نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںجو سامان اجارے پر لیاجاتا ہے ،وہ مستاجر کے پاس بطور امانت کے ہوتا ہے ،لہذا اگر مستاجر کی کسی کوتاہی کے بغیر گم ہوجائے یا ٹوٹ جائے ،تو مستاجر پر کسی قسم کاضمان نہیں آتا ،لیکن اگر مستاجرکی کسی کوتاہی سے ہلاک یا گم ہوجائے یا کوئی اور نقصان ہو تو اس صورت ميں مستاجر سے اس کاضمان لیاجائے گا،لیکن جتنا نقصان ہوا ہے ،اس نقصان کے بقد ر مستاجر سے ضمان لیاجائے گا،اس سے زیادہ کا مطالبہ کرنا درست نہیں۔
في الدر المختار:
( ولا يضمن ما هلك في يده وإن شرط عليه الضمان ) لأن شرط الضمان في الأمانة باطل كالمودع ( وبه يفتى ) كما في عامة المعتبرات وبه جزم أصحاب المتون فكان هو المذهب..." (الدر المختار، باب ضمان الاجير،65/6،ط:دار الفكر)
وفي الفتاوى الهندية:
"قال وإذا عطبت الدابة المستأجرة أو العبد المستأجر عند مستأجرهما من غير تعد ولا خلاف ولا جناية فلا ضمان عليه وبطلت الإجارة لأنه فات المعقود عليه كذا في شرح الطحاوي..." (الفتاوي الهندية،باب في مسائل الضمان،494/4،ط: دار الفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 10 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 11 May 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔