سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-340 Fatwa no: 1447-340

مرحوم کی میراث کو ایک بھائی ،بیٹی اور بیوہ میں تقسیم کرنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی فوت ہوا،اس کے ورثاء میں ایک بیوہ،ایک بیٹی اورایک بھائی شامل ہيں،مرحوم نے ترکہ میں صرف ایک گھر چھوڑا ہے،جس کی مالیت 7200000(بہتر )لاکھ روپے ہیں،آپ حضرات سے گزارش ہے،کہ اس رقم میں سے ہر وارث کا شرعی حصہ متعین فرمائیں۔شکریہ
جواب :

بصورت مسئولہ، میت کے کل مال میں سے کفن دفن کے اخراجات نکالنے کے بعد اگر اس پر کوئی قرضہ ہو یا اس کے ذمہ بیوی کا مہر باقی ہو، تو وہ ادا کیا جائے گا،نیز اگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو وہ ایک تہائی مال سے پوری کی جائیگی،اس کے بعد جو رقم بچ جائے ،اس کے کل آٹھ حصے بنائے  جا ئیں گے، جن  میں سے  مرحوم کی بیوہ  کو  آٹھواں حصہ دیا جائےگا، مرحوم کی بیٹی کےلئےکل مال کا  نصف یعنی آدھا حصہ دیا جائے گا،جبکہ باقی مال مرحوم کے بھائی کو عصبہ ہونے کی وجہ سے ملے گا،لہذا 72 لاکھ میں سے  مرحوم کی بیوہ کو کل مال کا آٹھواں حصہ  یعنی 9لاکھ روپے دئےجائینگے،مرحوم کی بیٹی کو36لاکھ ،جبکہ مرحوم کے بھائی کو   باقی 27 لاکھ روپے دئےجائیں گے۔
قال الله تعالى:
           فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ(12)
وقال الله تعالى:
        يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا  مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ(11)
وفي السراجي:
 قال علماؤنا تتعلق بتركة الميت حقوق اربعة :مرتبة الاول يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير...ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله،ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين،ثم يقسم الباقي بين ورثته.                (الفصل:الفرائض نصف العلم:ص:3)
وفيه ايضا:أما العصبة بنفسه:فكل ذكر لا تدخل في نسبته إلى الميت أنثى. وهم أربعة أصناف:جزء الميت،وأصله،وجزء أبيه وجده.الأقرب فالأقرب.(باب العصبات:54)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب