نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںبصورت مسئولہ، میت کے کل مال میں سے کفن دفن کے اخراجات نکالنے کے بعد اگر اس پر کوئی قرضہ ہو تو وہ ادا کیا جائےگا،یااگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو وہ ایک تہائی مال سے پوری کی جائیگی،اس کے بعد جو کچھ بچ جائے ،چاہے نقدی کی صورت میں ہویا پراپرٹی کی صورت میں اس کے کل بارہ (12) حصے بنائے جا ئیں گے، ان میں سے مرحومہ کے ہربیٹے کو بیٹی سے دگنا حصہ دیا جائےگا یعنی کل بارہ (12) حصوں میں سے ہر ایک بیٹے کو دو دو حصے جبکہ ہر ایک بیٹی کو ایک ایک حصہ دیا جائے گا۔
پھر ان ورثاء میں سے جس جس کا انتقال ہوا ہے،ان کی میراث ان کے ورثاء میں تقسیم ہوگی،لہذا اگر ان کے بارے میں بھی جواب مطلوب ہے،تو ہرایک میت کے ورثاء کی پوری تفصیل ذکر کی جائے،اس کے بعد جواب دیا جائےگا۔
قال الله تعالى:
فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ(12)
وقال الله تعالى:
يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ(11)
وفي السراجي:
قال علماؤنا تتعلق بتركة الميت حقوق اربعة :مرتبة الاول يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير...ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله،ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين،ثم يقسم الباقي بين ورثته. (الفصل:الفرائض نصف العلم:ص:3)
وفيه ايضا:أما العصبة بنفسه:فكل ذكر لا تدخل في نسبته إلى الميت أنثى. وهم أربعة أصناف:جزء الميت،وأصله،وجزء أبيه وجده.الأقرب فالأقرب.(باب العصبات:54)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔