نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںچونکہ مذکورہ مسئلہ انتہائی حساس نوعیت کا ہے اس لئے اس کو قدرِ تفصیل سے سمجھنے کی ضرورت ہے،لہذا اصل مسئلہ سمجھنے سے پہلے چند تمہیدی باتیں ملاحظہ ہوں۔
1۔"مسلمان"-جو شخص زبان سے اللہ تعالی کے ایک ہونے اورآپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آخری نبی ہونے کا اقرار کرتا ہو،آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بتائے ہوئے ظاہری اعمال (نماز،روزہ ،زکوٰۃ اورحج وغیرہ )کوماننے کےساتھ ساتھ ادا کرنے کا بھی اہتمام کرتاہو،شریعت کی اصطلاح میں اسے مسلمان کہا جاتاہے۔
2-"کافر"شریعت نے جن چیزوں(اللہ تعالی کی ذات وصفات پر ،فرشتوں پر،تمام آسمانی کتابوں پر،تمام پیغمبروں پر،خیراورشر کی تقدیر پر،آخرت کے دن پر) پر ایمان لانے کا حکم دیا ہے،ان میں سے کسی ایک کو نہ ماننا یا اس کا انکار کرنا،اسی طرح جو احکامات قطعی طور پرقرآن و حدیث سے ثابت ہیں،ان میں سےکسی ایک کا انکار کرنا کفر ہے اور اس اعتقاد رکھنے والے کو کافر کہا جاتاہے۔
3- کسی مسلمان کو صرف شک وشبہ کی بنیاد پر اسلام سے خارج قرار دینا یااس کے خلاف پروپیگنڈا کرنا شرعا وقانوناایک انتہائی سنگین جرم ہے۔بغیر تحقیق کےکسی مسلمان کو کافر کہنے یا دائرہ اسلام سے خارج کرنے پربندہ خود اسلام سے خارج ہوجاتاہے۔
ان تمہیدات کے بعد اصل مسئلہ کا جواب ملاحظہ ہو۔
بصورت مسئولہ اگر آپ کا بیان درست ہےیعنی مذکورہ خاندان اللہ تعالی کو ذات وصفات میں یکتا ماننے کےبعد،سوال میں ذکرکردہ صفات کےساتھ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو اللہ تعالی کوآخری نبی مانتا ہو،آپ صلی اللہ کے بعد نبوت کا دعوی کرنے والے کو کافر سمجھتا ہو،قادیانیوں اوراحمدیوں کو دائرہ اسلام سے خارج سمجھتا ہو،اور ان سب باتوں کا برملا اعلان بھی کرتا ہو،تو یہ خاندان بلاشبہ مسلمان ہیں،لہذا اس کو کسی شک وشبہ کی بنیاد پر قادیانی کہہ کراسلام سے خارج قراردینا انتہائی سنگین جرم ہے،کسی مسلمان کو کافر قرار دینے کے بارے میں احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں آئی ہیں،چنانچہ ارشاد گرامی ہے" إذا قال الرجل لصاحبه يا كافر فإنها تجب على أحدهما فإن كان الذي قيل له كافر فهو كافر وإلا رجع إليه ما قال"حدیث شریف کا مفہوم یہ ہےکہ جب کوئی آدمی دوسرے آدمی کو کافر کہتا ہے،تو ان دونوں میں سے ایک کافر ہوگا، یا تو جس کو کافر کہا گیا ہے، وہ کافر ہوگا،اگر وہ کافر نہ ہو(بلکہ مسلمان ہو)تو پھر کہنے والا کافر ہوگا-
لہذا تکفیر کے مسئلہ میں حد درجہ کا احتیاط کرنا چاہئے،کسی معمولی سے شک وشبہ کی بنیاد پر کسی کو کافر قراردینے سے قطعا احتراز کرنا چاہئے،بلکہ کوشش تو یہ کرنی چاہئے کہ قادیانیوں اوراحمدیوں کی شبہات کا ازالہ کرکےمسلما ن کیاجائے،یہ نہیں کہ کسی مومن یا مسلمان کو کسی شک وشبہ یا ذاتی رنجش کی بنیاد پر دائرہ اسلام سے خارج قرار دیاجائے۔
لہذا اگرسائل کاتعلق اسی خاندان سے ہے،تو وہ بذات خود اور اگر اسی خاندان سے نہیں ،تو اس خاندان کو اس بات پر آمادہ کرے کہ وہ علاقہ کے چیدہ اوراثررسوخ رکھنے والے علمائے کرام کےسامنے اپنا مقدمہ رکھے،اوران کےسامنے اپنی صفائی پیش کرے۔امید یہ ہے،کہ اس سے ان کی پریشانی حل ہوجائی گی۔
قال الله تعالى:{يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا ضَرَبْتُمْ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَتَبَيَّنُوا وَلَا تَقُولُوا لِمَنْ أَلْقَى إِلَيْكُمُ السَّلَامَ لَسْتَ مُؤْمِنًا تَبْتَغُونَ عَرَضَ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا فَعِنْدَ اللَّهِ مَغَانِمُ كَثِيرَةٌ كَذَلِكَ كُنْتُمْ مِنْ قَبْلُ فَمَنَّ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَتَبَيَّنُوا إِنَّ اللَّهَ كَانَ بِمَا تَعْمَلُونَ خَبِيرًا} [النساء: 94]
وفي مسند أحمد :
عن عبد الله بن دينار سمعت ابن عمر يحدث عن النبي صلى الله عليه وسلم أنه قال إذا قال الرجل للرجل يا كافر فقد باء به أحدهما إن كان كما قال وإلا رجعت على الآخر (9/ 73)
في الفتاوى الهندية :
ولو قال لمسلم أجنبي يا كافر أو لأجنبية يا كافرة ولم يقل المخاطب شيئا أو قال لامرأته يا كافرة ولم تقل المرأة شيئا أو قالت المرأة لزوجها يا كافر ولم يقل الزوج شيئا كان الفقيه أبو بكر الأعمش البلخي يقول يكفر هذا القائل وقال غيره من مشايخ بلخ رحمهم الله تعالى لا يكفر والمختار للفتوى في جنس هذه المسائل أن القائل بمثل هذه المقالات إن كان أراد الشتم
ولا يعتقده كافرا لا يكفر وإن كان يعتقده كافرا فخاطبه بهذا بناء على اعتقاده أنه كافر يكفر.(باب:ومنها ما يتعلق بالحلال والحرام: (2/ 278:دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔