نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںصورت مسئولہ میں فقھاء کرام نے مذکورہ اشیاء کو پاک کرنے کے مختلف طریقے لکھے ہیں،جن میں ایک طریقہ یہ ہے کہ ان کے اوپر پانی بہایا جائے،جب قطرے ٹپکنا بند ہو جائیں، تو پھر دوسری مرتبہ یہی عمل کیا جائے گا،پھر تیسری مرتبہ بھی یہی عمل کیا جائے،یہاں تک کہ قطرے موقوف ہو جائیں،اس عمل سے یہ مذکورہ اشیاءپاک ہو جائینگی۔دوسری صورت یہ ہے کہ ان اشیاء کو کسی جاری نہر کے اندر ڈال دیا جاےیا پائپ وغیرہ کے ذریعے پانی بہاتا جائے،یہاں تک کہ جب غالب گمان ہو جائےکہ یہ چیزیں پاک ہوگئی ہیں تو شرعاانہیں پاک سمجھا جائے گا۔
وفى البحرالرائق:
(وبتثليث الجفاف فيما لا ينعصر) أي ما لا ينعصر فطهارته غسله ثلاثا وتجفيفه في كل مرة لان للتجفيف أثرا في استخراج النجاسة وهو أن يتركه حتى ينقطع التقاطر، ولا يشترط فيه اليبس. أطلقه فشمل ما تداخله أجزاء النجاسة أولا. أما الثاني فيغسل ويجفف في كل مرة كالجلد والخف والمكعب والجرموق والخزف والآجر والخشب الجديد، وأما القديم فيطهر بالغسل ثلاثا دفعة واحدة وإن لم يجف. كذا ذكروه. وفي فتح القدير: وينبغي تقييد۔
[باب الانجاس ،ج1ص413]
وفى الدرالمختار:
(وَقُدِّرَ) ذَلِكَ لِمُوَسْوِسٍ (بِغَسْلٍ وَعَصْرٍ ثَلَاثًا) أَوْ سَبْعًا (فِيمَا يَنْعَصِرُ) مُبَالِغًا بِحَيْثُ لَا يَقْطُرُ، وَلَوْ كَانَ لَوْ عَصَرَهُ۔
[باب الانجاس،ج1ص331]
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔