نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ مسجد کےفنڈ میں سے ہر وہ کا م جائز ہے جو مسجدکے مصالح میں سے ہو ،بصورتِ دیگر نہیں۔ بصورتِ مسئولہ اگروائی فائی کا لگانا
صرف اسی غرض اورمقصد کےلئے ہو،تو پھر مسجد کے فنڈ سے اس کے لگانے کی گنجائش ہے،بشرطیکہ اس کو مذکورہ مقصد ہی کے لئے استعمال کیا جائے ۔
في الفتاوى الهندية :الذي يبدأ من ارتفاع الوقف عمارته شرط الواقف أم لا ثم ما هو أقرب إلى العمارة وأعم للمصلحة كالإمام للمسجد والمدرس للمدرسة يصرف إليهم بقدر كفايتهم كذا في السراج والبسط كذلك إلى آخر المصالح(كتاب الوقف: 2/ 368:ط:دارالفكر)
المحيط البرهاني :
في «فتاوي أبي الليث» أيضاً: مسجد له مستغلات وأوقاف، فأراد المتولي أن يفرش الآجر أو يشتري الحصير والدهن للمسجد أو ما أشبهه، أما فرش الأجر فله ذلك؛ لأنه من باب البناء، وأما شراء الدهن والحصير فلا، فحينئذ من ثلاثة أوجه: أما إن وسع الواقف ذلك على القيم بأن قال: يفعل القيم ما يرى من مصلحة المسجد وبنائه، وفي هذا الوجه له ذلك، وأما إن لم يوسع عليه وجعله لعمارة المسجد وبنائة وفي هذا الوجه ليس له ذلك، وأما إن لم يعرف شرط الواقف وفي هذا الوجه ينظر إلى من قبله إن كانوا يشترون منه الدهن والحصير والخشب له أن يفعل وما لا فلا، وقيل: ذكر المصلحة والعمارة وتركه سواء، ولا يتمكن المتولي من شراء الدهن والحصير.( 6/ 109:داراحياء التراث العربي)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔