سوال پوچھیں

نیا سوال پوچھنے کےلئے یہاں کلک کریں،سوال بھیجنے کے بعد جواب کےلئے کم ازکم ایک ہفتے تک انتظار فرمائیں

سوال پوچھیں

زمرہ جات سے تلاش کریں

فہرستِ ابواب

فتویٰ نمبر : 1447-358 Fatwa no: 1447-358

وضو کے بعد قطروں کے آنے کا حکم

براہ راست فتویٰ
سوال :
کیا فر ماتے ہیں مفتیا ن کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ : ایک شخص کو چھوٹا پیشاب کرنے کے بعد قطرے آتے ہیں،اور شلوار کو لگتے ہیں ،تو اگر ہاتھ سے شلوار پر پانی چھڑک دیا جائے،تو اس سے نماز ہو جاتی ہے یانہیں ؟رہنمائی فرمائیں۔
جواب :

واضح رہے کہ نماز کے لئے کپڑوں کو پاک رکھنا واجب ہے،صورت مسؤلہ میں اگر شخص مذکور کو کسی بیماری کی وجہ سےمستقل  قطرے آتے رہتے ہیں،جس کی وجہ سے اس كو اس قدر مہلت نہیں  ملتی كہ وضو كر كے بلا اس عذركے فرض نماز پوري پڑھ سكے ،تو وہ معذور ہے ،پھر اگر عذر کی حالت یہ ہے کہ وہ  پاک کپڑوں کے ساتھ پوری نماز نہیں پڑھ سکتا ہے بلکہ اگر نجس ہو جانے کے بعد دھو بھی لےلیکن نماز سے فارغ ہونے سے پہلے پہلے پھر نجس ہونگے تو اس صورت میں دھونے کی ضرورت نہیں، وضو کر ے اور پھر اگلی نماز کے وقت داخل ہو نے تک اسی وضو سے فرائض ،نوافل وغیرہ جو بھی نمازیں پڑھنا چاہے پڑھ سکتا ہے،اور پھر وقت داخل ہونے پر اپنے کپڑوں کو پاک کر کے اگلی نماز کے لئے وضو کرے ،ليکن اگر شخص مذکور معذور نہیں ہے،بلکہ  تھوڑی دیر کے لئے قطرے آتے ہیں پھر بند ہوجاتے ہیں ،تواس صورت میں جب بھی قطرے کا باہر آنا یقینی ہو تو وضو کرنا ضروری ہے،اور جس جگہ قطرہ لگ جائے اس کا دھونا بھی ضروری ہے ،لہذا جب قطروں کا آنا یقینی ہو تو صرف چھینٹے مارنا کافی نہ ہوگا،اور اگر قطروں کا آنا کوئی بیماری نہیں بلکہ وسوسہ ہے ،تو وہ صحیح طرح استنجاء کرکے وضوکرے ،اور پھر اپنی شلوار پر پانی چھڑکے اور نماز پڑھے ۔
         كما في الدر المختار:
(وصاحب عذر من به سلس) بول لا يمكنه إمساكه.... (إن استوعب عذره تمام وقت صلاة مفروضة)بأن لا يجد في جميع وقتها زمنا يتوضأ ويصلي فيه خاليا عن الحدث (ولو حكما) لأن الانقطاع اليسير ملحق بالعدم (وهذا شرط) العذر (في حق الابتداء، وفي) حق (البقاء كفى وجوده في جزء من الوقت) ولو مرة.... (وإن سال على ثوبه) فوق الدرهم (جاز له أن لا يغسله إن كان لو غسله تنجس قبل الفراغ منها) أي: الصلاة (وإلا) يتنجس قبل فراغه (فلا) يجوز ترك غسله، هو المختار للفتوى.
(مطلب في احكام المعذور،ج:1،ص:305،ط: دار الفكر)
وفي الهداية:
ومن به سلس البول والرعاف الدائم والجرح الذي لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة فيصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل......... تطهير النجاسة واجب من بدن المصلي وثوبه والمكان الذي يصلي عليه " لقوله تعالى: {وَثِيَابَكَ فَطَهِّرْ} [المدثر:4].
(في تطهير الانجاس،ج:1،ص:32،ط: المكتبة الإسلامية)
وفي النتف في الفتاوى:
وَأما السّنة فِي الْوضُوء فَهِيَ عشرَة اشياء - احدها الِاسْتِنْجَاء........ - وَالْخَامِس النَّضْح فِي السَّرَاوِيل اَوْ الفخذين بعد الِاسْتِنْجَاء لمن بِهِ ابردة اَوْ وَسْوَسَة.
(فصل،ج:1،ص:22،ط: دار الفرقان)
وفي الفتاوى الهندية:
وفي الأصل من الأدب أن لا يسرف في الماء ولا يقتر........وأن يقول عند غسل كل عضو: أشهد أن لا إله إلا الله وحده لا شريك له وأشهد أن محمدا عبده ورسوله وأن لا يتكلم فيه بكلام الناس....... وأن يقوم بأمر الوضوء بنفسه وأن تقول: بعد الفراغ من الوضوء سبحانك اللهم........ ويتوضأ بآنيةالخزف ويتوقى التقاطر على الثياب.
(فصل في نواقض الوضوء،ج:1،ص:9،ط: دار الفكر)
وفي البناية شرح الهداية:
وأما آدابه فقد ذكر في " المحيط " سبعة: ترك الإسراف والتقتير وكلام الناس فيه........ ويشرب فضل وضوئه مستقبل القبلة قائما...... ويصلي ركعتين بعده، ويتوضأ بالنية، ويتوقى التقاطر على الثياب.
(ج:1،ص:250،ط: دار الكتب العلمية)                                                                                                                         

Mufti

تاریخ جواب: 17 Mar 2026

تاریخ اشاعت: 15 Jun 2026

واللہ اعلم بالصواب