سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-356 Fatwa no: 1447-356

ناپاک تیل اور چربی سے بنے ہوئے صابن کے استعمال کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ: ہماری دکانوں میں جو صابن فروخت کیا جاتا ہے،تو یہ ناپاک تیل اور چربی سے بنا ہو اہوتا ہے۔تو ہم اس کوہاتھ یا کپڑے دھونے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ناپاک تیل یا چربی سے بنے ہوئے صابن کو استعمال کرنا جائز ہے یا نہیں؟درست رہنمائی فرمادیں۔
جواب :

صورت مسئولہ میں ناپاک تیل یا چربی سے بنے  ہوئےصابن کو استعمال کرنا جائز ہے،تیل اور چربی اگرچہ ناپاک ہیں ،لیکن صابن بنانےسےان کی ماہیت تبدیل ہو جاتی ہے،اس وجہ سے فقھاء کرام نے ایسےصابون کے استعمال کوجائز قرار دیا ہے۔تاہم اگر ناپاک تیل یا چربی خنزیر کی ہو تو اسکا استعمال جائز نہیں ہوگا۔کیونکہ کہ وہ نجس العین ہے۔
كما فى الدرالمختار:
(وَ) يَطْهُرُ (زَيْتٌ) تَنَجَّسَ (بِجَعْلِهِ صَابُونًا) بِهِ يُفْتَى لِلْبَلْوَى. كَتَنُّورٍ رُشَّ بِمَاءٍ نَجِسٍ۔
[باب الانجاس،ج1ص315]
كما فى حاشية الطحطاوي:
وعليه الفتوى والاستحالة تطهر الأعيان النجسة كالميتة إذا صارت ملحا والعذرة ترابا أو رمادا كما سنذكره والبلة النجسة في التنور بالإحراق ورأس الشاة إذا زال الدم عنه والخمر إذا خللت كما لو تخللت والزيت النجس صابونا.
[مدخل ج1ص67]
كمافى الهندية:
جعل الدهن النجس في الصابون يفتى بطهارته؛ لأنه تغير. كذا في الزاهدي.
[الفصل الثاني فى الاعيان النجسه،ج1ص45]
كما فى الدرالمختار:
ثُمَّ هَذِهِ الْمَسْأَلَةُ قَدْ فَرَّعُوهَا عَلَى قَوْلِ مُحَمَّدٍ بِالطَّهَارَةِ بِانْقِلَابِ الْعَيْنِ الَّذِي عَلَيْهِ الْفَتْوَى وَاخْتَارَهُ أَكْثَرُ الْمَشَايِخِ خِلَافًا لِأَبِي يُوسُفَ كَمَا فِي شَرْحِ الْمُنْيَةِ وَالْفَتْحِ وَغَيْرِهِمَا. وَعِبَارَةُ الْمُجْتَبَى: جَعْلُ الدُّهْنِ النَّجِسِ فِي صَابُونٍ يُفْتَى بِطَهَارَتِهِ؛ لِأَنَّهُ تَغَيَّرَ وَالتَّغَيُّرُ يُطَهِّرُ عِنْدَ مُحَمَّدٍ وَيُفْتَى بِهِ لِلْبَلْوَى.
[باب الانجاس ،ج1ص316]

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب