سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-338 Fatwa no: 1447-338

کیاوہ خاص دعا ،جس میں بیماری کوقسم دی جاتی ہے ،مانگنا جائز ہے؟

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ کیا مذکورہ دعا مانگنا شرعا جائز ہے یانہیں؟ وضاحت فرمائیں:۔ " أقسمت عليك أيتها العلة بعزة عزة الله، وبعظمة عظمة الله، وبجلال جلال الله، وبقدرة قدرة الله، وبسلطان سلطان الله، وبلا إله إلا الله، وبما جرى به القلم من عند الله، وبلا حول ولا قوة إلا بالله إلا انصرفت"
جواب :

بصورتِ مسئولہ مذکورہ دعا  علامہ دمیریؒ نے "حیاۃ الحیوان"   جبکہ علامہ الوسی ؒ نے اپنی تفسیر"روح المعانی" میں ،کتاب"المستغیثین باللہ تعالی"کے حوالے سے ذکرکی ہے،اور   یہ دعاؤں پر مشتمل ایک کتاب ہے،یہ دعا عبداللہ بن مبارکؒ کی طرف منسوب ہے،اس دعا میں بظاہر کوئی ایسی  بات نہیں ،جو شرعا ممنوع ہو،اس لئے اس کا مانگنا جائز تو ہے،اگرچہ بہتر یہ ہے،کہ جو دعائیں آپ ﷺ سے  مروی ہیں،وہی پڑھی جائیں،اور ان ہی کو معمول بنایا جائے۔بہرحال اس دعاکا  مختصر قصہ یہ ہے،کہ عبداللہ بن مبارکؒ فرماتے ہیں،کہ ایک دفعہ میں جہاد کےلئے نکلا،تو میراگھوڑا راستے میں  گرکرمرگیا،میں نے ایک خوبصورت آدمی کو دیکھا،انہوں  نے مجھ سے کہا،کیا تم اپنے گھوڑے پرسوار ہونا چاہتے ہو،میں نے کہا:جی ہاں ،تو انہوں نے گھوڑے کی پیشانی پر ہاتھ رکھ کرآخر تک پھیرا،اور پھر یہ  دعا پڑھی" أقسمت عليك أيتها العلة...الخ اس کے فورا بعد گھوڑا اٹھ کھرا ہوا،اس کے بعد انہوں نے گھوڑے کا لگام پکڑ کر مجھے سوار ہونے کوکہا،میں سوار ہوا،اور اپنے دوستوں سے جا ملا،دوسرے دن جب ہم دشمن پر غالب آئے،تو میں نے دیکھا کہ وہی شخص ہمارے ساتھ کھڑے ہیں،میں  نے ان  سے پوچھا:کہ  کیا آپ  میرے کل والے دوست نہیں ؟کہا: جی ،میں  و ہی ہوں، میں  نے کہا میں آپ کواللہ کا واسطہ دے کرپوچھتا ہوں کہ آپ کون ہیں؟ تو وہ ا ٹھ کھڑا ہوا   (اور زمین ان کے نیچے سرسبز ہوگئی) اور کہا کہ میں "حضر علیہ السلام "ہو ۔
في تفسير الألوسي : وأما الحضور في الجهاد فقد روى ابن بشكوال في كتاب المستغيثين بالله تعالى عن عبد الله بن المبارك أنه قال : كنت في غزوة فوقع فرسي ميتاً فرأيت رجلاً حسن الوجه طيب الرائحة قال : أتحب أن تركب فرسك؟ قلت : نعم فوضع يده على جبهة الفرس حتى انتهى إلى مؤخره وقال : أقسمت عليك أيتها العلة بعزة عزة الله وبعظمة عظمة الله وبجلال جلال الله وبقدرة قدرة الله وبسلطان سلطان الله وبلا إله إلا الله وبما جرى به القلم من عند الله وبلا حول ولا قوة إلا بالله إلا انصرفت فوثب الفرس قائماً بإذن الله تعالى وأخذ الرجل بركابي وقال : اركب فركبت ولحقت بأصحابي فلما كان من غداة غد وظهرنا على العدو فإذا هو بين أيدينا فقلت : ألست صاحبي بالأمس؟ قال : بلى فقلت : سألتك بالله تعالى من أنت؟ فوثب قائماً فاهتزت الأرض تحته خضراء فقال : (سورة الكهف:أنا الخضر. 11/ 322)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب