سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-30 Fatwa no: 1447-30

اجارے کے طور پر لئے گئے سامان کی نقصان یا گم ہونے کی صورت میں ضمان کاحکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں علمائے کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک آدمی اجارے پر لوگوں کو کچھ سامان دیتا ہے،جیسے بیلچہ ،گینتی اور دیگر مشینیں کرائے پر دیتا ہے، اور کوئی چیز مستاجرسے گم یا ٹوٹ جائے تو موجراس سے اس کا تاوان لیتا ہے،کیا موجر کا مستاجر سےسامان کے نقصان یا گم ہونے کی صور ت میں تاوان لینا جائز ہے یا نہیں ؟اور کس صورت میں تاوان لینا جائز نہیں؟
جواب :

جو سامان اجارے پر لیاجاتا ہے ،وہ مستاجر کے پاس بطور امانت کے ہوتا ہے ،لہذا اگر مستاجر کی کسی کوتاہی  کے بغیر گم ہوجائے یا ٹوٹ جائے ،تو مستاجر پر کسی قسم کاضمان نہیں آتا ،لیکن اگر مستاجرکی کسی کوتاہی سے ہلاک  یا گم ہوجائے یا کوئی اور نقصان ہو  تو اس صورت ميں مستاجر سے اس کاضمان لیاجائے گا،لیکن  جتنا نقصان ہوا ہے ،اس نقصان کے بقد ر مستاجر سے ضمان لیاجائے گا،اس سے زیادہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔
في الدر المختار: 
( ولا يضمن ما هلك في يده وإن شرط عليه الضمان ) لأن شرط الضمان في الأمانة باطل كالمودع ( وبه يفتى ) كما في عامة المعتبرات وبه جزم أصحاب المتون فكان هو المذهب..."                         (الدر المختار، باب ضمان الاجير،65/6،ط:دار الفكر)
وفي الفتاوى الهندية:
"قال وإذا عطبت الدابة المستأجرة أو العبد المستأجر عند مستأجرهما من غير تعد ولا خلاف ولا جناية فلا ضمان عليه وبطلت الإجارة لأنه فات المعقود عليه كذا في شرح الطحاوي..."         (الفتاوي الهندية،باب في مسائل الضمان،494/4،ط: دار الفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 10 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 11 May 2026

واللہ اعلم بالصواب