نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کے شرعامعذور اس شخص کوکہاجاتا ہے جس کو نماز کے پورےوقت میں اتنا وقت بھی نہ ملے ،جس میں وہ اس عذر کے بغیر فرض نماز پڑھ سکے۔چونکہ شخص مذکور کی بھی یہی حالت ہے ۔اس لیے صورت مسئولہ میں شخص مذکورمعذور کے حکم میں ہے۔اس کے لیے ہر فرض نماز کے پورے وقت کے لیے ایک مرتبہ وضو کرنا کافی ہے۔اور پھر اس نماز کےآخری وقت تک یہی وضو باقی رہے گا، نماز کے وقت کے دوران اگرچہ پیشاب وغیرہ نکلتا رہے،تو اس سے وضو نہیں ٹوٹے گا،بشرطیکہ اس کے علاوہ کوئی اور ناقض وضو پیش نہ آئے۔
وفى مراقى الفلاح شرنور الايضاح:
"و" السادس "السلامة من الأعذار" فإن المعذور صلاته ضرورية فلا يصح اقتداء غيره به "كالرعاف" الدائم وانفلات الريح ولا يصح اقتداء من به انفلات ريح ممن به سلس بول لأنه ذو عذرين۔
[مدخل،ج1،ص110،دارلكتب العلمية]
كما فى الهندية:
المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل هكذا في البحر الرائق.
[الفصل الاول فى تطهير الانجاس،ج1،ص41]
كنزالدقائق:
وتتوضّأ المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق بطنٍ أو انفلات ريحٍ أو رعافٌ دائمٍ أو جرحٌ لا يرقأ لوقت كلّ فرضٍ، ويصلّون به فرضًا ونفلًا۔
[باب الحيض،ج1،ص150]
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔