نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ کسی انسان بالخصوص مسلمان کا ناحق خون کرنا عظیم جرم ہے،شریعت نے قاتل کےلئے دنیا میں قصاص یعنی اس کو قتل کرنے کی سزا تجویز فرمائی ہے،جبکہ آخرت میں جہنم کی آگ کا مستحق ہوگا۔بصورت مسئولہ لڑکے اورلڑکی نے اپنے ناجائز تعلقات کو چھپانے کےلئے ایک معصوم بچی کوقتل کرکے ایک سنگین جرم کا ارتکاب کیا ہے،جس کی سزا ان کو دنیا اورآخرت دونوں میں بھگتنی پڑےگی۔
باقی جہاں تک لڑکی کے رہا کروانے کی بات ہے،اس میں تفصیل یہ ہے کہ قصاص اولیاء کا حق ہوتا ہے،چاہے وہ بدلے میں قاتل کو قتل کریں،یا صلح کرکے دیت لیں،اورمذکورہ صورت میں لڑکے اورلڑکی کو عدالت سے سزا ہوگئی ہے(اگرچہ وہ آپ کے بقول جھوٹی گواہی کے ذریعہ سے ہوئی ہے)تو لڑکی کی رہائی کا ایک ہی طریقہ ہے،وہ یہ کہ مقتولہ کے ورثاء کو معاف کرنے یا صلح پرآمادہ کیا جائے،اس کے بعد عدالتی کروائی کرکے اس کو رہا کروایا جائے،مقتولہ کے ورثاء کونظرانداز کرکے کسی بھی طریقہ سے لڑکی کو رہاکروانا شرعا جائز بھی نہیں اور یہ مسئلہ کا حل بھی نہیں ،نیز اس صورت میں رہا کرانے میں تعاون کرنے والے بھی گناہ گار ہونگے۔
نوٹ:بعض دفعہ اس جیسی صورت میں والد کابیٹی یا بیٹے کو رہاکروانےکا مقصد یہ ہوتا ہے،کہ رہائی کے بعد اس کو قتل کرے،تاکہ اس کی لوٹی ہوئی عزت بحال ہو،تو ایسی صورت میں بھی رہائی میں تعاون کرنے والے سخت گناہ گار ہونگے،لہذا یہ بات ذہن میں ہونی چاہئے۔
قال الله تعالى:{وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ} [المائدة: 2]
قال الله تعالى:{ يَاأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا كُتِبَ عَلَيْكُمُ الْقِصَاصُ فِي الْقَتْلَى الْحُرُّ بِالْحُرِّ وَالْعَبْدُ بِالْعَبْدِ وَالْأُنْثَى بِالْأُنْثَى فَمَنْ عُفِيَ لَهُ مِنْ أَخِيهِ شَيْءٌ فَاتِّبَاعٌ بِالْمَعْرُوفِ وَأَدَاءٌ إِلَيْهِ بِإِحْسَانٍ ذَلِكَ تَخْفِيفٌ مِنْ رَبِّكُمْ وَرَحْمَةٌ فَمَنِ اعْتَدَى بَعْدَ ذَلِكَ فَلَهُ عَذَابٌ أَلِيمٌ} [البقرة: 178]
وفي البحر الرائق :
قال رحمه الله ( وإن صولح على مال وجب حالا وسقط القود ) يعني إذا صالح القاتل أولياء المقتول على مال عن القصاص سقط القصاص ووجب المال حالا قليلا كان المال أو كثيرا لقوله تعالى { فمن عفي له من أخيه شيء } البقرة 178 الآية
ولقوله عليه الصلاة والسلام أولياء المقتول بين خيرتين أن يأخذوا المال أو يقتلوا القاتل((8/ 353:دارالمعرفة)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔