سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-339 Fatwa no: 1447-339

مختلف اغراض کےلئے ویب سائٹ اور اپلیکیشن بنانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان ِعظام اس مسئلے کے بارے میں کہ سائل کا تعلق آئی ٹی انڈسٹری سے ہے جس میں وہ انٹرنیٹ پلیٹ فارم پر دوسرے ممالک میں رہنے والے لوگوں کے کاروبار، وغیرہ کی ویب سائٹ یا موبائل ایپلیکیشن بناکر مالک کو دیتا ہے اور اس کے عوض اپنی اجرت وصول کرتا ہے۔ اس میں مجھےچند صورتوں میں شرعی راہنمائی کی ضرورت ہے صورتحال نمبر 1۔ کلائینٹ کبھی ایسی ایپ/ویب سائٹ بنانے کا آرڈر/آفر دیتا ہے جو حرام چیزوں کی خریدوفروخت پر مبنی ہے،مثلا" کسی شراب خانہ(بار) کی ویب سائٹ یا گانوں،فلمیں کی ویب سائٹ وغیرہ۔ صورتحال نمبر 2۔ کلائینٹ کبھی ایسے سٹور/دکان/ کاروبار کی ویب سائٹ یا موبائل ایپ بنانے کا آرڈر/آفر دیتا ہے جو حلال اور حرام دونوں طرح کے اموال کی خریدوفرخت پر مشتمل ہے، مثلا ایسا ریسٹورنٹ جہاں حلال کھانوں کے ساتھ حرام کھانے بھی شامل ہیں، یا ایسا سٹور جس میں حلال چیزوں کے ساتھ شراب یا کوئی اور حرام چیز بھی شامل ہو، یا مختلف قسم کے کاروبار جس میں حلال اور حرام دونوں شامل ہیں مثلا ہوٹل،ریسٹورنٹ، رئیل اسٹیٹ کے ساتھ اس میں کاسینو جوئے کا اڈہ ،یا شراب خانہ وغیرہ شامل ہو انکی ویب سائٹ یا ایپ بنانا، صورتحال نمبر 3 ایک ایسی ویب سائٹ جو مشتمل ہی ایسے کام پر ہے جو شریعت کی نظر میں جائز نہ ہو مثلا باکسنگ کی ویب سائٹ جس میں باکسنگ کی شیڈول، ٹکٹ ،جگہ ،ویڈیو ،وغیرہ شامل ہوں صورتحال نمبر 4 ایک ایسی ویب سائٹ جو سونے چاندی کے زیورات کی خریدوفرخت پر مبنی ہے اس میں پروڈکٹ کی تصاویر لگانا جس میں عورتیں ان زیورات کی نمائش کر رہی ہوں۔ صورتحال نمبر 5 ایسی ویب سائٹ جو عورتوں سے متعلق کپڑوں یا اننر گارمنٹ کی خریدوفروخت فروخت پر مشتمل ہوں ان کے لیے تشہیری تصاویر لگانا جس کو پہن کر نمائش کی گئی ہے۔ صورتحال نمبر 6۔ ایسی ادویات جو عورتوں کے جسم کے مختلف اعضاء کو خوبصورت یا چربی کم کرنے کیلئے بنائی جائیں پھر اسکی تشہیر میں نمائشی تصاویر لگانا، صورتحال نمبر 7 ایک ایسی موبائل اپلیکیشن بنانی ہے جس میں موبائل کے کیمرہ کے ذریعے چہرے کی سمائل(ہنسی) شمار کرے گی اور اور اس کے مطابق مختلف لیول ہوں گے ہر اگلے لیول پر اسے گفٹ ملے گا گفٹ میں کوئی اسکی پسند کا گانا ہوگا،کیا ایسی ایپ بنانا سکتے ہیں۔ صورتحال نمبر 8 ایک سوشل میڈیا کی ایپ/سائٹ بنانی ہے جس میں غیر مناسب ویڈیوز یا ننگی تصاویر نہ آسکیں ۔ تو جو اس پر کام کرے گا وہ بناتے ہوئے ٹیسٹ کیسز میں خود ایسی تصاویر شئیر کرکے چیک کرے گا کہ ہمارا الگورتھم ٹھیک کام کر رہا ہے یا نہیں کیا اس کی کوئی گنجائش ہے؟ صورتحال نمبر 9 ہم تین لوگ اسی ویب سائٹ کےکام میں پارٹنر ہیں مطلب جتنا بھی باہر سے کام ملے گا ہم نے طے شدہ شرح کے مطابق اسکی اجرت تینوں میں تقسیم کرنی ہے، اب اگر تینوں الگ الگ کام کرتے ہیں دو کا کام حلال اور ایک کا حرام ہے کیا ایسی اجرت سے جس میں ہم سب کا حصہ ہے سب حرام ہوگا، یا دو کا حرام اور ایک کا حلال ہو،یا دو کو کام ملا ہو ایک کا حلال اور ایک کا حرام ہو تیسرے کو کام بھی نہ ملا ہو مگر وہ اس مجموعہ رقم سے حصہ لے گا کیا اسکی رقم بھی حرام ہوگی؟
جواب :

واضح رہے کہ شریعت نے اچھائی اورنیکی کے کام میں معاونت کی ترغیب دی ہے،اور برائی  اوربرے کاموں میں معاونت سے  منع فرمایا ہے،لہذا بصورتِ مسئولہ  آپ جو کام کرتے ہیں یعنی ویب سائٹس یا اپلیکیشن وغیرہ بناتے ہیں،ان کی تین صورتیں ہوسکتی ہیں۔
1-ان ویب سائٹس اور اپلیکیشن کا استعمال حلال کام ہی میں ہو۔
2-ان کا استعمال حرام  ہی میں  ہوسکتا ہو۔
2-حلال اور حرام دونوں میں  ان کااستعمال ممکن ہو۔
اب آپ کے سوال کا اصولی جواب یہ ہے کہ جس  ویب سائٹ اور اپلیکیشن کا استعمال حلال کام ہی کےلئے ہو ،تو اس کے بنانے اور فروخت کرنے  میں  شرعا کوئی خرابی نہیں اور اس کی اجرت لینا بھی بلاکراہت جائز ہے۔اورجس ویب سائٹ یا اپلیکیشن کا  استعمال حرام ہی کےلئے  ہو،تو اس کو نہ بنانا جائز ہے اور نہ ہی اس کو بناکر فروخت کرنا جائز ہے،جبکہ آخری صورت میں   احناف کے نزدیک ان چیزوں کو بنانا اورفروخت کرنا جائز ہے بشرطیکہ فروخت کرتے وقت فروخت کرنے والےکی نیت کسی گناہ کےکام میں فروخت کرنے کی نہ ہو،اور نہ ہی اس کو بالیقین معلوم ہو،کہ خریدار ا س کو گناہ کے کام میں استعمال کرےگا،بصورتِ دیگر گناہ گار ہوگا۔اب ترتیب وار اپنے سوالات کے جوابات ملاحظہ ہوں۔
1-مذکورہ صورت میں  چونکہ ویب سائٹس وغیرہ  کی بناوٹ ہی حرا م کام کےلئے ہےاس لئے نہ تو اس کو بنانا جائز ہے،اور نہ ہی بناکر فروخت کرنا،اوراس جیسی کمائی بھی حلال نہیں۔
2-اس صورت میں اگرویب سائٹس یااپلیکیشن کی ساخت  حرام چیزوں پر مشتمل نہیں ،بلکہ مالک اس پر حرام چیز کا آفشن یااشتہار دیتا ہے،تواس صورت میں آپ پرکوئی گناہ نہیں ،البتہ اگراس نے آپ کےساتھ عقد کرتےوقت وضاحت کی ہو،کہ اس کا استعمال حرام کاری  میں بھی ہوگا،تو پھر اس صورت میں  اس کا بنانا اورفروخت کرنا جائز نہ ہوگا.
3-باکسنگ  کھیل میں چونکہ کئی مفاسد ہیں،مثلا :بے پردگی،مرد وزن کا اختلاط وغیرہ،اس لئے جسطرح اس کی ویڈیو دیکھنا جائز نہیں ،اس لئے محض باکسنگ کےلئے ویب سائٹ بھی جائز نہیں ،اس سے احتراز کیاجائے۔
4۔سونے اورچاندی کی خریدوفروخت کےلئے ویب سائٹ بنانے میں کوئی حرج نہیں ،جہاں تک عورت کی تصویر کے ذریعے سے اشتہار کا حکم ہے،اگر اس میں عورت کی تصویر آپ نے اپلوڈ کرنی ہے،تو اس صورت میں آپ گناہ گار ہونگے،اس لئے آپ کو یہ کام کرنا اور اس پر اجرت لینا جائز نہیں  ہوگا،بصورت دیگر نہیں۔
5-اس کا حکم بھی نمبر4  والا ہے۔
6-اس کا حکم بھی نمبر4 والاہے۔
7-یہ صورت واضح نہیں ،امید ہے مذکورہ بالا اصول اور سوالات کے جوابات سے اس کا حکم  بھی واضح ہوا ہوگا،بصورتِ دیگر اس سوال کی مکمل تفصیلات فراہم کرکے دوبارہ  سوال پوچھ لیں۔
8-اگر صرف چیک کرنے کی حد تک ہوتو اس کی  گنجائش ہے،البتہ چیک کرنے کے فورا بعد اس کو ڈیلیٹ کیاجائےتاہم یہ ضرورت چونکہ عام تصویر سے بھی پوری ہوسکتی ہے،لہذا بے ہودہ تصویر شیئر کرنے  یا اپلوڈ کرنے کی ضرورت باقی نہیں رہتی ۔اس سے حتی الامکان بچنے کی کوشش کرے۔
9- جو کام حلال اورحرام دونوں پر مشتمل ہو،اس کو لینا ہی درست نہیں ،تاہم اگر کسی نے لیا ہے تو پھر اس میں تفصیل یہ ہے کہ اگرحلال اور حرام   یعنی   ہرحصے کی اجرت الگ الگ طے ہے،تو اس صورت میں حرام حصے کی اجرت حرام ہوگی،جبکہ حلال حصے کی اجرت حلال ہوگی،البتہ اگر مکمل کام کی اجرت ایک طے ہے،تو اس صورت میں     اگرچہ ایک حلال کام کرے اوردوسرا حرام ،لیکن گناہ  میں  پھر بھی دونوں شریک ہونگے،اور اجرت بھی بقدرِ  حرام کام دونوں کےلئے لینا جائز نہ ہوگا۔
قال الله تعالى:{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} [المائدة: 2]
في فقه البيوع:فالقسم الأول:ما وضع لغرض محظور...وذكر فيه الفقهاء آلات الملاهي المحظورة،ويقصدون بها آلات الموسيقي الممنوعة في المذاهب الاربعة...ويجوز بيع ألات الملاهي من البرط،والطبل،والمزمار ...عند أبي حنيفه،لكنه يكره،وعندهما لا ينعقد بيع هذه الأشياء...والظاهر أن الكراهة التي ذكرها الحنفية في بيعها قبل أفصلها تحريمية...
القسم الثاني ما وضع لمباح: أما لقسم الثاني فهو ما وضع لغرض مباح...فبيعه ممن يستعمله في مباح أو ممن لا يعلم منه أنه يستعمله في محظورجائز عند الجميع بدون كراهة...
القسم الثالث:ما وضع لأغراض عامة:
والقسم الثالث:ما وضع لأغراض عامة،ويمكن استعماله في حالته الموجودة في مباح أو غيره...والظاهر من مذهب الحنفية أنهم يجيزون بيع هذا القسم،وإن كان معظم منافعه محرما،ولذلك أجازوا بيع الدهن المتنجس...ولكن جواز البيع في هذه الأشياء بمعنى صحة العقد.أما الإثم فيتأتى فيه ما ذكرناه في شروط العاقد من أنه إذا كان يقصد به معصية ،بائع أو مشتريا،فالبيع يكره تحريما ،وذلك إما بنية في القلب،أو بالتصريح في العقاد.(2/305...313:ط:معارف القرأن)

وفيه ايضا:الاعانة علی المعصية حرام مطلقا بنص القرآن اعنی قوله تعالی: ولا تعاونوا علی الاثم والعدوان (المائدة:2) وقوله تعالی: فلن اکون ظھیرا للمجرمین (القصص:17) ولکن الاعانة حقیقته ما قامت المعصية بعین فعل المعین، ولا یتحقق الا بنية الاعانة او التصریح بها(1/185:ط:معارف الفران)
وفيه ايضا:بیع الأشیاء إليه(البنک) : وفيه تفصیل ، فإن کان المبیع ممایتمحض استخدامه فی عقد محرم شرعاً، مثل برنامج الحاسوب الذی صمم للعملیات الربوية خاصة، فإن بیعه حرام للبنک وغیرہ ، وکذلک بیع الحاسوب بقصد أن یستخدم فی ضبط العملیات المحرمةأوبتصریح ذلک فی العقد. أمابیع الأشیاء التی لیس له علاقته مباشرۃ بالعملیات المحرمة ، مثل السیارات أو المفروشات ، فلیس حراماً، وذلک لأنه ا لایتمحض استخدامه فی عمل محظور.(264/2، ط: معارف القرآن)
وفيه ايضا:وأما الوظائف المركبة من الخدمات المباحة والخدمات المحظورة،فلا يجوز قبولها لاشتمالها على عمل محرم.ولكن إن قبل أحد مثل هذه الوظيفة،فما حكم الراتب الذي أخذه عليها؟لم أجد فيها نقلا في كلام الفقهاء...والحاصل:أن الإجارة في الخدمة المباحة إنما تصح إذا كانت أجرتها معلومة بانفرادها،ولا تصح فيما إذا لم تكن أجرتها معلومة.فإن كان كذلك في خدمات الفنادق والمطاعم والبنوك وشركات التأمين،صارت أجرة الموظف فيها مركبة من الحلال والحرام،فدخلت في الصورة الثالثة من القسم الثالث،وحلّ التعامل معه بقدر الحلال.أمّأ إذا لم تعرف أجرة المباحة على حدها،فالإجارة فاسدة ولكن الأجير يستحق أجر المثل في الإجارات الفاسدة.

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب