نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورتِ مسئولہ:
1۔ حکومت کی طرف سے مرحوم کے ورثاء کو جتنی رقم ملی ہے،اس سب میں مرحوم کی بیوہ کا حصہ ہے،صرف اس وجہ سے اس کا حصہ روکناکہ اس نے دوسری جگہ شادی کی ہےسراسر ظلم ہے،لہذا مذکورہ صورت میں چونکہ بیوہ کی مرحوم سے کوئی اولاد نہیں ہے،اس لئے وہ اس نقد رقم اوراس کےعلاوہ اگرمرحوم نے کوئی جائیداد چھوڑی ہو، سب میں ایک چوتھائی حصے کی مالکن ہے،لہذا مرحوم کے ورثاء پرلازم ہے،کہ وہ بیوہ کو اس کا حصہ واپس کردیں،اور اپنے اس کئے ہوئے پراستغفار کریں۔اس نقد رقم میں بیوہ کا حصہ ایک چوتھائی(997018.8)(نولاکھ ستانوےہزار اٹھارہ) روپے بنتے ہیں۔
2۔مرحوم کی وفات کےبعد ماہانہ پینشن کےنام سے جو رقم آتی ہے،چونکہ یہ حکومت کی طرف سے تبرع اوراحسان ہوتاہے،اس لئے یہ میت کےترکہ میں شمار نہیں ہوگی،بلکہ جس کےنام پرحکومت کی طرف سےملتی ہے،وہی اس کا مالک ہوگا،مذکورہ صورت میں اگر پینشن بیوہ کےنام پرآتی ہے تو پھر اسی کا حق ہے،اوراگرمرحوم کےوالد کےنام پر آتی ہے،تو پھرمرحوم كاوالد اس کا حقدارہے۔
نوٹ: فنڈ چاہےپراویڈنٹ ہویابیمہ سے حاصل ہونےوالا ہو، اگراس میں اپنےاختیارسےرقم کٹوائی جائے،تواس پر بنامِ سود ملنے والی رقم سے احتراز کیاجائے، اس لئے کہ اس میں سود کا شبہ ہے،اور شریعت میں جس طرح سود سے بچناضروری ہے،ایسا ہی شبہ سود سےبچنا بھی ضروری ہے،اوراگر جبرا کاٹی گئی ہو،تو اس صورت میں اس کےلینےمیں کوئی حرج نہیں۔
وفي المسلم:ان الحلال بين،وان الحرام بين،وبينهما مشتبهات لايعلمهن كثير من الناس،فمن اتقى الشبهات استبرالدينه وعرضه،ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام (كتاب المساقاة:باب:اخذ الحلال وترك الشبهات)
البحر الرائق:قال رحمه الله ( والأجرة لا تملك بالعقد بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن منه ) يعني الأجرة لا تملك بنفس العقد سواء كانت عينا أو دينا وإنما تملك بالتعجيل أو بشرطه أو باستيفاء المعقود عليه وهي المنفعة أو بالتمكن من الاستيفاء (كتاب الرهن: 8 / 5:ط :دارالمعرفه)
الفتاوى الهندية :ثُمَّ الْأُجْرَةُ تُسْتَحَقُّ بِأَحَدِ مَعَانٍ ثَلَاثَةٍ إمَّا بِشَرْطِ التَّعْجِيلِ أو بِالتَّعْجِيلِ أو بِاسْتِيفَاءِ الْمَعْقُودِ عليه.(كتاب الرهن:الباب الثاني: 4/ 413:ط:دارالفكر)
وفي شرح المجلة:كما ان اعيان المتوفى المتروكة عنه مشتركة بين الورثة على حسب حصصهم،وكذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخرمشتركا بيهم على قدرحصصهم.(كتاب الشركة:الفصل الثالث في الديون المشتركة:رقم المادة:1091)
چناچہ فتاوی مفتی محمود میں مذکور ہے:آپ نے پراویڈنٹ فنڈ کے سود کے بارے میں پوچھاہے،جواباعرض یہ ہے،کہ پراویڈنٹ فنڈ کی صورت میں حکومت وضع شدہ رقم تنخواہ کے ساتھ اس قدریاجس قدر ہو،جو ملاکردیتی ہے،شرعا اس کا لیناجائزہے،شرعا یہ سودشمار نہیں ہوتا،حکومت چاہے اس کا نام جو بھی رکھے،اور اس کااستعمال تمام دینی امور میں جائزہے۔
اسی طرح کفایت المفتی میں مذکور ہے:
سوال:بیمہ رقم وصول کرنےکےلئے بھی بیوی کے نام کا فارم بھراگیا تھا،جب رقم اہلیہ وصول کرے،تو دیگر ورثاء بھی اس میں حق دار ہیں یا نہیں ؟
جواب :اس فارم نامزد(نامنیشن)کے ذریعہ صرف وصول کرنے کا اختیار مقصود ہے،تملیک مقصود نہیں ،تو اس بیمہ فنڈ میں سب ورثاء شریک ہیں۔(کتاب الفرائض:20/404:دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی)
اسی طرح مفتی رفیع عثمانی لکھتے ہیں:
البتہ پراویڈنٹ فنڈ میں رقم اگر اپنے اختیار سے کٹوائی جائے،تو اس پر جو رقم محکمہ بنام سود دے گا،اس سے اجتناب کیاجائے،کیونکہ اس میں تشبہ بالربا بھی ہے،اور سود خوری کا ذریعہ بنالینے کا خطرہ بھی،اس لئےخواہ وصول ہی نہ کریں ،یا وصول کرکے صدقہ کردیں۔(ضمیمہ رسالہ پراویڈنٹ فنڈ:ص:25:ط:دارالاشاعت)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔