سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-344 Fatwa no: 1447-344

ملازم کی وفات کےبعد ملنےوالے فنڈ کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے میں کہ ایک بیوہ جن کے شوہرکا انتقال 31جولائی 2018ءکو ہوتاہے،اورانہوں نے7اگست2020کو دوسری جگہ شادی کرلی ہے،جو پہلےشوہرفوت ہوگئے،وہ سرکاری جاب کررہے تھے،اب ان کی فوتگی کےبعدان کےنام پرفنڈ ریلیز ہوگیاہے،تو اس کے گھر والے اس فنڈ میں سے بیوہ کو حصہ نہیں دیتے،اس بیوہ خاتون نے کورٹ میں 2019ء کو کیس دائرکیاتھا،جس کا 1ستمبر2022ءکواس بیوی کےحق میں فیصلہ ہواہے،اب پوچھنا یہ ہے،کہ کیا اس فنڈ میں اورباقی جتنی بھی جائیداد وغیرہ ہے، اس میں اس بیوہ کا کتنا حق بنتاہے،اورکیا اس حال میں کہ جب اس کی دوسری جگہ شادی ہوئی ہے،وہ پہلے شوہرکےنام پرجاری ہونےوالا ماہانہ فنڈ میں بھی حصہ دار ہوگی،فوت شدہ شخص کے ورثاء میں بہن،بھائی اوروالدین اوریہ بیوہ ہیں،کوئی اولاد نہیں۔ تنقیح:1۔کئی قسم کے فنڈز ریلیز ہوگئے ہیں،مثلا:گروپ انشورنس،فنانشل اسٹیٹ،فائنل پیمنٹ(جی پی)وغیرہ۔کل رقم 3988075 روپے ہیں، ان میں سے 25لاکھ کا فنڈ اس لئے ملاہے،کہ مرحوم دورانِ ملازمت مراہے۔ 2۔شخص مذکور کی وفات کےبعد پینشین اس کا والد لے رہاہے۔
جواب :

بصورتِ مسئولہ:
1۔ حکومت کی طرف سے مرحوم کے ورثاء کو جتنی رقم  ملی ہے،اس سب میں مرحوم کی بیوہ کا حصہ ہے،صرف اس وجہ سے اس کا حصہ روکناکہ اس نے دوسری جگہ شادی کی ہےسراسر ظلم ہے،لہذا مذکورہ صورت میں  چونکہ بیوہ کی  مرحوم سے  کوئی اولاد نہیں ہے،اس لئے وہ اس نقد رقم اوراس کےعلاوہ اگرمرحوم نے کوئی جائیداد چھوڑی ہو، سب میں ایک چوتھائی حصے  کی  مالکن ہے،لہذا مرحوم کے ورثاء پرلازم ہے،کہ وہ  بیوہ کو اس  کا حصہ واپس کردیں،اور اپنے اس کئے ہوئے پراستغفار کریں۔اس نقد رقم میں  بیوہ کا حصہ ایک چوتھائی(997018.8)(نولاکھ ستانوےہزار اٹھارہ) روپے بنتے ہیں۔
2۔مرحوم کی وفات کےبعد ماہانہ پینشن کےنام سے جو رقم آتی ہے،چونکہ یہ حکومت کی طرف سے تبرع اوراحسان ہوتاہے،اس لئے یہ میت کےترکہ میں شمار نہیں ہوگی،بلکہ جس کےنام پرحکومت کی طرف سےملتی ہے،وہی اس کا مالک ہوگا،مذکورہ صورت میں اگر پینشن  بیوہ  کےنام پرآتی ہے تو پھر اسی کا حق ہے،اوراگرمرحوم کےوالد کےنام پر آتی ہے،تو پھرمرحوم كاوالد اس کا حقدارہے۔
نوٹ: فنڈ چاہےپراویڈنٹ ہویابیمہ سے حاصل ہونےوالا ہو، اگراس میں اپنےاختیارسےرقم کٹوائی  جائے،تواس پر بنامِ سود ملنے والی رقم سے احتراز کیاجائے، اس لئے کہ اس میں سود کا شبہ ہے،اور شریعت میں جس طرح سود سے بچناضروری ہے،ایسا ہی شبہ سود سےبچنا بھی ضروری ہے،اوراگر جبرا کاٹی گئی ہو،تو اس صورت میں  اس کےلینےمیں کوئی حرج نہیں۔
وفي المسلم:ان الحلال بين،وان الحرام بين،وبينهما مشتبهات لايعلمهن كثير من الناس،فمن اتقى الشبهات استبرالدينه وعرضه،ومن وقع في الشبهات وقع في الحرام (كتاب المساقاة:باب:اخذ الحلال وترك الشبهات)
البحر الرائق:قال رحمه الله ( والأجرة لا تملك بالعقد بل بالتعجيل أو بشرطه أو بالاستيفاء أو بالتمكن منه ) يعني الأجرة لا تملك بنفس العقد سواء كانت عينا أو دينا وإنما تملك بالتعجيل أو بشرطه أو باستيفاء المعقود عليه وهي المنفعة أو بالتمكن من الاستيفاء (كتاب الرهن: 8 / 5:ط :دارالمعرفه)
الفتاوى الهندية :ثُمَّ الْأُجْرَةُ تُسْتَحَقُّ بِأَحَدِ مَعَانٍ ثَلَاثَةٍ إمَّا بِشَرْطِ التَّعْجِيلِ أو بِالتَّعْجِيلِ أو بِاسْتِيفَاءِ الْمَعْقُودِ عليه.(كتاب الرهن:الباب الثاني: 4/ 413:ط:دارالفكر)
وفي شرح المجلة:كما ان اعيان المتوفى المتروكة عنه مشتركة بين الورثة على حسب حصصهم،وكذلك يكون الدين الذي له في ذمة آخرمشتركا بيهم على قدرحصصهم.(كتاب الشركة:الفصل الثالث في الديون المشتركة:رقم المادة:1091)
 چناچہ فتاوی مفتی محمود میں مذکور ہے:آپ نے پراویڈنٹ فنڈ کے سود کے بارے میں پوچھاہے،جواباعرض یہ ہے،کہ پراویڈنٹ فنڈ کی صورت میں حکومت وضع شدہ رقم تنخواہ کے ساتھ اس قدریاجس قدر ہو،جو ملاکردیتی ہے،شرعا اس کا لیناجائزہے،شرعا یہ سودشمار نہیں ہوتا،حکومت چاہے اس کا نام جو بھی  رکھے،اور اس کااستعمال تمام دینی امور میں جائزہے۔
اسی طرح  کفایت المفتی میں مذکور ہے:
سوال:بیمہ رقم وصول کرنےکےلئے بھی بیوی کے نام کا فارم بھراگیا تھا،جب رقم اہلیہ وصول کرے،تو دیگر ورثاء بھی اس میں حق دار ہیں یا نہیں ؟
جواب :اس فارم نامزد(نامنیشن)کے ذریعہ صرف وصول کرنے کا اختیار مقصود ہے،تملیک مقصود نہیں ،تو اس بیمہ فنڈ میں سب ورثاء شریک ہیں۔(کتاب الفرائض:20/404:دارالافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی)
اسی طرح مفتی رفیع عثمانی﷬  لکھتے ہیں:
البتہ پراویڈنٹ فنڈ میں رقم اگر اپنے اختیار سے کٹوائی جائے،تو اس پر جو رقم محکمہ بنام سود دے گا،اس سے اجتناب کیاجائے،کیونکہ اس میں تشبہ بالربا بھی ہے،اور سود خوری کا ذریعہ بنالینے کا خطرہ بھی،اس لئےخواہ وصول ہی نہ کریں ،یا وصول کرکے صدقہ کردیں۔(ضمیمہ رسالہ پراویڈنٹ فنڈ:ص:25:ط:دارالاشاعت)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب