سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-345 Fatwa no: 1447-345

میت کے دو بیٹیوں اور پانچ بیٹوں میں تقسیمِ میراث کا بیان

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کےبارے کہ میری دادی جان کا انتقال ہوگیا ہے،اس نے اپنے ورثاء میں سے پانچ بیٹے اوردو بیٹیاں چھوڑی ہیں،دادای جان کے انتقال کے بعد میرے دو تایا ابو اور ایک چچا کا بھی انتقال ہوگیا ہے،تاہم ان کے ورثاء موجود ہیں،اب پوچھنا یہ ہے کہ ان ورثاء میں میراث کس طریقے سے تقسیم ہوگی۔
جواب :

بصورت مسئولہ، میت کے کل مال میں سے کفن دفن کے اخراجات نکالنے کے بعد اگر اس پر کوئی قرضہ ہو  تو وہ ادا کیا جائےگا،یااگر اس نے کوئی جائز وصیت کی ہو تو وہ ایک تہائی مال سے پوری کی جائیگی،اس کے بعد جو  کچھ  بچ جائے ،چاہے نقدی  کی صورت میں  ہویا پراپرٹی کی صورت میں اس کے کل بارہ (12) حصے بنائے  جا ئیں گے، ان میں سے  مرحومہ کے ہربیٹے کو بیٹی سے دگنا حصہ دیا جائےگا  یعنی کل بارہ (12) حصوں  میں سے ہر ایک بیٹے کو دو دو حصے جبکہ ہر ایک بیٹی کو ایک ایک حصہ دیا جائے گا۔
پھر ان  ورثاء میں سے جس جس کا انتقال ہوا ہے،ان کی میراث ان کے ورثاء میں تقسیم ہوگی،لہذا اگر ان کے بارے میں بھی جواب مطلوب ہے،تو  ہرایک میت کے ورثاء کی پوری تفصیل ذکر کی جائے،اس کے بعد جواب دیا جائےگا۔
قال الله تعالى:
           فَإِنْ كَانَ لَكُمْ وَلَدٌ فَلَهُنَّ الثُّمُنُ مِمَّا تَرَكْتُمْ مِنْ بَعْدِ وَصِيَّةٍ تُوصُونَ بِهَا أَوْ دَيْنٍ(12)
وقال الله تعالى:
        يُوصِيكُمُ اللَّهُ فِي أَوْلَادِكُمْ لِلذَّكَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنْثَيَيْنِ فَإِنْ كُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَيْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا  مَا تَرَكَ وَإِنْ كَانَتْ وَاحِدَةً فَلَهَا النِّصْفُ(11)
وفي السراجي:
 قال علماؤنا تتعلق بتركة الميت حقوق اربعة :مرتبة الاول يبدأ بتكفينه وتجهيزه من غير تبذير...ثم تقضى ديونه من جميع ما بقي من ماله،ثم تنفذ وصاياه من ثلث ما بقي بعد الدين،ثم يقسم الباقي بين ورثته.                (الفصل:الفرائض نصف العلم:ص:3)
وفيه ايضا:أما العصبة بنفسه:فكل ذكر لا تدخل في نسبته إلى الميت أنثى. وهم أربعة أصناف:جزء الميت،وأصله،وجزء أبيه وجده.الأقرب فالأقرب.(باب العصبات:54)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب