سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-351 Fatwa no: 1447-351

جوتوں کے ناپاک ہونے کا وہم ہو تو ان کوپہن کر نماز جنازہ پڑھنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ: اگر جوتے ناپاک ہونے کا صرف وہم ہو یقین نہ ہو تو کیا ایسی صورت میں ان جوتوں کو پہن کر نماز جناز ہ پڑھی جاسکتی ہے؟
جواب :

واضح رہے کہ اگر کسی چیز کےناپاک ہونے کا  وہم ہو یقین نہ ہو تو وہم کی بنیاد پر اس چیز کو ناپاک نہیں کہا جائےگا  لہذا  بصورت مسئولہ شخص مذکور کا ان جوتوں کو پہن کر نماز ِ جنازہ پڑھنا درست ہے۔  
كما في شرح المجلة:
كما ان الثابت بيقين لا يزول بالشك ،فالمتيقن بالطهارة مثلا إذا شك بالحدث فهو متطهر.
[المادة 4 ،اليقين لا يزول بالشك، ج1،ص 16 ،مكتبه انوار القران]
وفي الدر المختار:
(قَوْلُهُ: نَاقِضٌ إلَخْ) قَالَ فِي الْمُنْيَةِ: وَعَنْ مُحَمَّدٍ إذَا كَانَ فِي عَيْنَيْهِ رَمَدٌ وَتَسِيلُ الدُّمُوعُ مِنْهَا آمُرُهُ بِالْوُضُوءِ لِوَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ لِأَنِّي أَخَافُ أَنْ يَكُونَ مَا يَسِيلُ مِنْهَا صَدِيدًا فَيَكُونُ صَاحِبَ الْعُذْرِ. اهـ.
قَالَ فِي الْفَتْحِ: وَهَذَا التَّعْلِيلُ يَقْتَضِي أَنَّهُ أَمْرُ اسْتِحْبَابٍ، فَإِنَّ الشَّكَّ وَالِاحْتِمَالَ لَا يُوجِبُ الْحُكْمَ بِالنَّقْضِ، إذْ الْيَقِينُ لَا يَزُولُ بِالشَّكِّ نَعَمْ إذَا عَلِمَ بِإِخْبَارِ الْأَطِبَّاءِ أَوْ بِعَلَامَاتٍ تَغْلِبُ ظَنَّ الْمُبْتَلَى، يَجِبُ.
[باب سنن الوضوء ،ج1،ص148،مكتبه ايچ ايم سعيد]
وفي المبسوط للسرخي:
قَالَ (وَمَنْ اسْتَيْقَنَ بِالتَّيَمُّمِ فَهُوَ عَلَى تَيَمُّمِهِ حَتَّى يَسْتَيْقِنَ بِالْحَدَثِ أَوْ بِوُجُودِ الْمَاءِ) لِلْأَصْلِ الَّذِي قَدَّمْنَاهُ فِي الْوُضُوءِ أَنَّ الْيَقِينَ لَا يَزُولُ بِالشَّكِّ.
[باب المتيمم،ج1 ،ص121،مكتبه دار الفكر]
وفي البحرالرائق
وَلَوْ كَانَ فِي عَيْنَيْهِ رَمَدٌ أَوْ عَمَشٌ يَسِيلُ مِنْهُمَا الدُّمُوعُ قَالُوا يُؤْمَرُ بِالْوُضُوءِ لِوَقْتِ كُلِّ صَلَاةٍ لِاحْتِمَالِ أَنْ يَكُونَ صَدِيدًا أَوْ قَيْحًا اهـ
وَهَذَا التَّعْلِيلُ يَقْتَضِي أَنَّهُ أَمْرُ اسْتِحْبَابٍ، فَإِنَّ الشَّكَّ وَالِاحْتِمَالَ فِي كَوْنِهِ نَاقِضًا لَا يُوجِبُ الْحُكْمَ بِالنَّقْضِ إذْ الْيَقِينُ لَا يَزُولُ بِالشَّكِّ نَعَمْ إذَا عُلِمَ مِنْ طَرِيقِ غَلَبَةِ الظَّنِّ بِإِخْبَارِ الْأَطِبَّاءِ أَوْ بِعَلَامَاتٍ تَغْلِبُ عَلَى ظَنِّ الْمُبْتَلَى يَجِبُ.
[باب نواقض الوضوء،ج1،ص32،مكتبه دارالكتب الاسلامي]

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب