سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-346 Fatwa no: 1447-346

نقصان کے ازالے کےلئے ڈرائیور حضرات کا باہمی فنڈ بنانے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ہم چندڈرائیوروں نے ایک کمیٹی بنائی ہے،کمیٹی کا مطلب باہمی تعاون ہے،اس کا طریقہ کار یہ ہے،کہ کمیٹی کا ہرممبر ماہانہ 1000روپے جمع کرتا ہے،پھر اگر کسی گاڑی کو کوئی حادثہ پیش آتا ہے،مثلا گاڑی الٹ جاتی ہے،یا ایکسیڈنٹ ہوجاتا ہے،تو اس کل نقصان کا پانچ فیصد گاڑی کا مالک خود برداشت کرتا ہے،جبکہ باقی خرچہ کمیٹی برداشت کرتی ہے،اس میں کبھی یہ بھی ہوتا ہے،کہ کسی ایک گاڑی کو کئی بار حادثہ پیش آتا ہے،جبکہ کسی گاڑی کو کوئی حادثہ پیش نہیں آتا،حالانکہ رقم تو اس نے بھی جمع کی ہے،اس ترتیب پر کمیٹی کے سارے ارکان خوش ہیں ،اب سوال یہ پوچھنا ہے کہ کیا شریعت میں ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں ۔وضاحت فرمائیں۔
جواب :

باہمی تعاون کے نام سے جتنی بھی   کمیٹی یا یونین بنتی  ہیں،ان کےلئے  سب سے بہتر طریقہ تویہ ہے کہ کوئی خاص رقم مقرر کئے بغیرساتھیوں کو ترغیب دے کر فنڈ جمع کیا جائے،اور پھر باہمی طے شدہ اصولوں کے مطابق صرف کیا جائے، کیونکہ اس صورت میں  ہرآدمی اپنے طیبِ نفس سے اپنی وسعت کے بقدر دے دیتا ہے تاہم اگراس کےبرعکس کسی یونین یا کمیٹی   والے ایک خاص مقدار کا تعین کرتے ہیں ،اور اس پر سارے ارکان بغیر کسی دباؤ کے راضی اورخوش بھی ہوں،اوروہ مقررشدہ رقم جمع کرنےکا اپنے اوپر التزام  بھی کرتے ہو،تو اس صورت  میں اس کی بھی گنجائش ہے۔
بصورت مسئولہ بصحتِ سوال  اگرچہ مذکورہ کمیٹی کےلئے مناسب طریقہ وہی ہے،جو اوپر بیان کیا گیا ہے،یعنی مقرر کئےبغیر ترغیب دےکرچندہ کیا جائےلیکن اگرعملی طور پر اس میں کوئی مشکل پیش آرہی ہو،تو پھر  سوال میں مذکورہ طریقہ بھی درست ہے،خاص طور پرجب اس پر سارے ساتھی خوش اور مطمئن بھی ہیں۔
قال الله تعالى: وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَى وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ[المائدة: 2]
في سنن الدارقطني:عن أنس بن مالك أن رسول الله صلى الله عليه و سلم قال : لا يحل مال أمرئ مسلم إلا بطيب نفسه.(كتاب البيوع: 3/ 26:دارالمعرفة)
في الفقه الإسلامي وأدلته: أما التأمين التعاوني: فهو أن يتفق عدة أشخاص على أن يدفع كل منهم اشتراكاً معيناً، لتعويض الأضرار التي قد تصيب أحدهم إذا تحقق خطر معين. وهو قليل التطبيق في الحياة العملية... حكم التأمين التعاوني: لاشك في جواز التأمين التعاوني في الإسلام، لأنه يدخل في عقود التبرعات، ومن قبيل التعاون على البر؛ لأن كل مشترك يدفع اشتراكه بطيب نفس لتخفيف آثار المخاطر وترميم الأضرار التي تصيب أحد المشتركين، أيا كان نوع الضرر، سواء في التأمين على الحياة، أو الحوادث الجسمانية، أو على الأشياء (بسبب الحريق أو السرقة أو موت الحيوان) أو ضد المسؤولية من حوادث السير، أو حوادث العملويجوز أيضاً للمؤمن له التأمين الإلزامي كالتأمين المفروض على السيارات ضد الغير، وتجوز التأمينات الاجتماعية ضد العجز والشيخوخة والمرض والتقاعد .(التأمين التعاوني: 5/ 103:دارالفكر)

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب