سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-352 Fatwa no: 1447-352

روئی دار کپڑے کو پاک کرنے کا طریقہ

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ: اگر کسی گدےیا رضائی یا کمبل وغیرہ میں نجاست غلیظہ پڑ جائےتو آیا،ان کی روئی نکال کر اس کو پاک کریں گےیا اسی حال میں ان کو پاک کرنے کا کوئی طریقہ ہے؟رہنمائی فرمادیں۔
جواب :

صورت مسئولہ میں فقھاء کرام نے مذکورہ اشیاء کو پاک کرنے کے مختلف طریقے لکھے ہیں،جن میں ایک طریقہ یہ ہے کہ ان کے اوپر پانی بہایا جائے،جب قطرے ٹپکنا بند ہو جائیں، تو پھر دوسری مرتبہ یہی عمل کیا جائے گا،پھر تیسری مرتبہ بھی یہی عمل کیا جائے،یہاں تک  کہ قطرے موقوف ہو جائیں،اس عمل سے یہ مذکورہ اشیاءپاک ہو جائینگی۔دوسری صورت یہ ہے کہ ان اشیاء کو کسی جاری نہر کے اندر ڈال دیا جاےیا پائپ وغیرہ کے ذریعے پانی بہاتا جائے،یہاں تک کہ جب غالب گمان ہو جائےکہ یہ چیزیں پاک ہوگئی ہیں تو شرعاانہیں پاک سمجھا جائے گا۔
وفى البحرالرائق:
(وبتثليث الجفاف فيما لا ينعصر) أي ما لا ينعصر فطهارته غسله ثلاثا وتجفيفه في كل مرة لان للتجفيف أثرا في استخراج النجاسة وهو أن يتركه حتى ينقطع التقاطر، ولا يشترط فيه اليبس. أطلقه فشمل ما تداخله أجزاء النجاسة أولا. أما الثاني فيغسل ويجفف في كل مرة كالجلد والخف والمكعب والجرموق والخزف والآجر والخشب الجديد، وأما القديم فيطهر بالغسل ثلاثا دفعة واحدة وإن لم يجف. كذا ذكروه. وفي فتح القدير: وينبغي تقييد۔
[باب الانجاس ،ج1ص413]
وفى الدرالمختار:
(وَقُدِّرَ) ذَلِكَ لِمُوَسْوِسٍ (بِغَسْلٍ وَعَصْرٍ ثَلَاثًا) أَوْ سَبْعًا (فِيمَا يَنْعَصِرُ) مُبَالِغًا بِحَيْثُ لَا يَقْطُرُ، وَلَوْ كَانَ لَوْ عَصَرَهُ۔
[باب الانجاس،ج1ص331]

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب