سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-31 Fatwa no: 1447-31

اجارہ میں اجرت کے مجہول ہونے کا شرعی حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : 
 بندہ کی بہن نے بندہ کو اپنے گھر فروخت کرنے کا وکیل بنایا اور یہ کہہ دیا کہ تم میرے اس گھر کو ستائیس لاکھ (27،00،000) روپے میں  بطورعوض کے فروخت کرکے مجھے دےدو، اور اگر تم نے زیادہ میں فروخت کیا تو وہ تمھارے ہونگے ، اس کے بعد وہ گھر اکتیس لاکھ (31،00،000) روپے میں فرخت ہوا تو  ستائیس لاکھ بہن کو دیدیئے اور زیادہ میں نےلیے کچھ وقت گزرنے کے بعد اب بہن مطالبہ کررہی ہے کہ باقی زیادہ بھی مجھے دیدو ، میں تمہیں وہ پیسے نہیں دیتی ، میں معاف نہیں کرتی ، تو اب استفتاء یہ ہے کہ میرے لئے کیا حکم ہے اور کیا میری بہن کا مطالبہ حق ہے یا نہیں ؟ برائے کرم مسئلہ کا جواب عنایت فرمائیں ۔

جواب :

واضح رہے کہ عقد اجارہ میں اجرت کا معلوم ہونا ضروری ہے ، لہذا صورت مسئولہ  میں چونکہ آپ اجیر ہیں اور  بطوراجیر آپ کی مقرر کی گئی اجرت مجہول ہے اس وجہ سے  عقداجارہ فاسد  ہے اور اجارہ فاسدہ میں اجیر( کام کرنے والا) اجرت مثل کا مستحق ہوتا ہے، اس لئے  گھر جتنے میں فروخت ہوا ہے وہ قیمت آپ کی بہن لیں گی اور آپ کواجرت مثل  ملےگی ۔
كما في فتاوى الهندية :
الفساد قد يكون لجهالة قدر العمل بأن لا يعين محل العمل وقد يكون لجهالة قدر المنفعة بأن لا يبين المدة وقد يكون لجهالة البدل وقد يكون بشرط فاسد مخالف لمقتضى العقد فالفاسد يجب فيه أجر المثل ولا يزاد على المسمى إن سمى في العقد مالا معلوما، وإن لم يسم يجب أجر المثل بالغا ما بلغ وفي الباطل لا يجب الأجر والعين غير مضمونة في يد المستأجر سواء كانت صحيحة أو فاسدة أو باطلة هكذا في الغياثية.
(الفصل الأول فيما يفسد العقد،ج7،ص443،ط:مكتبة رشيدية)
وفي حاشية الطحطاوي :
(تَفْسُدُ الْإِجَارَةُ بِالشُّرُوطِ الْمُخَالِفَةِ لِمُقْتَضَى الْعَقْدِ فَكُلُّ مَا أَفْسَدَ الْبَيْعَ) مِمَّا مَرَّ (يُفْسِدُهَا) كَجَهَالَةِ مَأْجُورٍ أَوْ أُجْرَةٍأَوْ مُدَّةٍ أَوْ عَمَلٍ، وَكَشَرْطِ طَعَامِ عَبْدٍ وَعَلَفِ دَابَّةٍ وَمَرَمَّةِ الدَّارِ أَوْ مَغَارِمِهَا وَعُشْرٍ أَوْ خَرَاجٍ أَوْ مُؤْنَةِ رَدٍّ.  
(باب الإجارة الفاسدة،ج10،ص91،ط:المكتبة الوحيدية)
وفى المحيط البرهاني :
ثم في السمسار وجميع ما كان فاسداً من ذلك إذا باع واشترى فله أجر المثل لا يجاوز به المسمى، كما في سائر الإجارات الفاسدة، ويطيب له ذلك؛ لأنه بدل عمله فيطيب له كما تطيب قيمة المبيع للبائع في البيع الفاسد عند عجز المشتري عن رد العين؛ لأنه بدل ملكه، لكن يأثم بمباشرته هذا العقد؛ لأنه معصية.
(الفصل الخامس عشرفي بيان مايجوزمن الإجارات ومالايجوز،ج11،ص325،ط:ادارة القرآن والعلوم الإسلامية)

Mufti

تاریخ جواب: 10 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب