نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ مفتی عالم الغیب نہیں ہوتا،اس کے سامنے جس طرح کا سوال بنا کر پیش کیا جاتا ہے،وہ اسی کے مطابق جواب دینے کا پابند ہوتا ہے،چنانچہ اگر کوئی سوال میں کمی کوتاہی کرکے اپنی مرضی کا جواب وصول کرتا ہے،تو مفتی کے فتوے سے حلال چیز حرام اورحرام چیز حلال نہیں ہوگی،اس لئے اس کی ساری ذمہ داری سوال کرنے والے ہی پرہوگی۔
بصورتِ مسئولہ اگر شوہرکو یاد ہو،یا غالب ظن یہ ہو کہ اس نے پہلے دو طلاقیں دی تھیں،تو اب تیسری طلاق دینے کی وجہ سے اس کی بیوی پر تینوں طلاقیں واقع ہوگئی ہیں،اور بیوی اس پرحرمتِ مغلظہ کے ساتھ حرام ہوگئی ہے،اور بیوی بغیرحلالہ شرعیہ کے شوہرکےلئے حلال نہ ہوگی۔البتہ اگر شوہر کوواقعتا یادبھی نہیں ، اورغالب گمان بھی نہیں کہ اس نے ایک طلاق دی تھی،یا دو ،بلکہ شک ہے،تو اس صورت میں ایک طلاق کا حکم لگایا جائے گا،کیونکہ ایک طلاق تو یقینی ہے۔پھر اس دوسری صورت میں بیوی پر دو طلاقیں واقع ہوچکی ہیں،اور شوہرکو رجوع کا حق حاصل ہے،تاہم آئندہ کےلئے شوہر کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار ہوگا۔
في فقه البيوع:الثاني:أن الفتوى مبنية على السوال الذي قدمه السائل إلى المفتي،فيبين المفتي الحكم الشرعي على فرض أن السؤال مطابق للواقع،وليس من وظيفته أن يحقق صحته في نفس الأمر بطلب البينة وغيرها،ولذلك يقول المفتي:(الحكم في الصورة المسؤل عنها كذا) ولا يلزم منه أن تكون الصورة المسؤل عنها موافقة للواقع في نفس الأمر.(الفرق بين القضاء والإفتاء:14:ط:معارف القرآن كراتشي)
في الفقه الإسلامي وأدلته :إن وقع في قدر الطلاق أو عدده، يحكم بالأقل عند الجمهور غير المالكية؛ لأنه متيقن به، وفي الزيادة شك(الورع التزام الطلاق: 9/ 432:دارالفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔