سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-342 Fatwa no: 1447-342

مسجد کے فنڈ سے مسجد کے کیمرے اورسولر کی کاکردگی دیکھنے کےلئے وائی فائی لگانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
مسجد کمیٹی کے لیے مسجد میں وائی فائی انٹرنیٹ کنکشن لگانے کا کیا حکم ہے ؟ کیمروں کو آن لائن دیکھنے کے لیے اور سولر کی کارکردگی دیکھنے کے لیے ۔ اس کنکشن کا ماہانہ بل 2600 روپے ہے۔بینوا توجروا
جواب :

واضح رہے کہ مسجد کےفنڈ میں سے ہر وہ کا م جائز ہے جو مسجدکے مصالح میں سے ہو ،بصورتِ دیگر نہیں۔ بصورتِ مسئولہ  اگروائی فائی  کا لگانا 
صرف اسی غرض اورمقصد کےلئے ہو،تو پھر مسجد کے فنڈ سے اس کے  لگانے کی گنجائش ہے،بشرطیکہ اس کو مذکورہ مقصد ہی کے لئے استعمال کیا جائے    ۔
في الفتاوى الهندية :الذي يبدأ من ارتفاع الوقف عمارته شرط الواقف أم لا ثم ما هو أقرب إلى العمارة وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد والمدرس للمدرسة يصرف إليهم بقدر كفايتهم كذا في السراج والبسط كذلك إلى آخر المصالح(كتاب الوقف: 2/ 368:ط:دارالفكر)
المحيط البرهاني :
في «فتاوي أبي الليث» أيضاً: مسجد له مستغلات وأوقاف، فأراد المتولي أن يفرش الآجر أو يشتري الحصير والدهن للمسجد أو ما أشبهه، أما فرش الأجر فله ذلك؛ لأنه من باب البناء، وأما شراء الدهن والحصير فلا، فحينئذ من ثلاثة أوجه: أما إن وسع الواقف ذلك على القيم بأن قال: يفعل القيم ما يرى من مصلحة المسجد وبنائه، وفي هذا الوجه له ذلك، وأما إن لم يوسع عليه وجعله لعمارة المسجد وبنائة وفي هذا الوجه ليس له ذلك، وأما إن لم يعرف شرط الواقف وفي هذا الوجه ينظر إلى من قبله إن كانوا يشترون منه الدهن والحصير والخشب له أن يفعل وما لا فلا، وقيل: ذكر المصلحة والعمارة وتركه سواء، ولا يتمكن المتولي من شراء الدهن والحصير.( 6/ 109:داراحياء التراث العربي)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب