نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں
سوال پوچھیںواضح رہے کہ اگر نجاست کسی ایسی چیز کو لگ جائے ،جس میں نجاست سرایت نہیں کرتی ،اور کسی کپڑے وغیرہ کے پونچھنے سے اس سے نجاست کا اثر ختم ہوتا ہو ، تو اس کو پاک کرنے کے لئے پونچھنا ہی کافی ہے،خواہ وہ نجاست خشک ہو یا تر ہو ۔بصورت مسؤلہ چونکہ موبائیل کی سکرین بھی ایسی ہوتی ہے، جس میں پیشاب کی چھینٹیں سرایت نہیں کرتی ،اس لئے اگر اس کو کسی کپڑے سے پونچھا جائے ،تو پاک ہوجائے گا خواہ وہ چھنٹیں خشک ہوگئے ہو ں یا تر ہوں۔
كمافي القدوري:
والنجاسة إذا أصابت المرآة أو السيف إكتفى بمسحهما.
(كتاب الطهارة،ص:72،ط:البشري)
وفي الهداية:
والنجاسة إذا أصابت المرآة أو السيف إكتفى بمسحهما لأنه لا تتداخله النجاسة وما على ظاهره يزول بالمسح.
(فصل في النفاس،ج:1،ص:35،ط: المكتبة الإسلامية)
وفي الميحط البرهاني:
وعن أبي يوسف رحمه الله أن السيف إذا أصابه دم أو عذرة فمسحت بخرقة أو تراب إنه يطهر.
(فصل في النجاسات،ج:1،ص:269،ط: دار إحياء التراث العربي
وفي الدر المختار:
ويطهر ( صقيل ) لا مسام له ( كمرآة ) وظفر وعظم وزجاج وآنية مدهونة أو خراطي وصفائح فضة غير منقوشة بمسح يزول به أثرها مطلقا.
(باب الحيض،ج:1،ص:310،ط: دار الفكر)
Mufti
تاریخ جواب: 17 Mar 2026
تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026
واللہ اعلم بالصواب
برائے کرم سوال بھیجتے وقت مندرجہ ذیل امور کا خیال رکھیے:
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
درخواست ناکام ہوگئی
!.Please complete the Captcha
رابطہ کرنے کا شکریہ۔ ہماری ٹیم جلد آپ سے رابطہ کرے گی۔ ان شاءاللہ!
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔
جامعۃ میں داخلہ لینے والے خواہش مند طلباء متوجہ ہوں۔