شک وشبہ کی بنیاد پر قادیانی کہہ کراسلام سے خارج  قراردینا انتہائی   سنگین جرم  ہے،کسی مسلمان کو کافر قرار دینے کے بارے میں احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں آئی ہیں،چنانچہ  ارشاد گرامی ہے" إذا قال الرجل لصاحبه يا كافر فإنها تجب على أحدهما فإن كان الذي قيل له كافر فهو كافر وإلا رجع إليه ما قال"حدیث شریف کا مفہوم یہ ہےکہ جب کوئی آدمی دوسرے آدمی کو  کافر کہتا ہے،تو ان   دونوں میں سے ایک کافر ہوگا، یا تو جس کو کافر کہا گیا ہے، وہ کافر ہوگا،اگر وہ کافر نہ ہو(بلکہ مسلمان ہو)تو پھر کہنے والا کافر ہوگا-
لہذا تکفیر کے مسئلہ میں حد درجہ  کا احتیاط کرنا چاہئے،کسی معمولی سے شک وشبہ کی بنیاد پر  کسی کو کافر قراردینے سے قطعا احتراز کرنا چاہئے،بلکہ کوشش تو یہ کرنی چاہئے کہ قادیانیوں اوراحمدیوں کی شبہات  کا ازالہ کرکےمسلما ن کیاجائے،یہ  نہیں کہ کسی مومن یا مسلمان کو کسی شک وشبہ یا ذاتی رنجش کی بنیاد پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دیاجائے۔
لہذا اگرسائل کاتعلق اسی خاندان سے ہے،تو وہ بذات خود اور اگر اسی خاندان سے نہیں ،تو اس خاندان کو اس بات  پر آمادہ کرے کہ وہ  علاقہ کے چیدہ اوراثررسوخ رکھنے والے  علمائے کرام  کےسامنے اپنا مقدمہ رکھے،اوران کےسامنے اپنی صفائی پیش کرے۔امید یہ ہے،کہ اس سے ان کی پریشانی حل ہوجائی گی۔
قال الله تعالى:{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا} [النساء: 94]
وفي مسند أحمد :
عن عبد الله بن دينار سمعت ابن عمر يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال إذا قال الرجل للرجل يا كافر فقد باء به أحدهما إن كان كما قال وإلا رجعت على الآخر (9/ 73)
في الفتاوى الهندية :
ولو قال لمسلم أجنبي يا كافر أو لأجنبية يا كافرة ولم يقل المخاطب شيئا أو قال لامرأته يا كافرة ولم تقل المرأة شيئا أو قالت المرأة لزوجها يا كافر ولم يقل الزوج شيئا كان الفقيه أبو بكر الأعمش البلخي يقول يكفر هذا القائل وقال غيره من مشايخ بلخ رحمهم الله تعالى لا يكفر والمختار للفتوى في جنس هذه المسائل أن القائل بمثل هذه المقالات إن كان أراد الشتم 

ولا يعتقده كافرا لا يكفر وإن كان يعتقده كافرا فخاطبه بهذا بناء على اعتقاده أنه كافر يكفر.(باب:ومنها ما يتعلق بالحلال والحرام: (2/ 278:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب