سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-341 Fatwa no: 1447-341

مسجد کی تعمیر کےلئے زبردستی رقم لینے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ہم ایک ادارے میں کام کرتے ہیں،اس میں ادارے والوں نے اپنی صوابدید پر کئی فنڈز قائم کئے ہیں،ان میں سے ایک فنڈ مسجدوں کی تعمیر سے متعلق بھی ہے،ادارے والے ہر ممبر سے ایک خاص رقم کاٹتی ہے،چاہے اس کی مرضی ہو یا نہ ہو،اسی طرح اوربھی کئی فنڈز ہیں،پھرادارے کی طرف سے ایک نگران مقرر ہے،جس کو ادارے ہی کی طرف سے اجازت ہوتی ہے،جس فنڈ کو جس مصرف میں خرچ کرناچاہے تو خرچ کرسکتا ہے،اب سوال یہ پوچھنا ہے کہ کیا ادارے والوں کا اس طرح جبری فنڈ وصول کرنا جائز ہے؟ اوراگرجو فنڈ مثلا مسجد کے نام سے جمع ہوتا ہے،کیا اس کو وقف کہا جاسکتا ہے؟اور کیا نگران کا ایک فنڈ کو دوسرے فنڈ میں صرف کرنا جائز ہے؟وضاحت فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ اللہ تعالی کے راستے میں اپنے پاکیزہ مال میں سے خرچ کرنا بڑی فضیلت اوراجر کی بات ہے،اس لئے ایک مسلمان کو چاہئے کہ مساجد،مدارس اوردیگر دینی مراکز میں اپنی وسعت کے مطابق خرچ کرتا رہے،البتہ تمام تر فضائل  کے باوجود مسجد یا کسی اورکارِ خیر میں کسی  مسلمان کا مال اس کے  طیبِ نفس کے بغیر لینا شرعا جائز نہیں۔
بصورت مسئولہ 1:ادارے والوں کےلئے یہ جائز نہیں،کہ وہ مسجد یا کسی اورفنڈ کےلئےکسی ملازم  سے اس کی اجازت کے بغیر کوئی رقم وصول کرے،اگر کہیں وصول کی بھی ہے،تو اس کو مسجد میں لگانا شرعا جائز نہیں ،بلکہ جس جس سے وصول کی ہے،ان تک پہنچانا ضروری ہے۔ البتہ اگر تقرری کے وقت ملازم کے سامنے یہ بات رکھی جائے کہ آپ کی تنخواہ میں سے خاص مقدار میں  مذکورہ فنڈر کے لئے  کٹوتی ہوگی اورملازم اس بات(شرط ) کو قبول کرتے ہوئے ملازمت اختیار کرلے تو یہ اس طرف سے اجازت تصور  ہوگی اور اس صورت میں تنخواہ میں سے مذکورہ فنڈز کے لئے کٹوتی کرنا جائز ہے اور اس رقم کو    مذکورہ مصارف میں خرچ کرنا جائز ہے ۔
2-اس کو مالِ وقف کہنا درست نہیں ۔
3-نگران کےلئے ایک وقف فنڈ کی رقم دوسرے میں صرف کرنا درست نہیں ،خاص کر مسجد کے فنڈ کو کسی اور مد میں لگانا درست نہیں ،تاہم سخت مجبوری میں ایک فنڈ سے بطورِ قرض لےکردوسرے فنڈ میں صرف کرنے کی گنجائش ہے،اگرچہ بہتر  یہی ہے کہ ہرفنڈ کواس کے اپنے مصرف ہی میں خرچ کیاجائے۔
قال الله تعالى:ياايها الذين امنوا كلوامن الطيبات ما رزقناكم(الجزء الثاني:الاية:172)
وكذلك قال الله تعالى {إِنَّ اللَّهَ يَأْمُرُكُمْ أَنْ تُؤَدُّوا الْأَمَانَاتِ إِلَى أَهْلِهَا} [النساء: 58]
وفي سنن الكبرى :وقال النبي-صلى الله عليه وسلم-لايحل مال امرائ من اخيه الاما اعطاه من طيب نفس.  (كتاب الغصب:باب:لايملك احد بالجناية:6/160:ط:بيروت)
وفي الفقه الاسلامي وادلته:ويستحب ان تكون الصدقة مقرونة بطيب نفس وبشر                 (كتاب الزكاة:باب صدقة التطوع:3/73:ط:دار الفكر)
في ردالمحتار"قال تاج الشريعة: أما لو أنفق في ذلك ‌مالاً ‌خبيثاً ومالاً سببه الخبيث والطيّب فيكره؛ لأنّ الله تعالى لا يقبل إلا الطيّب، فيكره تلويث بيته بما لا يقبله"۔( کتاب الصلاۃ،  ج:۱،ص:۶۵۸،ط:سعید)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب