نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورت مسئولہ میں مذکورہ عورت نماز شروع کرنے سے پہلے اس تھیلی کو خالی کرلیا کرے اور نماز کے دوران جو پیشاب اس میں آتاہے وہ معاف ہے اس لئے کہ وہ معذور ہے اور پیشاب روکنے پر قادر نہیں ہے، البتہ دوسری فرض نماز کے لئے پھر الگ سے وضو بنانا ضروری ہے۔
في الدرالمختار:
وَصَاحِبُ عُذْرٍ مَنْ بِهِ سَلَسٌ بَوْلٍ لَا يُمْكِنُهُ إمْسَاكُهُ أَوْ اسْتِطْلَاقُ بَطْنٍ أَوْ انْفِلَاتُ رِيحٍ أَوْ اسْتِحَاضَةٌ إنْ اسْتَوْعَبَ عُذْرُهُ تَمَامَ وَقْتِ صَلَاةٍ مَفْرُوضَةوَحُكْمُهُ الْوُضُوءلِكُلِّ فَرْضٍ ثُمَّ يُصَلِّي) بِهِ فِيهِ فَرْضًا وَنَفْلًا.
(كتاب الطهارة،باب الحيض،ج:1،ص:305،ط:ايچ ايم سعيد)
وفي الهندية:
المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل.
(كتاب الطهارة،احكام المعذور،ج:1،ص:74،ط:رشيدية)
وفي فتح القدير:
وَالْمُسْتَحَاضَةُ هِيَ الَّتِي لَا يَمْضِي عَلَيْهَا وَقْتُ صَلَاةٍ إلَّا وَالْحَدَثُ الَّذِي اُبْتُلِيَتْ بِهِ يُوجَدُ فِيهِ،وَكَذَا كُلُّ مَنْ هُوَ مَعْنَاهَاوَهُوَ مَنْ ذَكَرْنَاهُ وَمَنْ بِهِ اسْتِطْلَاقُ بَطْنٍ وَانْفِلَاتُ رِيحٍ.
(كتاب الطهارات،ج:1،ص:186،ط:رشيدية)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔