سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-357 Fatwa no: 1447-357

ہاتھ پر ایلفی لگنے کی صورت میں وضوکا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلے کے بارے میں کہ: اگر ہاتھ کے کسی حصے پرایلفی لگ جائےاور اسکا اتارنا مشکل ہو تو اس پر وضو کا کیا حکم ہے؟وضاحت فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ وضو کے میں اعضاء ِوضو تک پانی پہنچانا ضروری ہوتا ہے،اس کے بغیر وضودرست نہیں ہوگا،صورت مسئولہ میں جسم پر چونکہ ایلفی کہ تہہ جم جاتی ہے اور اس کے نیچے پانی نہیں پہنچتا،لہذا اصل حکم تو یہی ہے کہ اس کو زائل کرکے وضوکیا جائے،لیکن اگر اس کا زائل کرنا مشکل ہو اور آسانی سے نہ اترتا ہوتو پھر حسب گنجائش اپنی کوشش سے جتنا زائل ہوجائے اتنا کافی ہے ،اسکے بعد جتنا باقی رہ جاتا ہے تو اس کو زائل کئے بغیر بھی وضو درست ہوجائے گا،بشرطیکہ بازار میں ایسی چیز موجود نہ ہو جس سے ایلفی کو آسانی سے زائل کیا جاسکتا ہو۔
في الدرالمختار:
(وَلَا يَمْنَعُ) الطَّهَارَةَ (وَنِيمٌ) أَيْ خُرْءُ ذُبَابٍ وَبُرْغُوثٍ لَمْ يَصِلْ الْمَاءُ تَحْتَهُ (وَحِنَّاءٌ) وَلَوْ جُرْمَهُ بِهِ يُفْتَى (وَدَرَنٌ وَوَسَخٌ) عَطْفُ تَفْسِيرٍ وَكَذَا دُهْنٌ وَدُسُومَةٌ (وَتُرَابٌ) وَطِينٌ وَلَوْ (فِي ظُفْرٍ مُطْلَقًا) أَيْ قَرَوِيًّا أَوْ مَدَنِيًّا فِي الْأَصَحِّ بِخِلَافِ نَحْوِ عَجِينٍ.(وَ) لَا يَمْنَعُ (مَا عَلَى ظُفْرِ صَبَّاغٍ وَ) لَا (طَعَامٌ بَيْنَ أَسْنَانِهِ) أَوْ فِي سِنِّهِ الْمُجَوَّفِ بِهِ يُفْتَى.
وفي ردالمحتارتحته:
صَرَّحَ بِهِ فِي الْمُنْيَةِ عَنْ الذَّخِيرَةِ فِي مَسْأَلَةِ الْحِنَّاءِ وَالطِّينِ وَالدَّرَنِ مُعَلِّلًا بِالضَّرُورَةِ. قَالَ فِي شَرْحِهَا وَلِأَنَّ الْمَاءَ يَنْفُذُهُ لِتَخَلُّلِهِ وَعَدَمِ لُزُوجَتِهِ وَصَلَابَتِهِ، وَالْمُعْتَبَرُ فِي جَمِيعِ ذَلِكَ نُفُوذُ الْمَاءِ وَوُصُولُهُ إلَى الْبَدَنِ اهـ لَكِنْ يَرُدُّ عَلَيْهِ أَنَّ الْوَاجِبَ الْغُسْلُ وَهُوَ إسَالَةُ الْمَاءِ مَعَ التَّقَاطُرِ كَمَا مَرَّ فِي أَرْكَانِ الْوُضُوءِ. وَالظَّاهِرُ أَنَّ هَذِهِ الْأَشْيَاءَ تَمْنَعُ الْإِسَالَةَ فَالْأَظْهَرُ التَّعْلِيلُ بِالضَّرُورَةِ.
(كتاب الطهارة،ج:1،ص:154،ط:دارالفكر)
وفيه أيضا:
فَإِذَا جَمَدَ الدَّمُ وَالْتَأَمَ الْجُرْحُ بَقِيَ مَحَلُّهُ أَخْضَرَ، فَإِذَا غُسِلَ طَهُرَ؛ لِأَنَّهُ أَثَرٌ يَشُقُّ زَوَالُهُ؛ لِأَنَّهُ لَا يَزُولُ إلَّا بِسَلْخِ الْجِلْدِ أَوْ جَرْحِهِ، فَإِذَا كَانَ لَا يُكَلَّفُ بِإِزَالَةِ الْأَثَرِ الَّذِي يَزُولُ بِمَاءٍ حَارٍّ أَوْ صَابُونٍ فَعَدَمُ التَّكْلِيفِ هُنَا أَوْلَى، وَقَدْ صَرَّحَ بِهِ فِي الْقُنْيَةِ فَقَالَ: وَلَوْ اتَّخَذَ فِي يَدِهِ وَشْمًا لَا يَلْزَمُهُ السَّلْخ.
(باب الانجاس،ج:1،ص:330،ط:دارالفكر)
وفي البناية:
إذا كان واسع الأظفار وفيها طين أو عجين أو المرأة تصنع التخي جاز، وإنما جاز في القروي والمدني إذ لا يستطاع الامتناع منه إلا بحرج، قال الدبوسي: وهذا صحيح وعليه الفتوى.
(كتاب الطهارة،ج:1،ص:151،ط:دارالكتب العلمية)

 

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب